غزل

Feb 3, 2021

ڈاکٹر محبوب کاشمیری

میرے دشمن مجھے کاندھوں پہ اٹھانے آئے

میرے دشمن مجھے کاندھوں پہ اٹھانے آئے

دوست احباب تو بس رسم نبھانے آئے

ایک ہی لمحہ غافل تھا میسر مجھ کو

یاد اس لمحے میں کیا کیا نہ زمانے آئے

گھر سے نکلا تھا تو کیا کیا مجھے خوش فہمی تھی

دربدر ہو کے میرے ہوش ٹھکانے آئے

میں کہ ویران ہوا جاتا ہوں اندر اندر

“ قریہ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے “

میرا دشمن تو میرے اپنے ہی اندر ہے کہیں

کون مجھ کو میرے ہاتھوں سے بچانے آئے

جانے کس خواب نے کر رکھا ہے پتھر محبوب

کوئی محشر مجھے نیندوں سے جگانے آئے