تحریر محسن شفیق
آج ہم شدید مشکلات میں گھر چکے ہیں، اس گھمبیرتا میں پھنسنے میں کچھ ہمارا اپنا کردار ہے اور کچھ دوسروں کا۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی لوگ وفا اور اقدار کے دھوکے میں دھوکے کھائے جا رہے ہیں۔ جس نے بھی چونا لگانا ہو وہ وفا اور مذہب کو ٹول کے طور پر استعمال کرتا نظر آتا ہے۔ موجودہ وقت میں باعزت اور باوقار زندگی گزارنا ایسا ہی ہے جیسے پل صراط سے گزرنا۔
ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ کمپیوٹر اور جدید سائنس انسان کا مستقبل آسان بنا دیں گے، آپ کو یاد ہو گا ایک انگریزی میگزین میں ایک تصویر چھپی تھی جس میں ایک کمرے میں شوہر ، بیوی اور ان کا ایک بیٹا کمپیوٹر استعمال کرتے نظر آتے ہیں اور خاتون خانہ انہیں ای میل میسج کے ذریعے کچن میں آ کر کھانا کھانے کا کہہ رہی ہے، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے ہاں انٹرنیٹ کا تصور بھی نہیں تھا۔ خوش قسمتی سے ہم نے وہ زمانہ حقیقی طور پر جی بھی لیا ہے۔ وہ وقت بھی تھا جب بڑی عمر کے لوگ جدید ڈیوائسز کو دیکھنے کے لیے ترستے تھے اور محفلوں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو جدید سائنسی آلات خرید کر دینے کی خواہشات کا اظہار کرتے تھے اور آج کا دور ہے کہ وہی لوگ اپنے بچوں کی ء ہیں۔


 محسن شفیق


ماضی کی یہ خواہشات بدترین انداز میں ہمارے گلے پڑ چُکی ہیں۔ ہم نے ان تمام جدید ڈیوائسز کے منفی استعمالات میں ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا ہے اور اب پریشان ہیں کہ اس ریکارڈ کو کدھر چھپا کر رکھیں۔
ہمارے پرکھوں کی خواہش تھی کہ ان کی نسلیں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں، تعلیم، صحت، تحفظ اور دیگر بنیادی ضروریات اور حقوق ان کو دہلیز پر میسر ہوں مگر انہیں خبر نہیں تھی کہ ان کی نسلیں تعلیم کی وجہ سے ذہنی پستی، ہسپتالوں کی وجہ سے بیماری اور قانون کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گی ۔ اعلیٰ تعلیم، صحت کی سہولیات، تحفظ اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات اور حقوق تو میسر ہیں مگر ان کو جن کے پاس ان جو خریدنے کے وسائل بھی ہیں۔ غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے حیات جرم ہے۔ ان کو زندہ رہنا ہی غیر قانونی فعل ہے۔
پڑھا لکھا طبقہ ذہنی بے ہنگم یا فریسٹریشن کا شکار ہے۔ گاڑی میں گاڑی کے عملے سے عزت بچاتے، بازار میں دکاندار سے، اور معاشرے میں لگڑبھگوں سے عزت بچاتے بچاتے رات ہو جاتی ہے۔ اب تو سوشل میڈیا بندر کے ہاتھ میں ماچس بن گیا ہے۔ ہر کوئی پریشان نظر آتا ہے کہ کب کوئی فیس بکیا اٹھتا ہے اور فیس بک کے ٹینک سے اس کے خلاف بھاری پوسٹ جڑ کر اس کے کردار کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ ایک طبقہ جس کی پیدائش کے عمل پر اب تک کوئی سائنسی بحث نہیں ہوئی، کی عفریت سے کوئی گھر محفوظ نہیں رہا۔ واردات کی تصاویر اور ویڈیوز ایسا مجرب نسخہ بن گئے ہیں جس نے خواہش کی دستیابی اور تشفی ہر صورت ممکن بنا دی ہے، نہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اور اس پر طرہ یہ کہ وارداتی سینہ تان کر چلتا ہے کہ اس جیسا مرد تو کبھی کبھار ہی جنم لے سکتا ہے۔ نہ اسے قانونی طور پر کوئج خوف ہے نہ ہی اللّٰہ کے عذاب اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی پرواہ۔ اور یہ وارداتی ایک گروہ کی شکل میں کام کر رہے ہیں۔ لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں۔ بلیک میلر لگڑبھگے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ کوئی وقت ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا وزٹ کریں تو ہر بار انہونی سننے کو ملتی ہے۔ ایک بازار ہے کہ جہاں کوئی رکھوالی نہیں ہے۔حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا تھا کہ ہر دور کا ایک دجال ہے، آج کے دور کا بھی ایک دجال ہے اور آج کا دجال یہی گروہ ہے۔
مہنگائی میزائل کی گھن گرج نے بھی زندگی محال کر دی ہے۔ گاڑیوں کے کراۓ، یوٹیلیٹی بلز، بچوں کی فیسیں، صحت کے اخراجات، شادی بیاہ، موت مرگ وغیرہ نے ماہانہ راشن کے خرچے پر پہرہ کھڑا کر دیا ہے۔ ارباب اختیار یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ مہنگائی نام کی کوئی بلا ہے بھی، اگر کوئی انہیں یہ منوا لے کہ مہنگائی واقعی کوئی چیز ہے تو وہ یہاں تک یقین کر بھی لیتے ہیں ہاں پچھلی حکومتوں میں ایک چڑیل ہوا کرتی تھی ہم نے بھگا کر امریکہ، برطانیہ، انڈیا اور بنگلہ دیش پہنچا دی ہے۔ اب لوگ بہت فضول خرچ ہو گئے ہیں، دو روٹیوں کی بجائے ایک کھا لیا کریں۔
بیماری کی صورت میں میڈیکل ٹرخالوجسٹس سب سے پہلے دھکامائیسین اور مکاسائیکلین سے علاج شروع کیا جاتا ہے، مریض اس مرحلے سے زندہ سلامت نکل گیا تو ٹھیک ورنہ مزید علاج کے لیے بڑے دھکالوجسٹ کی طرف ریفر کر دیا جاتا ہے۔ مریض کو علاج نہ بھی ملا کم از کم ملک الموت سے مستفید ہونا آسان ہو جاتا ہے۔ علاج اب رلاج بن گیا ہے کہ رل رل اور رلا رلا کر لاج رکھ لی جاتی ہے۔
برادری ازم یا عصبیت کے بھاری توپ خانے نے ریاست کی سیاست کے دفاع کو مضبوط بنا رکھا ہے۔ سیاسی میدان برادری برتری کا اکھاڑا بن گئے ہیں جہاں ہر کوئی نئے اور پرانے ماڈل بندوقیں تانے پھر رہے ہیں، یہی برادریانہ نمائندے عوامی نمائندوں کے خول چڑھا کر قانون ساز اسمبلی میں گھس بیٹھتے ہیں جو عوامی استحصال اور اقربا پروری کے حق اور تحفظ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عوام صبر واستقامت کا پیکر بنے اور آخرت پر ایمان لائے رلتے رہتے ہیں۔ یہ برادریانہ منتخب عوامی نمائندے، تمام محکموں میں اپنی مرضی کے لوگوں کو ملازم کرتے ہیں تاکہ ان کی مرضی کے مطابق عنان حکومت چلے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عوامی نمائندے کے لگاۓ ملازمین اس کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہیں اور اس کی سیاست کا توپ خانہ وسیع کرتے رہتے ہیں۔
منشیات فروش آزادی سے اپنے کاروبار چمکا اور بڑھا رہے ہیں۔ منشیات گردی اس وقت تاریخ میں اپنا نام امر کرنے کے قریب ہے، معصوم رگ و جاں میں منشیات کا بارود پوری محنت سے بھرا جا رہا ہے۔ جو منشیات فروش کبھی منہ چھپا کر آنکھ اور سر بچا کر چلتے تھے آج بڑے بڑے کاروباریوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ آج وہ شرفاء کے نمائندے ہیں اور ان کے خلاف بات کرنا موت کو دعوت دینے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اور پھر ان منشیات گردوں کے چیلے چمچے سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر ان کا بہترین دفاع کر رہے ہیں، ادھر کسی نے منشیات پر بات کی ادھر چیلوں نے اس کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دی۔ قانون یہی ہے کہ کوئی قانون نہیں ہے۔ حقیقی طور پر شریف لوگ اپنی آمدہ نسلوں کے لیے پریشان ہیں جن کو وہ منشیات گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اگلے جہاں پرواز کریں گے۔ منشیات کی اس تیز رفتار ترقی کی وجہ سے کرونا وائرس وبا کی شکست اور آمدہ نسلوں کے ستیاناس کا تہہ دل سے یقین رکھنا چاہیے۔
مذہبی عقائد و تعلیمات پر کوئی عمل نہیں کر رہا ہے، چند اللّٰہ پاک کے نیک بندے بھی ہیں جن کو اللّٰہ پاک نے ہدایت عطا فرمائی۔ ان سے ہٹ کر بیسیوں یوں ہی نیکوکار بنے ہوئے عام لوگوں کو اپنے اس بھیس کی سزا دیے جا رہے ہیں۔ کفر کا فتویٰ ہر کوئی زبان کے ساتھ لٹکاۓ پھر رہا ہے۔ آۓ روز مذہبی مقدس ہستیوں کی توہین کی جارہی ہے اور اس کے ساتھ دوسروں کے مذہبی عقائد و نظریات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ لوگوں کے لیے اس فرقہ کی تعلیمات پر آزادی سے عمل پیرا ہونا مشکل ہو رہا ہے جس کو دل سے قبول کیے بیٹھے ہیں۔
یوں لگ رہا ہے کہ سبھی نے عام نہتے پسماندہ طبقات کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے، اور یہ طبقات زندگی کے آخری دور میں داخل کر دیے گئے ہیں۔ کوئی وقت ہوتا ہے کہ ان طبقات سے جینے کا حق صلب کر لیا جاۓ گا۔ چاروں اطراف اور فضا، ہر طرف سے گ کے یہ جنگ چھیڑی گئی ہے، اگر یہ سارے لوگ ہی افلاس کی قبر میں گڑ گئے تو کل ان کرتا دھرتاؤں کے اللے تللے بھی ماند پڑنے کا خطرہ لاحق ہے۔ انہیں یہ جنگ بند کرنا ہو گی یا کل کلاں ناپسندیدہ و نادیدہ حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عام اور پسماندہ طبقات کی یہ فریسٹریشن مستقبل قریب میں مجموعی سماجی انتقام کا باعث بن سکتی ہے، کہ جب قانون کی ڈھال عام آدمی کو میسر نہیں ہو گی تو وہ ضرور قانون کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت محسوس کرے گا۔ یہ فریسٹریشن لاقانونیت کی ماں بن کر پرورشِ کرے گی اور اس کے بطن سے پیدا ہونے والی ہر سوچ ہر فکر کی منزل اور مدعا مجموعی سماجی انتقام ہو گا۔ اس لیے “ایک احسان کیجیئے کہ زندہ رہنا آسان کیجیئے۔”
 فی الحال تو زندہ رہنا بڑا مشکل ہے کہاں جاۓ کوئی۔۔۔۔

Leave your comment !