میں اپنے نبی ﷺ کےکو چے میں

چلتا ہی گیا ، چلتا ہی گیا !

اک خواب سے گویا اٹھا تھا

کچھ ایسی سکینت طاری تھی

حیرت سے آنکھوں کو اپنی

ملتا ہی گیا ، ملتا ہی گیا !

جب مسجد نبوی کو دیکھا

میں روضہ جنت میں پہنچا

جس جاہ وہ مبارک چہرے کو

اشکوں سے اپنے دھوتا تھا

جب دنیا والے سوتے تھے

وہ اُن کے لیے پھر روتا تھا

اک میں تھا کہ سب کچھ بھول رہا

اک وہ تھا کہ امت کی خاطر

کتنے صدمے اور کتنے الم

جھلتا ہی گیا ، جھلتا ہی گیا!

طائف کی وادی میں اترا 

طالب کی گھاٹی سے گزرا

اک شام نکل پھر طیبہ سے 

میدان احد میں جا بیٹھا

واں پیارے حمزہ کا لاشہ

جب چشم تصور سے دیکھا 

عبداللہ کے شہزادے کو

اُس دشت میں پھر بسمل دیکھا

یہ سارے منظر دیکھ کے میں

پھر رہ نہ سکا ِ کچھ کہہ نہ سکا !

بس دکھ اور درد کے قالب میں

ڈھلتا ہی گیا ، ڈھلتا ہی گیا !

میں کیا منہ لے کر جاؤں گا؟

کوثر کی طرف جب آؤں گا !

تلوار میں میری دھار نہیں

تعلیم ِ دین سے پیار نہیں 

باتوں میں میری سوز کہاں ؟

کتنے ہی پیماں توڑ چکا

میں رب کی یاد یں  چھوڑ چکا

اک ایک مرا ، پھر جرم مجھے

کَھلتا ہی گیا ، کَھلتا ہی گیا !

پھر لوٹ کے جب میں گھر آیا

اک شمع ساتھ ہی لے آیا

یہ حب سنت ﷺ کی شمع 

جس دن سے فروزاں کی میں نے 

اُس دن سے میں پروانہ بن کر

جلتا ہی گیا ، جلتا ہی گیا !