منصور راٹھور
منصور راٹھور ایک ابھرتے ہوۓ شاعر، دردمند سماجی کارکن، ادبی سرگرمیوں کے روح رواں اور کشمیر کاز کے ایک جان باز مجاہد تھے – وہ پریس فار پیس کے فعال رکن اور متعدد سماجی تنظیموں سے بھی وابستہ رہے – وہ ایک شعری مجموعے کے مالک تھے –  “ چلو میں ہار جاتا ہوں“ ان کا پہلا شعری مجموعہ تھا – اپنے سچے اور سچے لفظوں کی آبیاری میں وہ اوائل جوانی ہی میں زندگی کی بازی ہار چلے۔وہ آزاد کشمیر کے سنیئر کالم نگار اورروزنامہ ‘جموں و کشمیر’ کے ایڈیٹر شہزاد احمد راٹھو راور برطانیہ میں مقیم شکیل راٹھور, راحیل راٹھور اور ڈاکٹر ذیشان راٹھور کے بھائی تھے۔

. ‏‎مرحوم نے بھری جوانی میں اپنے والد محترم جو گردوں کے مرض میں مبتلا تھے کی زندگی بچانے کیلئے اپنا ایک گردہ عطیہ کیا تھا. ایک گردہ پر زندگی بسر کر رہے تھے -گزشتہ چند سالوں سے گردہ کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے وفات سے قبل وہ چند روزشفا انٹرنیشنل ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ منصور راٹھور پریس فار پیس کے فعال رکن تھے اور  متعدد سرگرمیوں کے روحِ رواں تھے۔ تین اکتوبر 2010 کو کوٹلی  میں پریس  فار پیس کے پلیٹ فارم سے  کشمیر امن کانفرنس کا انعقاد  منصور راٹھور، ان کے دیرینہ دوست  جناب اعجاز الرحمن اور خلیل گورسی ایڈووکیٹ  کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا-

اس کے علاوہ انھوں نے لائین آف کنٹرول کے عوام کے حقوق اور امن کی بحالی کے لیے بھی متعدد کامیاب اور  موثر مہمات کا انعقاد کیا – وہ کوٹلی میں ادبی اور سماجی سرگرمیوں کے روح رواں تھے۔ اورنوشی  گیلانی،  انجم سیلمی، سعدیہ  سعدی  سمیت ملک کے بڑے شاعروں اور ادیبوں کی میزبانی کرتے  رہے۔  برطانیہ میں قیام کے دوران  عنایت اللہ عاجز کے زیر سرپرستی منصور کے اعزاز میں مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا- پریس فار پیس  کی ٹیم ان کے درجات کی بلندی اور مغفرت  ‏‎کے لئے دعا گو ہے – اللہ پاک۔مرحوم کے حسنات قبول کرے۔ ان کو جنت میں اعلی مقام دے 

ادبی شخصیات اور اداروں کا منصور راٹھور کو خراج عقیدت

عنایت اللہ عاجز

منصور راٹھور صاحب بہت ہی اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اچھے انسان بھی تھے اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے ۔۔۔ آمین

نوشی گیلانی
‏‎منصور راٹھور بھائ رخصت ہو گئے۔۔ بہت مہذب اور پُرخلوص انسان تھے۔ان کی شخصیت اور حلقۂ اثر کی وجہ سے کوٹلی شہر اپنے  گھر جیسا لگتا تھا۔۔ الفاظ ہی نہیں مِل رہے اظہار کے لئے۔
 انجم سلیمی
یاالہی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو……
کیا    بتاتے    پھریں ہم   زندگی  کرنے والے
کتنی  آسانی  سے  مر جاتے  ہیں،  مرنے  والے
چل دئے اٹھ کے وہ خاکے جو ادھورے تھے ابھی
کتنے  ہی  رنگ  ابھی رہتے  تھے  بھرنے   والے

 سعدیہ صفدر سعدی
کوٹلی مشاعرے کے بعد ان کی خلوص بھری میزبانی اور ایک نشت، پہلی اورآخری ملاقات اچھی طرح یاد ہے -بے حد نفیس اور مہمان نواز شریف النفس انسان تھے  -اللہ پاک درجات بلند فرمائے-

انگلش لٹریری سوسائٹی
سالانہ مشاعرے کے روح رواں، کوٹلی کی ادبی محفلوں کی جان، ایک بے پناہ شاعر ایک  عہد ساز شخص  ہمیں داغ مفارقت دے گیا-آپکی بے پناہ خدمات اور محبتوں کے ہمیشہ مقروض رہیں گے.حق مغفرت کرے –

منصور راٹھور کی حیات – ایک مختصر  خاکہ
پیدائش: چھ جنوری 1974 -کوٹلی آزاد کشمیر
تعلیم: میٹرک:  1990- ایبٹ آباد سکول اینڈ کالج –
ایف ایس سی- 1992-ایبٹ آباد سکول اینڈ کالج
بی ایس سی ٹیکسٹایل انجنئیرنگ – 1994- 98- نیشنل ٹیکسٹایل یونی ورسٹی فیصل آباد
ملازمت: 1998۔2000 – متعدد معروف ٹیکسٹائل فرمز میں بطور انجنئیر
ڈائریکٹر  چنار لاجیکل کنسرن

ایوارڈ ز
بیسٹ سٹوڈینٹ ایوارڈ  – ایبٹ آباد سکول اینڈ کالج  1992
گولڈ میڈل -1992
کپتان کالج ہاکی ٹیم 1992
اعتبار فن ایوارڈ


 ادبی وسماجی سرگرمیاں
  ایڈیٹر سالانہ ادبی میگزین“پر سپشن“،  نیشنل ٹیکسٹایل یونی ورسٹی فیصل آباد،  ادبی کونسل کوٹلی،  جنرل سیکرٹری فیوچر کشمیر فورم،  ہم خیال فاؤنڈیشن،  یو کے کوٹلی فاونڈیشن،  پریس فار پیس

کالم نگار قومی اخبارات
شعری مجموعہ:  چلو میں ہار جاتا ہوں-
دوسری کتاب پر کام کر رہے تھے

Leave your comment !