مایا علی 

استاد کی حیثیت،اہمیت اور مقام مسلم ہے کیونکہ اساتذہ ہی قوم کی تعلیم و تربیت کا ضامن ہوتے ہیں والدین تو ہماری جسمانی تربیت کرتے ہیں مگر اساتذہ ہماری روحانی تربیت کرتے ہیں اساتذہ کی حیثیت اور اہمیت والدین سے کم نہیں بلکہ ایک لحاظ سے بڑھ کر ہے کیونکہ روح کہ بغیر جسم کچھ بھی نہیں اور روح کو جسم پر فوقیت حاصل ہے ۔۔۔یہ حقیقت ہے کہ نسلوں کی اجتماعی اور انفرادی زندگی اساتذہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس رخ پر چاہیں موڑ سکتے ہیں ۔۔۔ اللّٰہ پاک کی رہنمائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استاد اور صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد ہیں حدیث مبارکہ ہے کہ ” بیشک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں” 

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول لئے کہ” جو شخص مجھے ایک لفظ سکھاتا ہے وہ میرا استاد ہے اور میں اسکا احترام کرتا ہوں” پھر فرمایا “ہم خدا کی اس تقسیم سے راضی ہیں کہ اس نے ہمیں علم دیا اور جاہلوں کو دولت دی کیونکہ دولت عنقریب فنا ہو جاۓ گی اور علم لازوال رہے گا ” 

علم کیلئے استاد کی راۓ پر چلنا اور اسے فوقیت دینا ضروری ہے ورنہ علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔۔آپ سب جانتے ہی ہوں گے سکندر اعظم کا باپ یونان کی چھوٹی سی ریاست مقدونیہ کا حکمران تھا لیکن سکندر اعظم نے بڑا نام پاکر شہرت عام حاصل کی اس نے تقریباً آدھی دنیا کو فتح کیا حقیقت میں سکندر اعظم کی عظمت اسکے استاد اور وزیر ارسطو کی مرہون منت تھی سکندر اعظم خود کہا کرتا تھا ” میرا باپ مجھے آسمان سے دنیا پر لایا لیکن میرے استاد نے مجھے دنیا سے آسمان پر پہنچایا ”  تاریخ میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں مشہور مقولہ ہے “استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا پر بادشاہ بنا دیتا ہے ” 

یاد رکھیے دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو زیور علم سے آراستہ ہوتی ہیں اور علم اساتذہ کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں اپنے اساتذہ کی قدر کریں ۔۔۔ اساتذہ کی عظمت کو سلام

Leave your comment !