تحریر:  مریم جاوید چغتائی
کیا زندگی خواہشات کا نام ہے؟  ہاں شاید خواہشیں پوری ہونا نہ ہونا الگ بات ہے مگر اک چھوٹی سی زندگی ہوتی انسان کے پاس اس میں خواہشات بھی ہونی چاہئے اور  خواب بھی دیکھنے چاہئے ایسی ہزاروں خواہشات ہزاروں خواب ہوتے انسان کی زندگی میں کہ جنہیں وہ پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا کچھ پوری ہو جاتیں اور کچھ ادھوری رہ جاتیں خواہشات کے ہونے پروان چڑھنے اور پھر پورے کرنے کا سفر بہت مشکل ہوتا بعض افراد ہار مان جاتے اور اپنے خوابوں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتے مگر کچھ باہمت لوگ جنہیں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتا خود کو منوانے کے لیے جی جان لگا دیتے آخر دم تک کوشش کرتے اور کامیابی حاصل کر لیتے
رب عزوجلﷻ نے یہی قانون بنایا ہے کہ جو وہ اپنے بندے کے حق میں بہتر سمجھتا ہے وہ اُسے دیتا ہے اور جو اُس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا وہ جی جان لگا دے مگر حاصل نہیں کر پاتا انسان کی زندگی خواہشوں اور خوابوں میں جکڑی چلی جاتی ہے کبھی نہ ختم ہونے والے خواب کبھی نہ ختم ہونے والی خواہشیں ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو انسان دوسرے کی خواہش کرتا ہے انسان خواہشوں کی لمبی فہرست دل میں لیے بیٹھا ہوتا ہاں خواب دیکھنے چاہئے خواہشیں کرنی چاہئے کیونکہ بنا ان کے زندگی میں مزہ کیا۔۔۔۔۔ ایسی کہیں خواہشات کچھ کر دکھانے کی خواہش کسی کو پا لینے کی خواہش خود کو منوانے کی خواہش۔۔۔۔۔
انسان ایسی ہزاروں خواہشات کو ایک چھوٹے سے دل میں لیے گھوم رہا ہوتا۔۔۔۔ بس کچھ خواہشات میں نے بھی کی زندگی میں کچھ خواب میں نے دیکھے اُن کے دیکھنے محسوس کرنے۔۔۔اور ہونے سے پروان چڑھنے تک۔۔۔۔ پھر پورا ہونے یا ٹوٹ جانے تک کا ایک طویل سفر طے کیا میں نے زندگی ہمیشہ سبق دیتی ہے اور ہاں میں نے زندگی میں بہت سبق سیکھے ہیں۔۔۔
بس ایسی کہیں خواہشیں جو میں نے کی زندگی میں اور الحمد اللہ کہ کچھ پوری ہوئی اور کچھ میرے حق میں بہتر نہیں تھی سو میرے رب نے مجھے اُن سے بہتر کرنے کا اُس سے اچھا ملنے کا حوصلہ دیا اللہ رب العزت نے مجھے بہتر راستہ دکھایا ہمیشہ ہی اور میں ثابت قدم رہی مجھے خوابوں کی دُنیا میں رہنا پسند ہے
 میں خواب دیکھتی ہوں
اور بے شمار دیکھتی ہوں
کبھی کبھی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کے پوری ہونے کی خوشی بہت بڑی ہوتی کسی کا ذہن اندازہ ہی نہیں کر سکتا اِس چیز کے لیے لمحے  تو وہ ہوتے ہیں  جب سایہ ساتھ چھوڑ دیتا ہے لمحے تو وہ ہوتے ہیں جب انسان کو اندر باہر سے آواز آ رہی ہوتی ہے کہ چھوڑ دے اس چیز کو تو نہیں بنا اِس کام کے لیے لمحے تو وہ ہوتے ہیں جب انسان تاریخ کے دریاؤں کا رُخ موڑنے جاتا ہے لمحے تو وہ ہوتے ہیں جب کوئی اچھا مشورہ دینے والا نہیں ہوتا صرف اللہ کی وہ پاک ذات ہوتی اور انسان ہوتا ہے اور انسان کا تفکر ہوتا ہے۔۔۔ بے شک اللہ کہتا ہے کہ اے میرے بندے پوری دُنیا گُھوم چُوٹ کھا دُھوکے کھا پھر مجھے پُکار میں حاضر بس وہی دینے والا ہے عزت بھی اور ذلت بھی سجدے لمبے کیجیۓ انشاء اللہ مُشکلیں آسان ہو جائیں گی کوئی ساتھ ہو نہ ہو اللہ رُب العزت کی پاک ذات کبھی اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتی خدارا اپنے پیاروں کو اکیلا نہ چھوڑئیے اگر ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تو پیار کے دو بول ہی کہہ دیں یقین جانیے پیار کے دو بول اُنہیں بہت حوصلہ دیں گے۔۔۔۔
اپنے پیاروں کو اکیلا نہ چھوڑیں انہیں آپ کی ضرورت ہوتی ہے چاہئے وہ عمر کے جس حصے میں ہو اُسے اپنوں کی ضرورت ہمیشہ رہتی بس یہی کہوں گی کہ خواب دیکھیں خواہشات کو پروان چڑھائیں اور انہیں ادھورا مت چھوڑیں کوشش کریں بار بار اُن کے پورا ہونے کی انشاء اللہ ایک دن منزل ضرور ملے گی-

مریم جاوید

لکھاری کا تعارف

مریم جاوید ادبی ذوق کی حامل ایک محنتی طالبہ ہیں انھیں مطالعے کے ساتھ کالم نگاری  کا بھی شوق ہے – وہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی فعال ممبر ہیں -وہ باغ آزاد کشمیر کے ایک معروف سماجی  خاندان کی چشم و چراغ  ہیں – وہ بی اے جرنلزم کرنے کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایم اے ایجوکیشن کی طالبہ ہیںوہ  اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اایل ایل بی کرنا چاہتی ہیں تاکہ بے سہاروں کی آواز بن سکیں –

Leave your comment !