مسندِ پیارتک نہیں پہنچا ( غزل) ظہیر احمد مغل

شاعر: ظہیر احمد مغل

مسندِ پیار تک نہیں پہنچا

میں درِ یار تک نہیں پہنچا

جل گیا خواب کی حرارت سے

اشک رخسار تک نہیں پہنچا

پھول کی اہمیت نہیں سمجھا

ہاتھ جب خار تک نہیں پہنچا

عدل کو کس کا خوف لاحق ہے

ظلم کیوں دار تک نہیں پہنچا

خاک نے خاک سے کیا دھوکا

عشق اُس پار تک نہیں پہنچا


شاعر ظہیر احمد مغل


Previous post حضرت بابا عبداللہ شاہ غازی الگزریالی، تحریر- رشید شاہ فاروقی
Next post اللہ تیرا شکر، رانی کے اپنے گھر کی تکمیل ہوگئی ، جبار مرزا