تحریر : پروفیسر محمد ایاز کیانی

دو ہزار سولہ میں مسلم لیگ (نون) کی حکومت قائم ہوئی. عمومی طور پر آزاد کشمیر میں اس جماعت کی حکومت قائم ہونے کا رجحان ہے جس کی حکومت وفاق میں ہو.  وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے نگاہ  انتخاب راجہ فاروق حیدر  پر ٹھہری جو مسلم لیگ کے صدر تھے اور اس سے قبل بھی مختصر وقت کے لئے مسلم کانفرنس کے پچھلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوہدری محمد یوسف صاحب سیکرٹری تعلیم رہٹائرڈ نے اپنی خود نوشت سوانح عمری “نقش بر آب” میں راجہ صاحب کے حوالے سے لکھا ہے کہ موصوف مجموعی طور پر صاف اور شفاف کردار کے حامل ہیں اور ایک سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے  ہیں۔ان کے خاندان کے تحریک آزادی میں کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا البتہ انہوں نے ان کے بارے میں ہلکے اور شگفتہ انداز میں یہ بھی لکھا ہے کہ راجا صاحب قدرے جذباتی اور لاابالی طبیعت کے مالک  ہیں انہوں نے اس حوالے سے ایک لطیفہ بھی لکھا ہے جو قارئین کی دلچسپی کیلئے پیش خدمت ہے چوہدری یوسف صاحب لکھتے ہیں ہیں۔کہ میں جب سیکریٹری تعلیم تھا تو  وہ وزیر تعلیم تھے ہم گز کالج کے ایک پروگرام میں اسٹیج پر بیٹھے تھے میں نے محسوس کیا کہ مہمان خصوصی کا دھیان تقریب میں نہیں ہے بلکہ مجھے کچھ کھوئے کھوئے سے لگ رہے تھے یہ صورتحال میرے لیےکافی بے چینی کا باعث تھی  تقریب اپنے جوبن پر تھی کہ اچانک راجہ صاحب اپنی نشست سے تقریباً اچھل پڑے اور گویا ہوئے کہ غضب ہو گیا کسی نے پوچھا راجہ  صاحب کیا ہوگیا ہے؟ تو راجہ صاحب نے کہا ہونا کیا تھا میانداد آؤٹ ہو گیا تب کھلا کہ موصوف تقریب میں اس قدر  لاتعلق کیوں تھےانہوں نے چھوٹا ریڈیو سیٹ جیب میں رکھا تھا اور پاک بھارت میچ سے لطف اندوز ہو رہے تھے چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے اس واقعے سے کافی خجالت ہوئی اور ان کی سنجیدگی کا بھی اندازہ ہوا مگر انھوں نے مجموعی طور پر راجا صاحب کی خاندانی وجاہت ،اصول پسندی اور با کردار ہونے کی گواہی دی ہے۔حکومت سنمبالنے کے  کچھ عرصہ  تک مختصر کابینہ کے ساتھ حکومت چلانے کی کوشش کی مگرسیاسی بلیک میلنگ  اور روایتی سیاسی ہتھکنڈوں کی وجہ سے مختصر کابینہ کا خواب چکنا چور ہو گیا  اور پھر وہی بھاری بھرکم کابینہ۔۔۔۔۔۔ اپنی الیکشن مہم کے دوران اور ابتدائی  سالوں میں بڑی شدومد سے بلدیاتی انتخابات کی بات کی مگر آہستہ آہستہ اپنے وعدے سے انحراف کی نوبت آتی گئی اور یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا  ممکن ہے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے فنڈز کا ایشو پیدا ہوا ہو مگر  کچھ عرصے بعدتمام ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹر پر اپنے کارکنان کو ایڈمنسٹریٹر  تعینات کر کے بلدیاتی انتخابات کا چیپٹر عملاً بند کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس حکومت کے دو تین کاموں کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔۔

پہلا کام آزاد کشمیر کی تاریخ میں  پہلی دفعہ مرتبہ پرائمری اور جونیئر اساتذہ  کی تھرڈ پارٹی  یعنی این ٹی ایس کے ذریعے شفاف پراسیس سے تقررریاں  عمل میں لائی گئیں بلاشبہ یہ ایک ایسا  کام تھا  جس پر وہ بجا طور پر سلیوٹ کے مستحق ہیں ہیں ان کی کی اپنی حکومت  کے اندر موجود روایتی لوگ ان کے اس اقدام پر خاص چیں بچیں  ہوئے ہوں گے مگر آپ نے ثابت قدمی  کا مظاہرہ کیا اور  بڑا کام کر گزرے جس کے ذریعے  ہزاروں اہل  لوگ محکمہ تعلیم  میں  میرٹ پر تعینات ہوئے جو ایک منفرد کام تھا۔۔۔۔

دوسرا کام  محسن کمال مرحوم  کی سربراہی میں پبلک سروس کمیشن کا قیام تھا جس کے ذریعے پہلی مرتبہ صرف اور صرف میرٹ پرایک کثیر   تعداد متوسط اور غریب گھرانوں کے اہل اور مستحق لوگ اعلیٰ ملازمتوں پر تعینات ہوئے۔

 آپ کا تیسرا بڑا کام کشمیر کونسل کے اختیارات کم کرکے آزاد کشمیر اسمبلی کو با اختیار بنانا تھا تاکہ یہاں کے عوام کا حق نمائیندگی بحال ہو سکے  اور اوپر سے فیصلے مسلط نہ کیے جائیں اس حوالے سے آپ کو خاصے پریشر کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر آپ اس پر ڈٹے  رہے آپ کی حکومت کا چوتھا کام قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حوالے سے قانون سازی تھا اس حوالے سے آپ نے عوامی اور مذہبی  جذبات اور احساسات کی ترجمانی کی اور طاقتور حلقوں کے دباؤ کو مسترد کردیا جو لائق تحسین قدم ہے آپ کی حکومت اور بالخصوص وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر  نے اپنی بساط کے مطابق کشمیر کا مقدمہ لڑنے کی بھرپور کوشش کی اور پاکستان کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے  دکھ اور قلبی کرب کا کھلم کھلا اظہار کر کے مٹی سے وفا کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔جو ظاہر ہے   ارباب بست وکشاد کو ناگوار گزرتا ہوگا  مگر آپ نے اس کی پرواہ نہ کی ۔خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی کے مصداق آپ کی حکومت کے چند کام 

 ایسے بھی ہیں جو اس حکومت کے نامہ اعمال میں سیاہ باب کی حیثیت سے ہمیشہ موجود رہیں گے آپ نے وسائل کی کمی کے باوجود چیف سیکرٹری ، آئی جی ،انجینئرز اور بیورو کریسی   کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بے تحاشا اضافہ کیا اور دوسری طرف اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے اساتذہ  پر  لاٹھیاں برسائیں جو سراسر ظلم اور بربریت پر مبنی اقدام تھا چونکہ بیوروکریسی  آپ کی مجبوری ہوتی ہے لہذا ان کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں من چاہا اضافہ کر دیا جاتا ہے مگر اساتذہ سے چونکہ آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا لہذا ان کا احتجاج آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا جب کہ بحیثیت منتظم اعلیٰ وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم آپ کی آئینی اور قانونی ذمہ داری تھی مگر اس حوالے سے آپ توقعات پر پورا نہ اتر سکے  اور جناب وزیر اعظم اپنی حکومت کی آئینی مدت کے پورے ہونے سے چند دن قبل ایڈہاک یا عارضی بنیادوں پر  تعینات ہزاروں ملازمین کو بنا کسی امتحانی پراسیس سے گزارے مستقل کر کے گویا آپ نے اپنی ساری ریاضت، عبادت اور نیک نامی کو اپنے ہاتھوں دفن کر دیا اس حوالے سے میڈیا پر لوگوں کے جذبات احساسات یقیناً آپ تک پہنچ چکے ہوں گے چند ہزار لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اصول انصاف اور میرٹ کا قتل کیا  گیا ہے اس اقدام کے مضر اثرات مدتوں محسوس کیے جاتے رہیں گے ۔اور یہ ایک غلط روایت کا آغاز ہو گا جس کو جواز بنا کر ہر حکومت پانچ سال تک اپنے من پسند افراد کو تعینات کرتی رہے گی اور آخر میں ایک بل کے ذریعے ان کو مستقل کر دے گی۔

کہا گیا کہ اس بل کے ذریعے ایڈہاک ازم کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے لیکن اس جھوٹ کا پول اس وقت کھل گیا جب 31’مئی کو ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتی کے آرڈرز جاری ہو جاتے ہیں ۔۔۔نہ معلوم ایسی کون سی مجبوری تھی کہ آپ نے اپنے ہی  قائم کردہ اصولوں کے شیش محل کو چکنا چور کردیا لاکھوں مجبور بے بس اور حکومتی ایوانوں تک رسائی نہ رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو قیامت کے دن کیا جواب دیں گے جن کی ماؤں نے ان کی پڑھائی کے لئے  اپنے زیورات  تک بیچ ڈالے۔۔ چلچلاتی دھوپ میں اپنی چربی پگھلا کر ان کی تعلیم کے لیے اسباب مہیا کرنے والے بوڑھے باپ کا کیا قصور تھا کہ اس نے اپنی اولاد کی تعلیم کے خواب دیکھے تھے تاکہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر اس اذیت سے بچ سکے جس سے وہ ساری زندگی برسر پیکار رہا۔۔۔۔اگر بہت ناگزیر تھا تو  کوئی درمیانی راستہ نکالا جاتا جن کی عمر کی بالائی حد ختم ہو چکی تھی (حالانکہ اس کے ذمہ دار خود حکمران تھے )تو ان کو  تجربے کے کچھ نمبر  دے دیئے جاتے مگر یہ کیا  کہ آپ نے پہلے پانچ سال اور پھر جس کی سروس ایک دن بھی ان کو بھی بیک  جنبش قلم مستقل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے(جس کسی نے بھی آپ سے یہ کام کروایا ہے وہ آپ کا خیر خواہ ہرگز نہیں ہو سکتا) یہ کس طرح کا انصاف ہے ان کا کیا قصور ہے جو سالہا سال سے مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں (جب کہ پی ایس سی کی پوسٹیں ہی مشتہر نہیں ہوتیں)، ان کا واحد سہارا اور امید ان  کی محنت ہوتی ہے حکومتی ایوانوں تک رسائی نہیں رکھتے تو کیا ان سے جینے کا حق چھین لیا جائے ان کے ارمانوں کا خون بہا دیا جائے یہ سراسر ظلم اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ ہے جس کا جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے ۔اگر ان  لوگوں کو کسی امتحانی پراسیس  سے گزار کر لگایا گیا ہوتا جس طرح پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہوتا ہے تو کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر سب جانتے ہیں کہ ان لوگوں کو کسی ایم ایل اے یا وزیر کی سفارشی چٹھی یا فون پر تعینات کردیا جاتا ہے کسی ظابطے اور قانون سے  ہٹ کر سالہاسال تک ان کی سروس میں توسیع ہوتی رہتی ہے اس سے پہلے بھی انیس سو بانوے میں اس وقت کے وزیراعظم کے فرزند نے اس طرح کی کوشش کی تھی جس پر عدالت نے اس اقدام کو کالعدم قرار دیا تھا کاش آپ جاتے جاتے ایسا نہ کرتے تو آپ اپنے اچھے  اقدامات  کی وجہ سے تاریخ میں یاد رکھے جاتے مگر میں نے قادیانیوں کے حوالے سے قانون سازی پر لکھا تھا کہ جب کسی آدمی پر قدرت  مہربان ہوتی ہے تو اس سے اچھے کام سرزد ہوتے ہیں مگر آج مجھے کہنے دیجئے کہ جب اللہ کی ذات ناراض ہوتی ہے تو انسان سے اس طرح کی غلط کام سرزد ہونا شروع ہو جاتے ہیں مجھے قوی  امید ہے کہ عدالت آئین قانون اور اخلاقیات سے مغائر اس اقدام کو ضرور کالعدم قرار دے  دے گی کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق  کا سوال ہے چند ایک کو خوش کرنے کے لئے لیے لاکھوں نوجوانوں کو ان کے حق سے محروم کرنا کسی طور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔  (پس نوشت)  سوشل میڈیا پر ہمارے بعض دوست یہ گلہ کرتے ہوئے پائے گئے کہ روزی رساں اللہ کی ذات ہے اور کچھ لوگ ہماری مستقلی پر جل رہے ہیں یہ اتنی پست سوچ ہے کہ اس کا جواب دینا بھی مناسب نہ ہو گا مگر میں یہی کہوں گا کہ اگر ہم ہر غلط کام کو تقدیر روزی اور  مقدر کے ماتھے ماریں گے تو پھر قانون انصاف اصول اور میرٹ کے اسباق کو ایک طرف رکھ دیجئے اور آج مسلمانوں کی حالت زار کو بھی جزا و سزا کے تصور سے ہٹ کر مقدر اور قسمت کے حوالے کر کے چین کی نیند سو جائیے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مرضی اور منشا کے مطابق ہی ہوتا ہے ۔۔۔یہ اللہ کی مرضی ہے کہ مسلمان ہمیشہ غلام رئیں تعلیم صحت اور ترقی مسلمانوں کی قسمت میں ہی نہیں لہذا اپنے حال کو بہتر کرنے کی بجائے سب کچھ تقدیر کے حوالے رکھ چھوڑو۔ ہمارے زوال اور پستی کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے جو لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ملازمتوں سے محض اس لیے محروم ہیں کہ ان کے ہاتھ دور تک نہیں پہنچتے تو  اس کے ذمہ دار وہ  خود ہی ہیں کہ وہ اوپر تک رسائی نہیں رکھتے۔بھلا غربت سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتاہے؟یہ تو ان کے مقدر میں ہی نہ تھا کہ وہ ملازمت حاصل کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں مگر اس نوجوان کی سوچ اور فکری بالیدگی کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے اپنے بھائی کے مستقل ہونے پر  بھی شادیانے بجانے کے بجائے حق و انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی اور اس اقدام کو برملا میرٹ کا قتل قرار دیا امید ہے جب تک ہماری دھرتی میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں مکمل اندھیرا نہیں ہوگا اس موقع پر ممبر قانون ساز اسمبلی عبد الرشید ترابی کو اس اقدام کے خلاف اسمبلی کے فورم پر آواز بلند کرنے اور سردار حسن ابراہیم کو بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے باپ خالد ابراہیم کی طرح استعفیٰ تو نہ دیا  مگر اختلافی نوٹ لکھ کر ہزاروں نوجوانوں کے امیدوں کے دیوں کو بجھنے نہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔