مایوسی ایک دھوپ ہے جو سخت سے سخت وجود کو بھی جلا کر رکھ دیتی ہے۔ مایوسی ایک گناہ ہے تو پھر انسان مایوس کیوں ہوتا ہے ۔آج کل ہماری نوجوان نسل کا سب سے بڑا مسئلہ مایوسی چاہے وہ کسی قسم میں بھی ہو ہے تو وہ مایوسی پچتھاوا،مثلا آج کل نوجوان نسل کسی سے متاثر ہو کر محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔یک طرفہ محبت اور محبت نہ ملے تو مایوسی اگر کوئی بے وفائی کر گیا تو مایوسی کوئی خواب تھا پورا نہیں ہوا تو مایوسی۔

ماضی کا کوئی گناہ ہے تو مایوسی زندگی بدل نہیں رہی تو مایوسی۔حالت کوئی بھی ہو یہ سب مایوسی کی اقسام ہیں.مایوسی ایسی دلدل ہے اک قدم آپ اس میں رکھیں گے تو اگلا قدم خود اس میں جائے گا اور آپ اور اس میں دھنستے جائیں گے۔اب ان سب سے کیسے نکلا جائے؟اکثر ہم خود کو مصروف کر کے وقتی اس سے نکل آتے ہیں۔ یا کسی انسان کی باتیں ہمیں مایوسی سے نکال دیتی ہیں۔مگر ہم مستقل طور پر اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتے کیوں کہ لوگوں کی باتیں غبارے میں ہوا جیسی ہوتی ہیں۔

جو وقتی تو آپ کو مایوسی کے کنویں سے باہر نکال دیتی ہیں مگر جب ہواغبارے سے نکلتی ہے تو زمین پر لوٹ آتا ہے تو انسان پھر اسی کنویں کا محور ٹھہرتا ہےتب لوگوں کی باتیں سیڑھی تو ہوتی ہیں مگر نکلنا خود ہی ہوتا ہے۔سیڑھی پر آپ کو خود چڑھنا ہو گا کوئی گھسیٹ maکرآپکو نہیں نکالے گا۔تواب کیا کیا جائے؟سب سے پہلے جب آپ مایوس ہوں دل پریشان ہو تو اس کے لیےاللہ سے معافی مانگو۔شیطان سے پناہ مانگو خدا کی رحمت سےشیطان آپ کو مایوس کر دیتا ہے۔

تاکہ بندہ خدا کی عبادت نہ کرے۔اللہ قران میں کہتا ہےمیری رحمت سے مایوس نہ ہونا.شیطان انسان کے ذہن میں ایسا خیال پیدا کرتا ہے جو اسے مایوسی کی طرف لے جاتا ہےاور پھر انسان خودکشی کی طرف بھی چل پڑتا ہے۔کفر کے بعد مایوسی سب سے بڑا گناہ ہے۔اس صورت میں‌اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ کہتا ہے توبہ کرو۔میں سارے گناہ معاف کر دوں گا اور پھر نئی زندگی شروع کریں۔

کسی بے وفا کی محبت ستا رہی ہےکسی کام میں ناکامی ہوئی تو مایوسی کی حالت میں خود کلامی کریں۔او یہ سوچین‌ کہ آپ اتنے کمزورہیں‌ کہ بے وفا کی خاطر اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔کیا جوخواب پورا نہ ہو سکا وہ آپکا آخری خواب تھا۔کیا یہی آپ کا مقصد زندگی تھاجس کے لیے آپ مایوس ہوں اگر آپ کی سانسیں چل رہی ہیں اس کا مطلب ہےکہ آپ کا دنیا میں ہونے کی وجہ ہےآپ کی زندگی کا کوئی جواز ہےتو بس جواز تلاش کریں۔

کیوں مایوس ہیں۔کوئی انسان آخری نہیں ہوتا کوئی خواب آخری نہیں ہوتا۔زندگی رکتی نہیں ہے۔زندگی تو نام ہی غموں کو برداشت کرکےکوشش کرکے آگے بڑھنے کا ہے۔ایسا بھی نہیں اک خواب پورا ہو گیا تو بیٹھ جاؤآگے بڑھو۔

مقصد زندگی ڈھونڈیں ۔خود کلامی کریں اورخود سے سوال کریں‌۔شیطان کو اپنی سازشوں میں کامیاب مت ہونے دیں.جب تک زندگی ہے آپ مر نہیں سکتے اور جب زندگی ختم ہوئی آپ زندہ نہیں رہ نہیں سکتے۔ تو حالات کیسے بھی ہوں۔جینا تو ہے۔ تو شیر بن کر جیو۔مقابلہ کرو۔ خود کو مضبوط کرو۔سب سے بڑی موٹیویشن انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے۔اپنی ذات سے وہ انرجی حاصل کریں اور خدا سے اس کی مدد طلب کریں ۔

پھر آپ مایوس نہیں ہو ں گے.پھرآپکی وہ طاقتیں بیدار ہوں گی جو آپکوہر طوفان سے لڑنے کے لیے تیار کریں گی۔آپ ہر مشکل سے گزر جاؤگے.آپکو کسی کا ڈر نہ ہو گا۔آپ کو اپنی زندگی کا مقصد مل جائے گا۔اپنے جذبوں کو ضائع مت کرو۔

یہی زندگی ہے ۔ڈھونڈو، تلاش کرو اپنے آپ کو۔خودی میں خود کو دیکھو اور اپنے آپ سے سوال کرو کہ آپ کب ملو گے اپنے آپ سے؟کب تک باہر کی دنیا سے خوشی حاصل کرو گے۔یہ سب مل گیا تو چھن جانے کا خوف۔تلاش کرو اپنے اندر اپنے آپ کو۔جو مل گیاتو چھننے کا ڈر نہیں رہے گا۔باہر کچھ بھی نہیں رہا تو اندر ایک سکوں ہو گا۔باہر کی دنیا سے نکلو اپنے اندر کی دنیا میں جاؤ۔وہ بڑی حسین دنیا ہے۔مایوسی تو کفر ہے-

بشکریہ سٹیٹ نیوز 

.