تحر یر : محسن شفیق 

انیس سو سینتالیس میں ریاست جموں وکشمیر کے حصوں بخروں کے بعد آزاد ریاست جموں وکشمیر نامی ٹکڑے پر ایک عارضی حکومت قائم کی گئی تھی، ابتدا” 24 اکتوبر 1947 کو سردار ابراہیم خان مرحوم صدر بناۓ گئے تھے۔ چلتے چلتے 1970 آ گیا، 1970 میں حکومت پاکستان نے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کردیا، اس آرڈیننس کے خلاف آزاد ریاست میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی جس میں لبریشن لیگ کے رہنما پیش پیش تھے۔ اس تحریک کے نتیجے میں صدر آزاد کشمیر بریگیڈیئر (تب) عبد الرحمٰن قریشی نے ایکٹ 1970 نافذ کر دیا، اس ایکٹ کے تحت آزاد ریاست جموں وکشمیر میں صدر کا انتخاب بذریعہ براہ راست بالغ راۓ دہی ہونا طے پایا۔ المختصر یہ کہ جون 1974 میں آزاد ریاست جموں وکشمیر میں صدارتی کی بجائے پارلیمانی بنیادوں پر انتخابات ہوئے اور پہلے وزیراعظم نے بطورِ سربراہ حکومت کے حلف اٹھایا، مگر یہ سارا قضیہ ہمارا موضوع بحث نہیں ہے، ہم سرکاری نوکری کی  نورا کشتی انٹرویو کی تیاری نہیں کر رہے ہیں لہٰذا جو ہوا سو ہوا مٹی پاؤ۔

ہمارے آئین میں ووٹ کے حق کے لیے بنیادی شرط 18 سال کی عمر کا ہونا ہے، اس کے بعد ریاست جموں وکشمیر کا پشتنی باشندہ درجہ اول وغیرہ وغیرہ۔ آئین سازی بڑی مہارت اور جوکھم کا کام ہے، یہ تحقیق اور ضرورت کا وہ گورکھ دھندہ ہے جس سے ریاست کے شہریوں کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔ یہی آئین حقوق و فرائض، انصاف، تحفظ اور دوسرے قواعد و ضوابط کا تعین کرتا ہے۔ ارتقاء آئین سازی کی روح ہے، ہم ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے 13 ترمیم تک پہنچے اور اس سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ 

یہ سال یعنی 2021ء بھی آزاد ریاست جموں وکشمیر میں عام انتخابات کا سال ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ ووٹ کا حق 18 سال کے کشمیری انسان کو حاصل ہے اس کے علاوہ تمام مخلوقات اس حق سے محروم ہیں۔ یہ بھی بے بسی کی علامت ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ظالموں اور جابروں کو ووٹ کا حق حاصل ہے مگر ان کے ظلم کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے، جھوٹے مقدموں، بے گناہ اور کمزور جسموں پر پڑتے لتروں، جھوٹی ایف آئی آروں، اغواء ہونے والوں، قتل ہووں کی لاشوں، کم عمری میں یتیم اور لاوارث 18 سال سے کم عمر بچوں، بیواؤں کی تنہائیوں اور مشکلوں، مظلوم کی آہوں اور سسکیوں،تھانے کی عمارتوں اور عدالتوں کی عمارتوں اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی ووٹ کا حق ملنا چاہیے، لیکن انہیں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے اگر ان مظالم کو ووٹ کا حق حاصل ہوتا تو وہ پولنگ سٹیشن پر انصاف کے وزیر کا منہ چڑانے ہر پانچ سال بعد پہنچ جاتے۔ 

بڑے بڑے ٹھیکے ہڑپ کر جانے والے ٹھیکیداروں کو ووٹ کا حق حاصل ہے مگر ان کی پلک جھپکنے میں زمین بوس ہو جانے کے نقطہء نظر سے تعمیر کی جانے والی ناقص تعمیرات، دو نمبر میٹریل، کھڈوں، اکھڑی سڑکوں، حادثوں، ان حادثوں میں لقمہ اجل بنتے انسانوں، اور ان کی ناجائز دولت کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر انہیں ووٹ کا حق حاصل ہوتا تو وہ پولنگ سٹیشن پر تعمیرات کے ذمہ دار وزیر کے لیے عذاب کھڑا کر دیتے۔

صحت کے شعبے میں کوئی کردار نہ ادا کرنے والوں کو ووٹ کا حق حاصل ہے مگر بھوت بنگلہ نما ہسپتالوں کی عمارتوں، صحت کی سہولیات کے فقدان، عملہ کے غیر پیشہ ورانہ اور غیر ذمہ دار رویہ، اپنوں کے سامنے سسک سسک کر جان کی بازی ہارتے مریضوں، مہنگے کلینکوں پر پانی کی طرح بہتے پیسے، مہنگی ادویات، مریض کو بروقت نہ میسر آنے والے ٹیکوں اور ابتدائی طبی امداد، خراب مشینری اور لمبے لمبے نسخوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے ورنہ وہ پولنگ سٹیشن پر صحت کے وزیر کی خرابی صحت کی وجہ بنتے۔

تعلیم سے منسلک تمام زمہ داروں کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور محکمہ تعلیم انتخابی مہم میں پوری مشینری کے ساتھ حاضر آتا ہے، مگر بغیر چھت کے سکولوں کی عمارتوں، کھڑکیوں، دروازوں، ناپید فرنیچر، سردی گرمی کی شدت، اور اس شدت کو برداشت کرتے بچوں، کہیں ایسا بھی ہے کہ ٹیچر ہی دستیاب نہیں، کہیں ایسا بھی ہے کہ ٹیچر پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے، خواتین ٹیچرز کے دور دراز تبادلوں سے پیدا شدہ مسائل کو بھی ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے، اگر ان کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہوتا تو وہ وزیر تعلیم کی بجائے وزیر جہالت کا انتخاب کر بیٹھتے۔

جنگلوں کی بے دریغ کٹائی کرنے اور جنگلات کو چولہوں میں جھونک دینے والے بھی بہادر ہیں۔ ان کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے مگر ان کے آروں، کلہاڑوں، چین سوں، ٹنڈ منڈ درختوں، چولہوں اور سہاگے کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے، اگر انہیں ووٹ کا حق حاصل ہوتا تو وہ پولنگ سٹیشن پر وزیر جنگلات کی گردن کٹائی شروع کر دیتے اور پھر کوئی امیدوار وزیر جنگلات بننے کی کوشش نہ کرتا۔

ناقص زرعی اجناس جیسا کہ سبزیات اور پھل وغیرہ، کیمیائی دودھ کے بیوپاریوں اور دیگر ضروری خوراک بیچنے والوں کو ووٹ کا حق حاصل ہے مگر کیمیائی دودھ، ناقص سبزیات اور پھل، ریٹ لسٹ اور مہنگی ترین خوراک کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے ورنہ الیکشن کے دن متعلقہ وزیر کو فاقوں مرنا پڑتا۔

برقیات کے ذمہ داروں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے مگر لوڈشیڈنگ، بے ہنگم تاروں، حفاظتی پیمائشوں سے محروم عملہ، بجلی کے کرنٹ سے ناکارہ ہوۓ جسم کے مختلف حصوں، ٹوٹی تاروں کی زد میں آ کر متاثر و جاں بحق ہونے والوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے، اگر انہیں ووٹ کا حق حاصل ہوتا تو وہ پولنگ سٹیشن پر برقیات کے وزیر کو 440 کا شاک لگاتے۔

ٹرانسپورٹروں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے مگر ان کی کٹھارہ گاڑیوں، عملہ کی بدتمیزیوں، بدترین سفری سہولیات، آۓ روز رونما ہونے والے حادثات، پچاسی جھٹکوں اور زائد کرایوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے ورنہ چھیاسی واں جھٹکا وزیر ٹرانسپورٹ کو لگتا۔

سوشل میڈیائی لگڑبھگوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے جن سے کوئی بھی عزت محفوظ نہیں ہے مگر ان کے موبائلوں، واٹس ایپوں، فیس بُک اور دوسرے میسنجروں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے ورنہ وہ وزیر  ٹیلی مواصلات اور ٹیکنالوجی کے پنڈورے بکس بھی پولنگ سٹیشن پر کھولتے۔ الغرض، جس شعبہ ہائے زندگی کو اٹھائیں یہ تفاوت ہر کہیں نظر آۓ گی۔

ہمارے ہاں یہ رسم ہے کہ جس کی حکومت وفاق میں ہو گی وہی یہاں بھی حکومت بنا لے گا۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ یہاں کے تقریباً سبھی انتخابی حلقوں میں مخصوص گروہ پاۓ جاتے ہیں جو الیکشن قریب آتے ہی وفاق میں موجود سیاسی پارٹی کے قائدین کے نزدیک ہونے لگتے ہیں، یہی مخصوص گروہ ہر پارٹی میں تعلقات مضبوط بنا لیتے ہیں اور ہر طرف سے مفادات حاصل کر لیتے ہیں۔ غریب اور پسماندہ طبقات مزید پسماندگی میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ یہ مخصوص گروہ ان پسماندہ طبقات کو الیکشن میں اپنے ووٹر بنا کر سیاسی پارٹیوں کے قدموں میں پیش کرتے رہتے ہیں، یہی پسماندہ طبقات جیت اور مراعات کی وجہ بن جاتے ہیں۔ یہ پسماندہ لوگ انتخابات کے دنوں میں پیارے راج دلارے اور مامے چاچے بنا لیے جاتے ہیں اور انتخابات کے بعد ان سے بو آنے لگتی ہے۔ یہ سیاسی گھن چکر اس لیے کامیاب ہے کہ آئین کے مطابق ووٹ ڈالنے کا حق 18 سال سے اوپر انگوٹھا بردار انسانی کھوکھوں کو حاصل ہے اس کے اندر کی بے بسی کو نہیں۔