تحریر : سردار محمد حلیم خان

hjrat786@gmail.com

کنک منڈی گنج منڈی سبزی منڈی بکرا منڈی ہیرا منڈی کا نام تو آپ نے سن ہی رکھا ہے لیکن آزاد کشمیر میں اس وقت جس منڈی میں سب سے ذیادہ بھیڑ ہے وہ ہے ضمیر منڈی۔اس منڈی کے بھاو عروج پر ہیں۔پانچ برس ایک کھونٹے سے بندھے ضمیر اچانک بکنے کے لئے بیتاب ہو گے ہیں یوں تو ہر الیکشن کے موقع پر ضمیر منڈی میں کاروبار عروج پہ رہتا ہے لیکن اس مرتبہ تبدیلی یہ ہے  کہ اس منڈی میں زیادہ مال اس قبیل سے ہے جسے لیڈرز کہتے ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کا بس ایک ہی نظریہ رہ گیا ہے اقتدار۔اقتدار تو سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے پروگرام اور نصب العین پر عمل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے لیکن یہاں سارے نظریے صرف اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہیں۔جب سیاسی جماعتوں کا نظریہ بحیثیت مجموعی اقتدار بن جاتا ہے تو ان کے کارکنان بلکہ لیڈروں کا نصب العین بھی صرف اقتدار تک پہنچنا رہ جاتا ہے۔پارٹیاں اتحاد کرتے وقت کسی اصول قاعدے اور قدر مشترک کی بجائے صرف در اقتدار تک رسائی کو منزل بنا لیں گی تو ان کے کارکنان کیوں کر نظریاتی ہوں گے۔

لیکن حیرت تو اس بات پہ ہوتی ہے جب وہ پاور پالیٹکس کی علمبردار پارٹیوں کے رینما اپنی پارٹی کی کشتی کو بھنور میں دیکھتے ہی اس پارٹی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں جسے کل تک گندی گالیوں سے نوازتے ہیں۔اور اس سے بھی بڑی حیرت ان پہ ہوتی ہے جو ان گالیوں سے بدمزہ ہوے بغیر ان موسمی پرندوں کو گلے لگانے کے لئے بیتاب ہوتے ہیں یہ جانتے ہوے بھی کہ ان کا پڑاو صرف موسم بدلنے تک ہے۔اسی تسلسل میں کل تک نواز شریف کو نجات دہندہ اور عمران خان کو فوج کی طرف سے مسلط شدہ سمجھنے والے اپنی سابقہ تقاریر کو بھول کر اگر اسی چوکھٹ پہ سجدہ ریز نظر اتے ہیں اپنی وزارتیں مشاورتیں اور جھنڈیاں نواز شریف کی جوتیوں کا صدقہ قرار دینے والے وزراء کو اگر راتوں رات یہ خواب ایا کہ عمران خان ہی وہ ولی کامل ہیں جن سے ملاقات کا شرف دنیا و اخرت میں بھلائی کا ضامن ہے تو عوام سے کیا شکوہ۔سیاسی لیڈر کہلوانے والے کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اتنی پارٹیاں بدلے چکے ہیں کہ ان میں سے کئی کے کارکنان کے گھروں اور قرب و جوار میں لگے پرانے جھنڈے اور دیواروں پر مدح سرائی والے پرانے پوسٹرز ابھی باقی ہوتے ہیں کہ یہ نئی پارٹی کا مفلر پہن کر رونما ہو جاتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے پاس چونکہ منشور تو کچھ ہے نہیں وہ واحد میرٹ اپنا الیکشن مہم میں یہ عوام کے سامنے رکھتے ہیں کہ پاکستان میں ہماری حکومت ہے بارہ سیٹیں پکی ہیں اور یہ سنتے ہی ضمیر پر برائے فروخت کا بورڈ سجا رکھنے والے پکے ہوے پھل کی طرح ان کی جھولی میں ا گرتے ہیں۔اگر آپ کو کسی پارٹی کا منشور پسند ہے اس کے نظریے کو پسند کرتے ہیں تو ضرور اس کا حصہ بن کر عوام کی خدمت کریں لیکن جو لوگ پارٹی سے اختلاف رکھتے ہیں اس کے لیڈروں کو برا بھلا کہتے رہے لیکن اس کے باوجود اس پارٹی میں آس لئے شامل ہو رہے ہیں کہ کچھ فوائد متوقع ہیں وہ اسمبلی کی ممبری ہو کوئی ملازمت یا کوئی ترقیاتی منصوبہ تو ایسے لوگوں کا کردار آغاز میں بیان کردہ  منڈیوں کی آخری قبیل سے بھی بدتر ہے۔2016کے الیکشن میں جس میں خود بھی امیدوار تھا پاکستان کے  ارباب اقتدار سے یہ گذارش کی تھی کہ آزادکشمیر ایک حساس خطہ ہے یہاں ضمیر کی خرید  وفروخت کے کلچر کو فروغ نہ دیں۔یہاں نظریاتی طور پر پختہ فکر کے لوگوں کی ضرورت ہے جو تحریک آزادی کے ناقابل شکست سپاہی ثابت ہوں نا کہ نوٹوں کی چمک یا نوکری کھمبے ٹوٹی اور سڑک پر ڈھیر ہونے والے چڑھتے سورج کے پجاری۔ورنہ بھارت کی معیشت ذیادہ مضبوط ہے۔تب کے خریداروں کو یہ بات سمجھ میں نہ ائی تھی اج وہ رو رہے ہیں کہ ان کے لوگ ٹکٹ سمیت رسہ تڑوا ک بھاگ رہے ہیں۔آج کے خریداروں کو بھی کل یہی شکوہ ہو گا۔ عوام کو بلیک میل کرنے کا سب سے بڑا انسٹرومنٹ مہاجرین کے نام پر بارہ نشستیں بھی ہیں جو ہر سطع پر ضمیر فروشی کا بڑا محرک بنتی ہیں۔الیکشن میں جبکہ صرف چار ہفتے باقی رہ گے ہیں مہم چلانے والوں کو اپنے انجام کی خبر ہو چکی ہے لہذا کم ازکم ان نشستوں کو ختم کر کے ضمیر فروشی کے کلچر کو روکنے کا فیصلہ کریں