تحریر :-  شبیر احمد ڈار

آج کل منشیات کا استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ جو فرد کی ذہنی کیفیت ، رویے ، گھریلو زندگی، معاشرے اور قوم کو بھی تباہ و برباد کر دیتی ہے۔

نشہ جرائم کی وجہ

منشیات کا استعمال اتنی بری عادت ہے جو انسان کو جائز و ناجائز ہر برا کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ عہد حاضر میں جرائم کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ جرائم نشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں بھی یہی وجہ سامنے آتی ہے۔ خواتین بھی منشیات جیسی  لعنت کا استعمال کر رہی ہیں جو ایک المیہ ہے۔ منشیات کی سب سے پہلی سیڑھی سگریٹ نوشی ہے، جو انسان کو نشے کا عادی بناتی ہے اور بعد ازاں وہ منشیات فروشوں کے ساتھ کام کرنے لگتا اور دوسروں کو بھی نشے کا عادی بنا دیتا ہے۔

منشیات ایک زہر

منشیات میں آئس کرسٹل، حشیش، تمباکو، ہیروئین، مہنگی نشہ آور ادویات، فارما سیوٹیکل ڈرگز،شراب، چرس، پان، گٹکا، نسوار، شیشہ، چھایہ اور دیگر شامل ہیں جن کا کثرت سے  استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اس کے منفی اثرات سے بچے سے لے کر بوڑھے تک سب ہی متاثر ہیں۔

منشیات پر کنٹرول کی تجاویز

کچھ نکات ہیں میں سمجھتا ہوں ان پر عمل ہونا  بے حد ضروری ہے ملاحظہ کریں:

١ ۔ نشہ آور اشیاء فروخت کرنے والے نہ صرف معاشرے کے بل کہ نوجوانوں کے بھی مجرم ہیں۔ لہذا  دکان دار حضرات سے گزارش ہے کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش نشے کے کاروبار سے نہ کریں ذمہ دار شہری ہونے اور بہ حیثیت مسلمان  ہم سب کی زمہ داری ہے کہ نشہ آور اشیاء کو خریدنے اور فروخت کرنے سے گریز کریں۔

٢ ۔ منشیات کے استعمال کی وجہ سے جامعات کے طلبہ حلق کی خرابی، جسمانی معذ وری، جگر کی خرابی، معدہ کا زخم، فاسد خون، کھانسی، بیماری،  ضعف اعصاب، سر درد، گردوں کی خرابی، کینسر اور دیگر مہلک مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں لہذا منشیات فروشوں کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لائے جائیں۔  انھیں کم از کم  ٢٥ سال قید بامشقت اور بھاری جرمانہ کیا جائے ۔

٣ ۔ سگریٹ اور نسوار کو ہمارے ہاں نشہ آور نہیں سمجھا جاتا جب کہ یہ سب سے زیادہ خطرناک ہیں یہیں سے نو جوان نشہ کے عادی بن جاتے لہذا ٢٥ سال سے کم عمر افراد کو اس سے دور رکھا جائے تا کہ وہ نشے کا عادی نہ بنے۔

٤ ۔ نابالغ بچوں کو نشہ آور اشیاء دینے پر دکان دار کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔

٥ ۔ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کے مشاغل کیا ہیں؟ شام کو گھر سے باہر ہر گز نہ نکلنے دیں۔ اور اپنے بچوں کو منشیات جیسی لعنت سے دور رکھیں اور اس کے منفی اثرات سے آگاہ کریں .

٦ ۔ ملک کی سماجی، سیاسی و مذہبی تنظیموں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد، ڈاکٹرز، اساتذہ، طلبہ اور والدین کو چاہیے کہ منشیات کی لت  کے خاتمے کے لیے اپنی اپنی اپنی سطح پر کوشش کریں۔

٧ ۔ آزاد کشمیر میں کوئی بھی منشیات فروش نظر آۓ تو انتظامیہ سے فوراً 05823.930013 پررابطہ کریں۔


آئیں مل کر عہد کریں خود بھی منشیات کی لعنت سے پاک رہیں گے اور اپنے گھر کو بھی منشیات کی لعنت سے پاک رکھیں گے۔ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں