تحریر : ڈاکٹر عتیق الرحمن
2015 میں اقوام عالم نے کچھ ترقیاتی اہداف پر اتفاق کیا، جنہیں پائیدار ترقی کے اہداف Sustainable Development Goals  کہتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ترقی کیلئے متعدد اہداف کا تصور موجود تھا، لیکن پائیدار ترقی کے اہداف اس تصور پر مبنی ہیں کہ جینے کا حق صرف موجودہ نسل انسانی کو نہیں، ہمارے بچوں اور آنے والی نسلوں کو بھی ایک  اچھی زندگی جینے کا حق حاصل ہے، لہذا  ترقی کے عمل میں وسائل کا بے دریغ استعمال یا ماحولیات  کو خراب کرنے والے منصوبہ جات سے اجتناب لازم ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کو زندگی کے اسباب اور مناسب ماحولیات دستیاب آسکے۔ پائیدار ترقیاتی اہداف کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے 2016 میں متفقہ قرارداد کے ذریعے قومی اہداف کے طور پر اپنایا، چنانچہ اب یہ صرف بین الاقوامی اہداف نہیں، بلکہ پاکستان کے قومی ترقیاتی اہداف کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔  یعنی پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ جات ان اہداف کو پیش  نظر رکھ کر بنائے جائیں گےاور اگر کسی منصوبہ سے ان اہداف کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو ایسے منصوبہ جات سے اجتناب کیا جائے گا۔
درحقیقت اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہدف کے حصول کی کوشش کسی دوسرے ہدف سے دوری کا سبب بن سکتی ہے۔ مثلا اگر روزگار کے حصول کیلئے ایک فیکٹری لگائی جائے تو ماحولیات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے، اور ماحولیات کو بچانے کی کوشش میں فیکٹری کا منصوبہ ترک کرنے سے روزگار کے ہدف کا حصول مشکل تر ہوسکتا ہے۔  ایسے میں منصوبہ سازی میں اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے کہ  کسی ایک ہدف کے حصول کی خاطر بنائے گئے منصوبہ جات میں دوسرے اہداف کو کم سے کم نقصان کا سامنا ہو۔ مثلا اگر فیکٹری لگانی ضروری ہو تو ایسی فیکٹری لگائی جائے، جس سے کیمیائی مواد کااخراج کم سے کم ہو، یا فیکٹری کے ساتھ ایسا نظام نصب کیا جائے کہ کیمیائی مواد کو صاف کر کے ماحول میں خارج کیا جائے۔
ہائیڈرو انرجی کے منصوبہ جات یک وقت متعدد ترقیاتی اہداف کو متاثر کرتے ہیں۔ ہائیڈروانرجی کاکے منصوبہ کا بنیادی مقصد تو توانائی کا حصول ہے، جو کہ پائیدار ترقی کے اہداف میں سے ایک ہے۔ لیکن اس کے ساتھ بہت سارے دیگر اہداف بھی منسلک ہیں، جن میں ایسے منصوبہ جات سے بہت نمایاں فرق پڑتا ہے۔   مثلا غربت کا خاتمہ، افلاس  (بھوک) کا خاتمہ ، صاف پانی تک رسائی، توانائی کے صاف ستھرے زرائع تک رسائی، روزگار اور معاشی ترقی، صنعتیں اور بنیادی ڈھانچہ، شہری ترقی، ماحولیات، آبی حیات، زمینی حیات جو بالترتیب ہدف نمبر  1، 2، 6، 7، 8، 9، 11، 13، 14 اور 15 ہیں، یہ سبھی ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔
ہائیڈروپاور پروجیکٹ کیلئے دو قسم کے طریقہ کار استعمال ہوتے ہیں۔ ایک قدیمی طریقہ جس میں پانی کا ایک بڑا ذخیرہ بنا کر پانی کو سٹور کیا جاتا ہے، اور پھر اس پانی سے بجلی بنائی جاتی ہے۔ اس طریقہ کو منگلا ڈیم میں استعمال کیا گیا۔ دوسرے طریقہ میں پانی کا بڑا ذخیر ہ بنانے کی بجائے سرنگ بنا کر پانی کو دور لے جاکر گرایا جاتا ہے اور بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ نیلم جہلم پروجیکٹ میں استعمال کیا گیا، اور مجوزہ کوہالہ پروجیکٹ کیلئے بھی اسی طریقہ پر غور ہورہا ہے۔یہ دونوں طریقے پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے بالکل متضاد  نتائج کے حامل ہیں۔  ہدف نمبر 6، توانائی کے حصول کی حد تک دونوں کے نتائج ایک جیسے ہیں، لیکن باقی تمام اہداف میں ان دونوں طریقوں کے نتائج میں بہت زیادہ فرق ہے۔ مثلا  اگر ہائیڈروپاور منصوبہ پانی کے ذخیرہ کے ساتھ منسلک ہو تو اس منصوبہ سے ان دنوں میں بھی پانی فراہم  ہو سکتا ہے جن دنوں پانی کی کمی ہوتی ہے ۔اس طرح یہ منصوبہ ہدف نمبر 7 صاف پانی کے حصول میں معاون بن جائے گا۔  لیکن اگر منصوبہ سرنگ پر مشتمل ہو تو دریا کے قدرتی رستے سے منسلک علاقوں میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے، جیسا کہ مظفرآباد میں ہوا، چنانچہ ایسا منصوبہ صاف پانی کے حصول کے ہدف میں رکاوٹ کا سبب بنے گا۔  اگر منصوبہ پانی کے ذخیرہ پر مبنی ہو تو ذخیرہ  میں آبی حیات کیلئے ایک مناسب جگہ habitatمیسر آسکتی ہے، جو کہ ہدف نمبر14 آبی کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔  اس کے برعکس اگر منصوبہ سرنگ  پر مبنی ہو  تو  سرنگ کے اندر آبی حیات کا تصور ہی نہیں، اور دریا میں جو تھوڑی بہت آبی حیات ممکن ہے، سرنگ اس کے خاتمہ کا سبب بنے گی۔ اگر پانی ذخیرہ کیا جائے تو نشیبی علاقے میں زراعت کیلئے پانی میسر آسکتا ہے، جس سے ہدف نمبر 1 غربت میں کمی اور ہدف 2 افلاس کے خاتمہ میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر منصوبہ ٹنل پر مبنی ہو تو دریا کے قدرتی راستوں پر پانی کی دستیابی کم ہوجائے گی، جو اس کے بالکل برعکس نتائج کی حامل ہوگی۔ پانی کے ذخیرہ سے ماہی گیری، کشتی رانی، سیاحت کیلئے وسائل میسر آتے ہیں جو ہدف نمبر 8 روزگار اور ترقی سے ہم آہنگ ہیں، جب کہ ٹنل ایسے سبھی مواقع کو ضائع کر دیتی ہے۔  پانی کا ذخیرہ نشیبی علاقوں میں پانی کی مسلسل فراہمی کا سب بنتا ہے، جس سے  شہری آبادی مستفید ہوسکتی ہے اور ہدف نمبر 11  مستحکم شہری آبادی  کے حصول میں معاونت ملتی ہے، جب کہ ٹنل پر مبنی منصوبہ اس کے بالکل متضاد اثرات کا حامل ہوگا۔
سرنگ یا ٹنل پر مبنی منصوبہ توانائی کے ہدف کے حصول میں تو معاون ہوسکتا ہے لیکن کئی دیگر اہداف کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ اس کے برعکس ڈیم پر مبنی منصوبہ وہ تمام فوائد فراہم کرتا ہے جو ٹنل پر مبنی منصوبہ سے حاصل ہوتے ہیں، اور ان نقصانات سے بچاتا ہے جو سرنگ کی وجہ سے ممکن ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر ترقیاتی اہداف کیلئے بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے   قومی ترقیاتی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے سرنگ جیسے منصوبےکو درخور اعتنا نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ جب کہ پانی کے ذخیرہ پر مبنی منصوبہ جات کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے تاکہ قومی ترقیاتی اہداف اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد مل سکے۔
بعض ماہرین کے خیال میں آبی ذرائع کے ساتھ  سرے سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ روا نہیں۔ نہ تو وہ ڈیم کے قائل ہیں نہ ہی ٹنل کے، اور دریا کے قدرتی بہاؤ میں کسی قسم کی رکاوٹ کو جائز نہیں سمجھتے۔ یہ موقف دراصل اس سوچ کا نتیجہ ہے، جس کے پیش نظر صرف ایک ہدف  یعنی ماحولیات ہی  ہو۔آئیڈیل تو یہی ہے کہ قدرت نے دریا کو جیسا بہاؤ دیا ہے اس برقرار رکھا جائے، لیکن انسانی آبادی کے اتنے پھیلاؤ کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں۔  دراصل اس طرح سے ماحولیات کو بھی فائدہ  پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ہماری آبادی اتنی بڑھ چکی ہےاور نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بے روزگار ہے۔ اور ان سب کیلئے ذرائع حیات کا حصول توانائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر آبی ذرائع کو چھوڑ کر توانائی کے دوسرے ذرائع پر توجہ دی  جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فاسل فیول fossil fuel یعنی پٹرول، کوئلہ یاگیس پر مبنی توانائی پر انحصار کیا جائے۔ پٹرول ، کوئلہ اور قدرتی گیس تینوں زیادہ تیزی سے ماحولیاتی تنزل کا سبب بنتے ہیں۔ اس لئے آبی وسائل کو سرے سے استعمال میں نہ لانا زیادہ ماحولیاتی مسائل کا سبب ہوگا، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فوائد جو ڈیم بنانے سے حاصل ہوسکتے تھے، ان سے محروم ہونا پڑے گا۔آزادکشمیر میں اس وقت بے روزگاری کی شرح 12 فیصد کے لگ بھگ ہے، جو کہ پاکستان کی نسبت دگنا ہے۔ لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کا حصول یقینا ایک مشکل ہدف ہے، اور ڈیم کی تعمیر اس ہدف کے حصول میں معاون ہوسکتا ہے۔   جبکہ سرنگ پر مبنی منصوبہ جات ان وسائل کے ضیاع کے  مترادف ہے جو جھیل کی شکل میں میسر آسکتے ہیں۔
اگر ہم حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھیں، جیسا کہ نیلم جہلم منصوبہ کی شرائط میں شامل تھا کہ مظفرآباد اور اس کے گرد ونواح میں جھیلیں بنائی جائیں۔ اگر یہ وعدہ وفا ہو جائےں تو شہر میں پانی کی کمی کے اثرات سے نمٹا جاسکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہر جھیل ایک تفریحی مقام کی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔ ہر جھیل ماہی گیری اور کشتی رانی جیسے مقاصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، اور یہ سب مواقع کسی نہ کسی ترقیاتی ہدف کیلئے بھی معاون ہوں گے۔
نیلم جہلم منصوبہ سے ہم جو نقصان کرسکتے تھے کر چکے، اب ہونا یوں چاہئے  کہ حسب وعدہ مظفرآباد کے گردونواح میں جھیلیں بنانے کے علاوہ نیلم جہلم منصوبہ سے  بالائی جانب درمیانے سائز کی متعدد جھیلیں بنائی جائیں۔ ہر جھیل توانائی کے حصول میں مدد دے گی، اور اس کے علاوہ ہم جھیلوں کے جو فوائد اوپر ذکر کرچکے ہیں ان کے حصول میں معاون ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر جھیل نیلم جہلم منصوبہ کی طرف بہنے والی دریائی مٹی میں کمی کا سبب بنے گی، جس سے نیلم جہلم منصوبہ اور منگلا ڈیم کی عمر میں اضافہ ہوگا۔  اس کے ساتھ ساتھ جن دنوں میں دریا میں پانی کی کمی ہوتی ہے، ان دنوں میں  پانی کی روانی بہتر بنائی جاسکے گی، اور وہ پانی جو ہرسال ضائع ہوجاتا ہے اس کے کچھ حصہ کو محفوظ کر کے پاکستان کی زراعت میں مثبت کردار ادا کرے گی۔ اس کے برعکس اگر ہم نے سرنگ پر مبنی منصوبہ جات پر ہی ساری توجہ مرکوز کئے رکھی، تو ترقیاتی اہداف کا حصول مشکل تر ہوتا جائے گا، اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ایک برا ماحول اور بری معیشت چھوڑ کر جائیں گے۔