محسن شفیق
اگر موضوع کو سامنے رکھتے ہوئے ہم سیانوں کی فہرست تیار کریں تو خانہ بدوش گلہ بان جنہیں بکروال، چرواہے یا گڈریے کہا جاتا ہے فہرست میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہوں گے۔ وہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے ریوڑ کی حفاظت کے لیے کتے ہائر کیے ہوتے ہیں، یہ کتے بڑے مستعد، تابع دار اور وفادار ہوتے ہیں۔ ان کتوں کی موجودگی میں ریوڑ کی طرف کوئی لگڑ بھگا میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ کتے اس لگڑ بھگے کو میلا کرنے کی بھرپور تیاری میں ہوتے ہیں۔ گلہ بانوں نے شائد کسی بڑے خرچے سے بچنے کے لیے مختصراً کتے رکھ لیے ورنہ ننگ دھڑنگ مویشیوں کے اتنے بڑے بڑے ریوڑوں کے لیے ہر گلہ بان کو جانوروں کے گارمنٹس کی ایک عدد فیکٹری کھڑی کرنا پڑ جاتی۔ گلہ بانوں کی اس کتا فورس کی تشکیل نے گارمنٹس انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ایک جانور کو چار ٹانگوں کے لیے دو شلواریں اور قمیص کی ضرورت ہوتی، زنانہ جانوروں کے لیے ساتھ حجاب بھی فیشن کے عین مطابق ضرورت ہوتا مگر برا ہوا کتوں کا جنہوں نے دستیاب ہو کر اچھی بھلی کمائی کا راستہ روک دیا۔


یہ کتے ریوڑ کے محرم تو نہیں ہوتے بس چونکہ زمانہ وہ آ گیا ہے کہ محرم کی موجودگی میں بھی عدم تحفظ زور پکڑ رہا ہے اس لیے کتوں کو سپر محرم کے طور پر حفاظتی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
گلہ بانوں سے ہٹ کر اس طرح کے سپر محرموں کی ضرورت انسانی معاشرے کو بھی از حد ضروری ہو چکی ہے۔ کہیں سے ہم سنتے ہیں کہ چند اوباشوں نے گھر میں گھس کر شوہر کی موجودگی میں بیوی کو نشانہ بنا ڈالا تو کہیں ہم سنتے ہیں کہ باپ کے سامنے بیٹی کی عزت تار تار کر دی گئی ہے، کہیں عورت کو قبر سے نکال کر ہوس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں بلیک میلنگ کے ذریعے۔ جہاں عورت نہ نظر آئی وہاں چشم تصور سے جانور کو ہی عورت قرار دے لیا۔ جہاں عورت اکیلی سفر کر رہی تھی، بازار میں تھی، سکول یا یونیورسٹی میں اکیلی تھی، وہاں تو لائسنس حاصل تھا اور عورت کی عصمت دری کنفرم تھی مگر جہاں محرم میسر بھی تھا وہاں کیا کمی رہ گئی تھی؟ اور تو اور اب تو ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے کہ قبر سے نکالا، ہوس پوری کی اور ادھر ہی کہیں لاشہ پھینک کر یہ جا وہ جا۔ بدبختو! اب محرم ساتھ دفن بھی ہوا کرے؟
حالیہ واقعات میں سے ایک مینار پاکستان لاہور کے احاطہ میں رونما ہوا، جس پر یہ دلائل گھڑے گئے ہیں کہ لڑکی ایک ٹک ٹاک سٹار ہے اس نے ٹویٹ کے ذریعے اپنے فالورز کو مینار پاکستان بلایا اور یہ ہنگامہ برپا ہو گیا، مزید برآں یہ کہ لڑکی بھی بہت ہی بے حیا اور حد سے گزری ہوئی ہے اور وغیرہ وغیرہ، اس ضمن میں اپنے دلائل کو مضبوط بنانے کے لیے اس کی مزید تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کی نذر کی گیئں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک فرد کا غلط فعل دوسرے کے لیے بھی غلط فعل کی دلیل ہے؟ اگر ایک عورت کا طرزِ زندگی درست نہیں تو مردوں کو حدود سے تجاوز کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے؟ جبکہ پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے تو جان مال اور آبرو کی حرمت کا بلا تخصیص اعلان فرمایا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی اجتماعی طور پر عملی اقدام سے نفی کتنا سنگین گناہ ہے؟
 جہاں پیارے دین اسلام نے خواتین کی حدود متعین فرمائی ہیں تو کیا مردوں کے لئے حدود متعین نہیں فرمائیں؟ کیا دین اسلام کے احکام پر صرف عورت نے ہی عمل کرنا ہے اور مرد نے گھات لگا کر بیٹھنا ہے کہ جیسے ہی کوئی چوں چراں ہوتی ہے بس پل پڑنا ہے؟ یقیناً حدود مردوں پر بھی عائد ہیں مگر مرد بے چارے کریں تو کیا کریں ایک ٹک ٹاک سٹار کی ٹویٹ ان کے ایمان کو ملیا میٹ کردینے کے لیے کافی ہے۔ اس کی محفلیں سجانا مردوں کے حلال کیسے ہو سکتا ہے جس کا دیکھنا تک حرام ہے؟ آج اولیاء کرام کے وہ واقعات کیوں بھلا دیے گئے ہیں جن کے ایمان کو تسخیر کرنے کے لیے عورتوں کو تعینات کیا جاتا تھا مگر وہ نوافل ادا کرنے میں محو ہو جاتے تھے؟ کیا ان سے دین اسلام کی نمائندگی کا حق چھین لیا گیا ہے؟ کیا دین اسلام کی تعلیمات صرف ان ہی کے لیے تھیں؟ کیا روز قیامت مردوں کا حساب نہیں ہونا یا کیا وہ حساب اس اللّٰہ الواحد القھار نے نہیں لینا جو اس وقت یہ سب دیکھ رہا ہے؟ یا روشن خیالی نے مردوں کے اذہان میں کون سی بلند ترین اقدار بھر دی ہیں جنہوں نے معاشرے کو ان مسائل سے نکال لیا ہے؟ روشن خیالی نے عورتوں کو کون سے حقوق دے دیے ہیں اور عورت کو تحفظ مل گیا ہے جو وہ آزاد ہو گئی ہے؟ 
ایک بحث کے طور پر اگر یہی ٹک ٹاک سٹار یہ ٹویٹ کر دے کہ کل فلاں مقام پر گوبر کھانے اور دوسروں کو مارنے کا مقابلہ منعقد ہو رہا ہے، میرے تمام فالورز پابندی وقت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پہنچیں؟ کتنے فالورز پہنچیں گے؟ 400 تو کجا 4 بھی نہیں۔ اور اگر ان سے اس مقابلے میں شرکت میں انکار کی وجہ پوچھی جاۓ تو گوبر کے غلیظ ہونے اور حرام ہونا قرار دیں گے، اور ان کا انکار یہ ثابت کرے گا کہ یہ لوگ بے وقوف نہیں ہیں بلکہ ہر اچھے برے کی پہچان رکھتے ہیں،  جبکہ گوبر کھانے اور ایک دوسرے کو مارنے کا گناہ اس گناہ سے شائد کم درجے کا ہے جس کا مظاہرہ مینار پاکستان لاہور کے احاطہ میں کیا گیا۔
آج عورتیں سفر میں حضر میں بلکہ قبر میں بھی محفوظ نہیں ہیں، محرم ساتھ ہونا نہ ہونا بھی لگڑ بھگوں کے لیے معنی نہیں رکھتا کہ ایک محرم دو چار پانچ لگڑ بھگوں کے غول کے سامنے کیا کر لے گا۔ لگڑ بھگے غول در غول بڑھ رہے ہیں۔ اگر عورت برقعہ پوش ہے پھر بھی اور اگر برقعہ پوش نہیں بھی ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لگڑ بھگے ہر دو صورتوں میں اس کا قلع قمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لگڑ بھگے باہم مشاورت اور منصوبہ بندی سے چلتے ہیں۔ لگڑ بھگے ایسے واقعات کی تقریب رونمائی کے بعد تصاویر اور ویڈیوز دھڑلے سے شیئر کرتے اور چسکے لے لے کر روداد سناتے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا نیکی کا کارنامہ انجام دیا ہو۔ ہمارا معاشرتی مافی الضمیر ہمیشہ وکٹم کے کردار کا پوسٹ مارٹم کرتا اور اسی کو قصوروار ٹھہراتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ وکٹم معاشرے میں نفرت کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ لگڑ بھگے ایسے واقعات کو اپنی عزت کا باعث سمجھتے ہیں بلکہ بعض اوقات معاشرہ انہیں قبول بھی کرتا ہے اور عزت و اکرام بھی دیتا ہے۔
عصمت دری کے اس کنویں میں عمر کی بالائی یا زیریں حد کی شرط بھی نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھی چاہے وہ عام روشن خیال معاشرے میں ہوں یا مسجد میں اعتکاف کی سعادت حاصل کر رہے ہوں، سب کی خیر نہیں ہے۔ روشن خیال معاشرے میں بھی عورت کا وہی حال ہے جو اس کے مقابل تاریک معاشرے میں ہے۔ روشن خیالی نے عورت کو مرد کے لیے ہمہ وقت دستیاب کیا ہے، مذہب پسند طبقہ نے مرد کے جذبات کی آڑ لے کر عورت کو مجرم ٹھہرایا ہے۔ جبکہ مرد ایک صنف سے ہٹ کر ایک تصور بھی تو تھا، تحفظ اور دفاع کا تصور۔ ان گھروں کی عورتیں اپنے مردوں کا سامنا کیسے کرتی ہوں گی جن کی وجہ سے عورت عدم تحفظ کا شکار ہے۔
یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ رہا ہے، بلکہ ہمارے معاشرے کی روایت بن کر ابھر رہا ہے۔ معاشرتی طور پر ایسے مسائل کو اسلام اور لبرل ازم کی سرد جنگ بنا لیا جاتا ہے، جس وجہ سے اس طرح کے مسائل کا حل نکالنا دشوار ہو جاتا ہے۔ مخالف اپروچ مسائل کے حل میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔  یہ اسلام یا لبرل ازم کے باہم دست و گریباں ہونے کا مسئلہ نہیں ہے، اس سے اسلام اور لبرل دونوں مکاتب کی خواتین کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ عورت عقل کے معاملے میں کمزور ہے جو اس کی مشکلات کا بنیادی سبب بھی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان رویوں کی وجہ سے اسلام پسند معاشرے کی خواتین بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور نور مقدم کی صورت میں لبرل معاشرے کی بھی۔ باہم دست و گریباں ہونے کی بجائے عورت کو عورت سمجھ کر اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش اور منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ جب لگڑ بھگے اسلام اور لبرل ازم کو ایک ہی پلڑے میں تول رہے ہیں تو یہ دونوں اپروچز لگڑ بھگوں کے خلاف کیوں ایک نہیں ہو سکتیں؟ کیا ایک دوسرے کی مخالفت کی جگہ مدد نہیں کی سکتی؟  لگڑ بھگوں سے سماجی مقاطع اور انہیں سماج بدر کرنے کرنے کا اعلان اس مسئلہ کے حل کی پہلی کوشش ہو سکتی ہے۔ ہمارا معاشرتی مافی الضمیر ایسے واقعات کامجرم ہے، جس کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اور اگر موضوع بحث کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو ہمارے ہاں صرف گلہ بان ہی سیانے ہیں جنہوں نے صدیوں پہلے جانوروں کی گارمنٹس فیکٹری کا خرچہ بچانے کے لیے کتے ہائر کر لیے تھے، یہ کتے لگڑ بھگوں سے جانوروں کی حفاظت کرنے والے سپر محرم کے طور پر نافذ ہوۓ تھے اور آج تک کسی گلہ بان کے ریوڑ میں ہراسانی کا کیس سامنے نہیں آیا۔

Leave your comment !