کتاب : ” دھنک کے رنگ سارے”

شاعرہ : شکیلہ تبسم

تبصرہ نگار :  پروفیسر ملک یوسف 

آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ کی حسین وادیوں اور خوبصورت نظاروں میں پروان چڑھنے والی ایک بھولی بھالی سی لڑکی جو حسن سیرت و کردار کے لحاظ سے بے مثال اور اپنی شکل و صورت میں بمثل حوران جنت شکیلہ و رعنا اور اپنی شاعری کے اعتبار سےایک ابھرتی ہوئی با کمال شاعرہ ہے۔

جس کی شاعری کو پڑھ کر احساس ہوا کہ اس قدر دور افتادہ علاقے سے تعلق کے باوجود،جہاں فن شعر سے بہت کم لوگ آشنا ہیں،ایک ایسی باکمال اور پختہ کار شاعرہ کا ہونا کسی معجزے سے کم نہیں۔

ویسے بھی شاعری ایک ایسا فن ہے جو اکتسابی نہیں بلکہ وہبی ہے،اور قدرت کی ودیعت کردہ ایک ایسی صلاحیت ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی،یہ عطیہ خداوندی ہے جسے مل جائے اس کے کیا کہنے۔

شکیلہ تبسم بہن کی نظموں اور غزلوں پر مشتمل کتاب “دھنک کے رنگ سارے” پڑھ کر مجھے قدم قدم پر حیرت و استعجاب کے عمیق سمندر میں غوطہ زدن ہونا پڑا،میرے خیالات سے کہیں بڑھ کر ان کی یہ شاعرانہ مساعی ہے جس کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے اور اس میں مبالغہ ہرگز نہیں۔

شاعری ایک ایسا فن ہے جس کے متعلق زیادہ تر مروجہ نظریات شاعر کو ایک ایسے شخص کے طورپر پیش کرتے ہیں جو حقیقی زندگی سے الگ تھلگ تخیلات کی بے کنار وادیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جب وہ حقیقی دنیا میں واپس آتا ہےتو اپنے اندر کے شاعر کو وہیں چھوڑ آتا ہے گویا اس کے اندر موجود شاعر کو اس کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور اس کی حقیقی زندگی کا اس کی شاعری سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا ،میرے خیال میں معاشرتی زندگی میں شاعر کو کئ طرح کے  سماجی کردار ادا کرنے ہوتےہیں اور اس کی شاعری اس کےان سماجی کرداروں کو متاثر کرتی ہے اور اس کے  ساتھ کئی اور سماجی کردار جڑے ہوتےہیں جو اس کی شاعری پر اثر انداز ہوتےہیں۔

ایسا ہی کچھ شکیلہ تبسم کے ساتھ بھی ہوا،شو مئ قسمت کہ شکیلہ تبسم جس معاشرے کی پروردہ ہیں وہاں رسم و رواج اور روایات کی پاسداری ہی عزت و تکریم کا باعث سمجھی جاتی ہے اور چے جائیکہ کوئی ان روایات سے بغاوت کرے اور روایت شکنی کا مرتکب ٹھہرے،پھر اس کا کیا حشر ہوگا یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔

چنانچہ “دھنک کے رنگ سارے“بھی اس روایت شکنی اور بغاوت کا ہی پیش خیمہ ثابت ہوئی،لیکن افسوس صد افسوس شکیلہ تبسم کی مساعی جمیلہ کی وہ قدر شناسی، تحسین و آفریں اور پذیرائی نہ  ہو سکی۔۔ 

جس قدر کہ وہ  اس کی مستحق تھیں، بلکہ سماج نے اس ابھرتی ہوئی شاعرہ کے ساتھ انتہائی ناانصافی کی،وگرنہ ابتک نہ جانے کتنے ہی شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہوتے۔

دراصل غزل کی روایت ہی ایسی ہےکہ محبوب سے اظہار عشق،معاملہ بندی چیھڑ چھاڑ،لب و رخسار،زلف و کاکل کی باتیں،حسن و عشق اور گل و بلبل کے قصے اس کا لازمی حصہ ہیں۔ 

اس کے بغیر غزل روکھی پھیکی بے مزہ (جیسا کہ مولانا حالی پر الزام ہے ہر چند کہ الزام محض الزام کی حد تک ہے) گویا عشق کی آنچ اور محبت کی چاشنی کے بغیر غزل کے دامن میں باقی کیا رہ جاتاہے یہی وجہ ہےکہ شکیلہ تبسم اپنی غزل میں اس کا بھرپور مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہیں،پھر سماج کی طعن و تشنیع سے دامن کیسے بچا سکتی تھیں مگر انہوں نے ایک شاعرانہ رندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روایت کی پاسداری کی اور اس کی پاداش میں ان کے جیسی با کردار اور سعادت مند،سلیقہ شعار خاتون کو بھی بھاری قیمت چکانا پڑی اور اپنی آرزوؤں کا خون کرتے ہوئے اپنے اندر کی شاعرہ کا گلہ خود اپنے ہی ہاتھوں گھونٹنا پڑا۔۔۔۔ اس حوالےسے ایک اور خاتون شاعرہ کہتی ہیں کہ” معاشرے کے جس طبقے سے میرا تعلق ہے اگر اس میں اتنی زیادہ معاشرتی اور سماجی پابندیاں نہ ہوتیں تو اب تک میری  شاعری کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہوتیں

جن احباب نے شکیلہ تبسم کی کتاب “دھنک کے رنگ سارے” پڑھی ہے وہ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ کس قدرخوبصورت انداز میں لفظوں کو شعر کے سانچے میں ڈھالنے کی سعی کی گئی ہے اور اگر وہ شاعری سے منہ پھیر لیں گی تو نہ صرف وہ اپنے ساتھ زیادتی کریں گی بلکہ قارئین کے ساتھ بھی نا انصافی کی مرتکب ٹھیریں گی

شکیلہ تبسم بلا شبہ شعر وسخن کی اقلیم کا ایک ابھرتا ہوا نام اور ایک رخشندہ و در خشندہ ستارہ ہیں جو سرزمین آزاد کشمیر کی آبرو ہیں۔ آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں کی سر زمین پر اردو زبان کی مختلف اصناف کے پیڑوں کا گلستان سجانا اور ان پیڑوں کی شاخوں پر غزل و نظم اور نثر کے پھول مہکانہ کوئی آسان کام نہیں ،جسے انہوں نے بڑی جرآت مندی سے کیا۔

شکیلہ تبسم کی شاعری اور نثر پر روشنی ڈالنے کے لیے ایک ضخیم کتاب درکار ہے لیکن میں فی الحال زیر مطالعہ کتاب “دھنک کے رنگ سارے” پر روشنی ڈالتے ہوئے یہی کہوں گا کہ یہ ایک خوبصورت شعری مجموعہ ہے جس میں غزلیات کے ساتھ نظموں کو بھی شامل کیا گیا ہےاور ان کی مثال خوبصورت مرقع کی ہے جس میں طرح طرح کی تصویریں بصورت نظم و غزل ہمیں دکھائی دیتی ہیں۔

شکیلہ تبسم خوبصورت جذبو ں اور نازک احساسات کی شاعرہ ہیں جس کے ہر شعر کی مثال صاف و شفاف شبنم کے قطروں کی سی ہے جو موتیوں کی صورت کتاب کے مختلف صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں،ان حسین و جمیل پھولوں کی سی ہے جن کی مہک سے” دھنک کے رنگ سارے”معطر ہیں۔

خوبصورت تشبیہات و استعارات جو اردو شاعری کے لوازمات ہیں ان کا استعمال اگرچہ بھرپور انداز میں نہیں کیا ،لیکن جہاں کہیں بھی کیا بہت عمدگی سے کیا ہے۔

بعض اوقات وہ ایک ہی تسلسل اور روانی میں غزل کے تمام شعر کہہ دیتی ہیں اور یوں ایک پورا منظر آ رکھوں کے سامنے گھوم جاتاہے بد قسمتی سے میں ان اشعار کو بطور مثال استعمال کرنے سے دانستہ گریزاں ہوں کیونکہ فیس بک کا دامن اس کی اجازت نہیں دیتا،تاہم انہوں نے خیالات کے سلسلے کو جس خوبصورتی سے برقرار رکھا ہے وہاں پر ہر شعر دوسرے سے منسبط نظر آتا ہے کہیں جھول یا خیالات کی بے ترتیبی نظر نہیں آتی۔

شکیلہ تبسم دل سے محسوس کرتی ہیں اور دماغ سے سوچتی ہیں مگر وہ فیصلہ دماغ کے بجائے دل سے کرتی ہیں اسی لیے دل کی حساسیت کے باوجود ان کی بات اور ارادے میں کمزوری اور شکستگی نظر نہیں آتی بلکہ وہ سامنے والے سے استفسار بھی وثوق اور دلیری سے کرتی ہیں،گلہ شکوہ بہت کم کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

مجموعی طور پر موضوعاتی لحاظ سے شکیلہ تبسم کی شاعری گداز جذبوں،محبتوں اور نرم رویوں کی شاعری ہے ان کی سوچ کا ہر دھاگہ محبت کے مضبوط بندھن سے بندھا ہوا ملتا ہے مگر محبت کے جواب میں انہیں مثبت جواب نہیں ملتا ہے،یہ ایک المیہ ہے۔

میرے خیال میں شکیلہ تبسم کو کشمیر کی پروین شاکر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔مجھے امید ہےکہ وہ اپنے ترک شاعری کے فیصلے پر نظر ثانی ضرور کریں گی،اور مسلسل مشق سخن ان کی گفتار کی روانی اور سوچ کے نکھار میں اضافہ کا باعث بنے گی۔