محسن شفیق


محسن شفیق

آ گیا تمہارے انگوٹھوں کے جنم کے مقصد کا دن
اٹھو اور اپنی تباہی کے نشان پر مہر ثبت کرو
اٹھو اور وسائل کے نئے قابضین کا انتخاب کرو
اٹھو اور تعلیم سے اپنی نسلوں کو محروم کرنے کا اعلان کرو
اٹھو اور صحت کے فرسودہ نظام کو برقرار رکھنے کی اجازت دو
اٹھو اور روٹی کی قیمت میں اپنی جانیں فروخت کرنے کی سعی کرو
اٹھو اور اپنے تحفظ اور حقوق روندے جانے کے نئے پنجسالے کا آغاز کرو
اٹھو اور انصاف کی امیدوں پر پانی پھیرو
اے انگوٹھا بردار انسانی کھوکھو!
!!!سنو
اپنے انگوٹھے کی قدر و منزلت کا ادراک کرو
ایک انگوٹھا،
اپنی تعمیر کے لیے
اپنے وسائل کا قبضہ چھڑوانے کے لیے
اپنی نسلوں کو علم کے نور سے منور کرنے کے لیے
اپنی صحت کے حق کے لیے
اپنی روٹی کے حق کے لیے
اپنے تحفظ اور حقوق کے پنجسالے کے لیے
اپنے انصاف کی امید کی آبیاری کے لیے

Leave your comment !