May 23, 2022

کونج بچھڑ گئ ڈاروں لبھدی سجناں نوں/ افضل ضیائی


تحریر:- افضل ضیائی

زعفران زار گل رنگ دیس کی حبہ خاتون۔۔۔۔۔۔آنٹی صدیقہ غلام نبی بزاز ۔۔۔۔۔رخصت ھو گئیں

سرینگر !جموں و کشمیر کا سرمائی دارلخلافہ اور وادئ کشمیر کا سرتاج، ۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں میرے دل میں بستا ھے ۔ اس شہر میں آباد نشاط باغ، قلعہ ھری پربت، اور لال چوک جیسے تاریخی حوالے مجھے اپنی طرف کھینچتے ھیں یا پھر 13 جولائی 1931 کے شہداء کی یاد رلا دیتی ھے جو اذان کے ایک ایک کلمے کو مکمل کرتے ھوئے گولیاں کھاتے رھے اور اپنی جاں جان آفریں کے سپرد کرتے گئے۔۔ ۔۔۔میرا خیال ھے کہ سری نگر کی محبت کا ھمارے دل میں جاگزیں ھونا “درگاہ حضرت بل ” کے فیض رواں کی وجہ سے بھی ھے۔

پرانے سرینگر کے محلے، زینہ کدل میں وادی کے متمول خاندان کی جوانسال بیٹی نے منشی فاضل کا درجہء تعلیم مکمل کر لیا تو والدین نے شادی خانہ آبادی کی زمہ داریاں نبھانے کی ٹھان لی ۔ آنسہ صدیقہ کی لوح نصیب پہ شریک حیات کے خانے میں ایک بیدار مغز اور بلا کے زھین نوجوان غلام نبی بزاز کا نام لکھا تھا،

غلام نبی بزاز ،بی اے کر چکے تھے ۔ان دنوں وادی میں سیاسی بے چینی اپنے عروج پہ تھی ۔ حکومت مخالف گروپس ، حکومت کے خلاف زیر زمین متحرک تھے ۔ غلام نبی بزاز ان سرگرمیوں میں اپنے جن دیگر ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے ان میں علی محمد وکیل اور نقی شاہ بطور خاص قابل زکر ھیں ۔
• وادی کشمیر کی ثقافت رنگا رنگ اور رسم و رواج کی رونق مسرت انگیز ھوتی ھے ۔ شادی بیاہ کی تیاریاں کئ ھفتوں سے جاری تھیں ۔وادئ گلرنگ سری نگر کی بیٹی آنسہ صدیقہ کی سہیلیاں بابل کے نام کے گیت اپنی مدھر آواز میں گانے کی کئ دنوں سے تیاری کر رھی تھیں ،سرو و سمن رقصاں ھونے کو بے تاب تھے ، گھر کے دالان اور باغیچوں کی روشیں سج رھی تھیں ،اور خوشبوئیں باد نسیم کے ھاتھوں ھلارے لیتیں ،آنے والے خوشیوں بھرے لمحات کا پتہ دے رھی تھیں ،دوسری طرف دلہا ( غلام نبی بزاز) ایک جوانسال ضمیر کے قیدی کی طرح حکومت کے خلاف سرگرم عمل تھے ،
• حکومت کو انکی حکومت مخالف سر گرمیوں کی بھنک پڑ چکی تھی سو ایک طرف دلہا کے سر پہ سہرا سجانے کی تیاریاں جاری تھیں اور دوسری طرف دلہا میاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نشانے پہ تھے ۔۔

جوانسال د لہا غلام نبی بزاز دلہن کو لینے کے لیئے بارات لئے روانہ ھوئے، ابھی راستے میں ھی تھے کہ حکومتی ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا۔ایسی کاروائی کا یہ وقت مناسب نہ تھا مگر اس سے یہ ضرور اخذ ھوتا ھے کہ حکومت خواجہ غلام نبی بزاز اور انکے ساتھیوں سے کس قدر خوف زدہ تھی خواجہ صاحب ریاست میں حامیان پاکستان میں سے تھے اور شیخ عبداللہ کے ھندوستان کی طرف جھکاوء کو سخت ناپسند کرتے تھے ۔

دلہن آنسہ صدیقہ کا خاندان سری نگر میں سماجی طور پہ نمایاں اور حکومتی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتا تھا جس کی بناء پہ جوانسال بزاز کو دلہن کو لے جانے کی حد تک وقتی مہلت مل گئ۔خوف اور سراسیمگی کے اس ماحول میں
دلہن نے بابل کے گھر کی چوکھٹ کو الوداع ھوتے ھوئے آخری بار گلے لگایا توصبر کے بندھن ٹوٹ گئے ۔ اھل اقتدار کے حواریوں کے انتقام کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ پڑی تھی

عدیم ھاشمی کے اس شعر کے مصداق،

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ
اڑا دئیے ھیں پرندے شجر پہ بیٹھے ھوئے

حکومتی کل پرزوں سے نئے نویلے جوڑے کا ملن برداشت نہ ھوا نتیجتا” بارات واپس پہنچتے ھی بزاز صاحب کو گرفتار کر کےجیل میں ڈال دیا گیا ۔ متمول خاندان کی نازوں پلی دلہن ۔۔۔۔صدیقہ۔۔۔ ( ا ب بیگم بزاز )۔۔۔ جو ھنستا بستا پریوار چھوڑ کے پیا سنگ آئی تھیں ، خوشیوں کے چند لمحات ھی پیا سنگ گزار سکی اور پھر آئیندہ دنوں میں زندگی کی تلخیوں کا سامنا کرنے کے لیئے اکیلی رہ گئیں ۔

بزاز صاحب اور انکے درجنوں ساتھیوں پہ دھماکہ خیز مواد رکھنے، اھم حکومتی شخصیات کو قتل کرنے کے ارادے ، اور وطن دشمنی کے جرائم میں مقدمہ چلتارھا۔
بیگم بزاز ۔۔۔۔۔نوبیاھتا دلہن ۔۔۔کہ جس نے میکے گھر میں بڑی آسودگی سے، خوشحالی میں زندگی گزاری تھی، کو ایک وفاشعار شریک حیات کی طرح آزمائشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔۔تاریخوں پہ تاریخیں پڑتی گئیں ۔ ھر تاریخ پہ میاں کی رھائی کی خوش گمانی آئندہ کی تاریخ سماعت کے اعلان پہ کتنی بار ٹوٹتی رھی ھو گی ۔ بیگم بزاز کی زندگی آس اور امید کے سہارے چلتی رھی۔ بد نیت اور بغض سے بھرے حکومتی ادارے طاقتور نکلے ۔بیگم بزاز جو توکل اللہ پہ یقین رکھنے والی خاتون تھیں ۔وہ میاں کی رھائی کی منتظر تھیں کہ ایک دن ۔۔۔۔

ٹانگہ آگیا کچہریوں خالی تے سجناں نوں قید بول گئ

بزاز صاحب اور انکے ساتھی یہ کیس ھار گئے ۔بزاز صاحب کو دس سال قید کی سزا ھو گئی اور بزاز خاندان کی بہو ،ھاتھوں پہ مہندی رچائے ، خواب نگر کی رانی ، اپنے محبوب شوھر کی رھائی کی آس میں انتظار کی سولی پہ لٹک گئ

کشمیر کی ملکہ شاعرہ ۔۔۔حبہ خاتون نے شائید بیگم بزاز کے لیئے ھی کہا تھا !!

“میں نے اپنے ھاتھوں میں مہندی رچائی
نہ جانے وہ کب آئے
مرا محبوب میری محبت میں سرشار آئے گا
آ بھی جا۔۔میں تیرے لیئے ترستی ھوں
آبھی جا میں تیرے لیئے جاں بلب ھوں
اور تیری فرقت میں مجھ میں تاب نہیں ھے
دور چراگاھوں میں فصل بہار آئی ھے
کیا تو نے میری فریاد نہیں سنی؟؟
کوھسار کی جھیلوں میں پھول کھل رھے ھیں
آ پہاڑ کے دامن میں پھیلے ھوئے مرغزاروں کی سیر کریں
کیا تو نے میری فریاد نہیں سنی “

ازاں بعد بزاز صاحب کی سزا سات سال کر دی گئ۔ کٹڑ پاکستانی ھونے کے الزام میں انکا کشمیر میں قیام ناممکن بنا دیا گیا، انہیں بطور سیاسی قیدی مبینہ طور پہ کسی میجر کے بدلے میں پاکستان روانہ کر دیا گیا ۔
پاکستان کی محبت کا سزاوار ،کونجوں کا یہ جوڑا ، پہلے پہل مظفرآباد میں قیام پزیر ھوا ۔بدقسمتی سے یہاں ان کا پانچ چھ سال کا بیٹا کہیں گم ھو گیا تلاش بسیار کے باوجود اس کا سراغ نہ مل سکا ۔بیٹے کی گمشدگی کے شدید صدمے نے ان کا دل مظفرآباد سے اچاٹ کر دیا۔بزاز صاحب جو اب ملازم سرکار تھے، نے اپنا تبادلہ میرپور کروا لیا ۔


ڈھلوانوں کے شہر میرپور میں اس کشمیری جوڑے نے از سرنو مشقت بھری زندگی کا آغاز کیا ۔
انکل بزاز خاندان کی کفالت کے محاز پہ سرگرم عمل ھو گئے اور ھماری ھر دلعزیز آنٹی بیگم صدیقہ بزاز نے گھر داری کا محاذ سنبھال لیا ۔وہ عرصہء دراز تک سٹاف کالونی کے چھوٹے سے کوارٹر میں قیام پزیر رھے ۔اللہ نے انہیں زھین و فطین اولاد سے نوازا ۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا شعبہ آنٹی نے خود سنبھالے رکھا ۔وہ خود تعلیم یافتہ تھیں اور تعلیم کی اھمیت سے آگاہ تھیں ۔بیٹے تو بیٹے ھیں انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بھی اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا اس وقت میرپور میں ابھی  کو ایجوکیشن ھی تھی اس کے باوجود بچیوں کی تعلیم پہ قدغن نہیں لگائی بلکہ انہیں ھر قسم کے حالات میں جینے کا درس دیا اور اعتماد بخشا۔چھو ٹی بیٹی عالیہ بزاز کو وہ ڈاکٹر بنانا چاھتے تھے مگر عالیہ انجنیرء بننا چاھتی تھیں کالج میں میتھ ٹیچر کی عد م دستیابی نے عالیہ کے خواب کو چکنا چور کردیا تھا مگر آنٹی نے ھمت نہ ھاری اور متعلقہ حکام سے مل کر مطلوبہ ٹیچر کا انتظام کیا۔اس مقصد کے لیئے بعض اوقات آنٹی کو سارا سارا دن ساتھ رھنا پڑتا ۔
بڑی بیٹی ڈاکٹر غزالہ اکرم میرپور کی سینئر گائناکالوجسٹ ھیں انہیں بھی مخلوط تعلیم کے ماحول میں پڑھنے کا موقع فراھم کیا ۔بڑے بیٹے ڈاکٹر شفقت بزاز سینئر سرجن،اور سب سے چھوٹے بیٹے شجاعت بزاز انجنئر ھیں اور دونوں بھائی سعودی عرب میں ھوتے ھیں ۔دوسری بیٹی عالیہ بزاز کا شمار اسلام آباد کے سنیئر اکیٹکچرز میں ھوتا ھے انکی اپنی فرم ھے پروفیسر ڈاکٹر شفاعت بزاز بہن بھائیوں میں چو تھے نمبر پہ ھیں انہوں نے انجنیئرنگ میں بیرون ملک سے ڈاکٹریٹ کر رکھی ھے اور آجکل کیس یونیورسٹی اسلام آباد کےپرو وائس چانسلر ھیں ۔

افسوس اس وقت باغ و بہار کی رونقیں تو اپنے عروج پہ ھیں مگر باغباں اپنے خون پسینے سے اس باغ کو سینچا کر اپنی آخرت کی منزلوں کو جا چکے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا ۔

ھم جب بھی آنٹی سے ملنے جاتے وہ بہت محبت اور تپاک سے ملتیں ۔خاطر تواضع میں جت جاتیں ۔انہیں کشمیری کچن کلچر میں ید طولی حاصل تھا ۔متنوع قسم کی ڈشز تیار کر تیں اور سرینگر میں گزاری ھوئی زندگی کو یاد کرتے ھوئے افسردہ ھو جاتیں ۔
انکل غلام نبی بزاز پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور اسے امت مسلمہ کی آخری امید سمجھتے تھے ۔اخبار بہت شوق سے پڑھتے ۔اور ھر ایشو پہ ٹھوس، مدلل رائے رکھتے اور بلا خوف اس کا اظہار بھی کرتے۔ انہوں نے بچوں کو پاکستان میں رہ کر زندگی کے گزران کی تلقین کی اور ڈاکٹر شفاعت بزاز کو بیرون ملک سے اصرار کر کے وطن واپس بلوایا۔

انکل درویش منش انسان تھے انہیں مقبوضہ کشمیر سے یہاں چلے آنے پہ کوئی خاص پشیمانی نہ تھی ھاں یہ ھے کہ وہ اپنے پیارے سرینگر کشمیر میں دفن ھونے کی شدید خواھش رکھتے تھے ۔البتہ آنٹی سرینگر کا “بھریا میلہ” چھوڑ کر آئی تھیں ان کا دل دیگر خواتین کی طرح سرینگر میں اپنے میکے میں اٹکا رھا ۔ انکی آنکھیں اکثر وھاں کی خوشحال اور گزاری ھوئی آسودہ حال زندگی کا زکر کرتے ھوئے اشکبار ھو جاتیں ۔انکل اور آنٹی نے بے انتہا مشقت اور دلجمعی سے بچوں کو کیریئر کے بام عروج پہ پہنچایا۔
مگر جیسا کہ ایشیاء میں معاشرتی زندگی کے ساتھ ھوتا آیا ھے کہ ۔۔۔والدین پھلدار پودے خود لگاتے تو ھیں مگر وہ یہ بھی جانتے ھوتے ھیں کہ اس کا پھل شائید وہ نہ کھا سکیں گے بلکہ ان کے بعد آنے والے کھائیں گے ۔ یہاں آکے میری بے جی اور آنٹی بزاز کی کہانی ایک جیسی ھو جاتی ھے ۔

آنٹی کو سرینگر سے ھجرت کرنے اور اپنوں سے بچھڑنے کا زندگی بھر قلق رھا اور جس کا وہ بر ملہ اظہار بھی کرتی رھتیں تھیں۔اس پچھتاوے نے انہیں زندگی بھر بے چین رکھا، زندگی میں ھی اپنے پیاروں سے بچھڑ کر زندگی بسر کرنا کتنا مشکل ھوتا ھے یہ تو کوئی آنٹی سے پوچھتا نا۔۔۔
گویا آنٹی ایسی کونج کی مانند تھیں جو اپنی ڈار (خاندان) سے اوائل عمری میں ھی بچھڑ گئ تھی

کونج بچھڑ گئ ڈاروں لبھدی سجناں نوں

جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ کے گمنام کردار انکل غلام نبی بزاز 28 مئ 2000 کو دنیا سے پردہ فرما گئے اور آنٹی ابھی چند روز قبل گیارہ نومبر 2021 کو اپنے بیٹے “شفقتا “(ڈاکٹر شفقت بزاز) کو آخری دفعہ پکار کر کلمہ شریف پڑھتے پڑھتے میری بھابی کی گود میں ھمیشہ کی ننید سو گئ ھیں اور یہ کہہ گئ ھیں کہ سرینگر سے دریائے جہلم میں بہہ کے آنے والا شکارہ جب منگلہ ھیڈ پہ پہنچا تو مجھے جگا دینا ۔اس شکارے میں میرے میکے سے کوئی آتا ھو گا ۔

میں گوگل پہ جا کے آسمان کی بلندی سے سرینگر شہر کے بیچوں بیچ بہتے ھوئے دریائے جہلم کو دیکھتا ھوں تو مجھے سری نگر اور میرپور کے درمیان نکتہء اتصال کا ایک مضبوط حوالہ دکھائی دیتا ھے اور وہ” حوالہ” دریائے جہلم کا ھے ۔
آنٹی کی روح اپنوں سے جدائی کے بعد ھر لمحہ ھر آن سسکتی رھی۔ حالانکہ دریائے جہلم کے ایک کنارے پہ ان کا میکہ تھا اور یہ دوسرے کنارے پہ میرپور ھے جہاں وہ اب ابدی نیند سو رھی ھیں ۔۔میرا خیال ھے کہ دریائے جہلم نے سرینگر اور میرپور کے مابین اپنے روٹ اور بہاوءسے قربت کا جو رشتہ استوار کر رکھا ھے ، قربت کے اس تعلق کو اگر میں آنٹی کے سامنے بیان کر دیتا تو وہ کچھ دن اور زندہ رہ لیتیں ۔
اللہ انکل اور آنٹی کی مغفرت کرے

—————————————-

Leave your comment !

%d bloggers like this: