تحریر -سید مظہر گیلانی
واقعہ معراج دنیا میں رہنے والے انسانوں پر اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم  کی شان و مقام اور اپنی قدرت کو عیاں کرنے کا ایک مظہر تھا۔’’ وہ ذات” (ہر نقص اور کمزوری سے)پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے (اس) مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنادیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل،الاسراء)
معجزات نبوت کا لازمہ ہیں۔تمام انبیائے کرامؑ کو انفرادی طور پر مختلف نوع کے معجزات دیے گئے۔ یہ مظاہر خلافِ عادت تو ہوتے ہی ہیں مگر  یہ مظاہر ارضی یا انسانی کیفیات کی تبدیلی سے متعلق ہوتےہیں مثال کے طور پر چشموں کا جاری ہو کر دریاؤں کا راستہ دے دینا، عصا کا سانپ بن کر دیگر سانپوں کو نگل لینا،کوڑھ کے مریض کا تندرست ہونا. مُردوں کا جی اٹھنا اور پہاڑی سے اونٹنی کا برآمد ہونا۔یہ تمام معجزات قافلۂ نبوت کے اعلیٰ سواروں کو دیے جاتے رہے ہیں مگر اس عظیم الشان قافلے کے بے مثل سالار اعظم نبی کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم کو بہت سارے معجزات کے علاوہ جو دو محیرالعقل معجزات دیے گئے وہ فضا و آسمان کا تصرف ہیں- ان میں سے ایک کو ’’واقعہ شق القمر‘‘ اور دوسرے کو ’’معراج النبی؛؛کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔انگلی کے ایک اشارے سے چاند کو  دو ٹکڑوں میں بانٹ دینا رب کائنات کا حکم اور اس کے  حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کی شان کے سوا اور  کیا ہے۔ ایمان نہ لانے والے تو تب بھی نہ لائے جب اپنی آنکھوں سے چاند کو دو  ٹکڑوں میں بٹ کر مختلف سمتوں میں سفر کرتے ہوئے  دیکھا۔ان ٹکڑوں کا پھر سے ملنا دیکھا قافلوں کی گواہیاں سنیں مگر حاسدین منکرین اور کافرین  جادو جادو پکارتے رہے۔دیکھے ہوئے معجزے پر جب یہ ردعمل تھا تو ظاہری بات  ہے  ان دیکھے پر اعتبار ناممکن تھا۔ جنہیں ساری عمر صادق و امین  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ  وآلہ وَسَلَّم پکارتے رہے۔بدترین دشمنی اور بغض و عداوت رکھنے کے باوجود اپنی امانتیں انہی کے سپرد کرتے رہے- جب وہی صادق و امین صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ و آلہ وَسَلَّم اپنے سفر معراج کی روداد اللہ کی دکھائی ہوئی نشانیوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو

 ( نعوذباﷲ) حاسدین منکرین اور کافرین کی طرف سے جھوٹ جھوٹ  صدائیں بلند ہونے لگتی  ہیں۔
 عدم سے وجود پانے
 ناچیز سے چیز ہونے والے
 ان گونگے بہرے انسان نما جانوروں کو اپنی ذات میں اپنی تخلیق میں کبھی اپنے رب کی قدرت نظر آئی ہوتی تو رب کے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم سے ان کے اس سفر کے دورانیے۔ان کی سواری کی رفتار کی بابت تمسخر نہ کرتے۔مادیت پرستی کے پرچارک تسکین نفسانی کے دل دادہ بس جسم کی کثافتوں کی دلدل میں ہی گھرے  دبے اور الجھے  رہے۔ انہوں نے کبھی روحانی لطافتوں کو اپنے لطیف و خبیر رب کی قدرت کو اپنی ہستی کے ذرے ذرے میں پرکھا ہی کب تھا۔ وہ محدود عقل رکھنے والے مچھر کے پر سے حقیر دنیا کے طلب گار-لامحدود قدرت سماعت و بصارت رکھنے والے رب کی نشانیوں اس کے احکام کو جھٹلانے والے اور اس کے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کو ایذا دینے والے یقینا بے پروا تھے- اپنے دردناک انجام سے دوزخ کا ایندھن بننے سے سرکشوں غافلوں کا کام محض جھٹلانا  ہی ہوتا ہے۔ حق سے منہ موڑنا  ہی ہوتا ہے کیوں کہ ان کے دل مُہرزدہ اور عقل قفل زدہ ہوتے  ہیں۔
سالار انسانیت حضور اکرم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ  وآلہ وَسَلَّم  کو ایذا دینے میں سبقت لے جانے والے آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ  وآلہ وَسَلَّم  کی نبوت و معجزات کو جھٹلاتے تھے۔ آپؐ کے سفر معراج نور ازل و ابد کی تجلیات کی جلوہ بینی کو جھٹلاتے تھے۔ مگر رب کائنات کو اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم  کی افسردگی کہاں گوارا تھی جب جب دشمنوں نے چراغ نبوتؐ کو اپنی سرکش فطرت کی مبغوض لہروں کی زد پہ رکھنا چاہا تو اللہ رب العزت  نے تسلی و تسکین قلب کے لیے انعام و اکرام کی بشارتوں  کی بارشوں کے ذریعے اپنی رحمتوں کے حصار میں لے کر چراغ نبوی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کی لو کو یک سر بچا لیا بلکے اور بڑھا دیا اور بلند سے بلند تر کر دیا ۔تکذیبِ معراج کے وقت بھی رب نے اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کول تنہا نہیں  چھوڑا۔
 اپنی آیات کے ذریعے معراج نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کی تصدیق کی۔ ان کی حق پرستی و حق گوئی کا اعلان کیا۔
اپنی طرف سے انہیں علم دیے جانے کا ذکر کیا اوردنیائے انسانی کو بتایا کہ آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  نے تجلیات جلوہ کو ملاحظہ فرمایا۔
 اپنے اور اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کے قرب و تعلق کو جتایا اور یہ بھی کہ وہ جلوہ انہوں نے ایک بار نہیں دیکھا بلکے
 دو بار دیکھا۔ انسانوں سے سوال کیا کہ کیا ان کے دیکھے پر جھگڑتے ہو؟؟؟؟؟
 اور اس ملاحظہ کرنے والی آنکھ کی ستائش کہ نہ پھری نہ حد سے بڑھی اور اپنی نشانیاں (جنت و دوزخ کے مناظر) دکھائیں۔ترجمہ:
 ’اس پیارے چمکتے تارے کی قسم جب یہ اترے۔تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔ اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے  مگر جو وحی انہیں کی جاتی ہے- انہیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقت ور نے پھر اس جلوے نے قصہ فرمایااور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا- پھر خوب اتر آیا تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا- بلکہ اس سے بھی کم۔اب وحی فرمائی اپنے بندے کو،جو وحی فرمائی  دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا تو کہا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو بار دیکھا سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اس کے پاس جنت الماوی ہے جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا  آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی بے شک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔
(سورۃ النجم: 1-18 حضرت موسیٰ  علیہ سلام جب  تجلیات ربانی کی جلوہ نمائی کے طلب گار ہوئے کوہ طور کی جانب متوجہ رہے جب تجلی کی اِک جھلک طور پر برسی تو آپ  پر بے ہوشی طاری ہوگئی  مگر سورۂ نجم کی ان آیات میں اللہ اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم کی چشم پُرنور کی ستائش فرماتا ہے کہ
. . .   وہ آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی سبحان اللہ-اس واقعے کو ایک طرح سے لوگوں کے لیے آزمائش -ایمان والوں اور ظاہر بینوں کے درمیان تفریق بنادیا ہے۔ترجمہ:
’’ اور ہم نے تو (شب معراج کے) اس نظارے کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لیے صرف ایک آزمائش بنایا ہے۔ (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے)(بنی اسرائیل)اس پرنور سفر کا پہلا مرحلہ ’’اسرا‘‘ کہلاتا ہے جو مکۃ المکرمہ سے بیت المقدس تک کی سیر کا ہے وہاں انبیائے کرامؑ کی امامت کے بعد اگلا مرحلہ بیت المقدس سے عرش بریں تک کا سفر تھا جسے  ’’معراج‘‘
کہا جاتا ہے- تمام انبیا و رسلؑ کا آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کی امامت میں نماز ادا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم سید الانبیا و رسل ہیں۔ اس کے بعد آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم  یکے بعد دیگرے ساتوں آسمانوں تک اور پھرسدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لے گئے۔مختلف آسمانوں پر بزرگ و برتر انبیا ئے کرامؑ سے ملاقات ہوتی رہی۔ جن میں سیدنا آدمؑ، حضرت یحییٰؑ،  حضرت عیسیٰ ؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت ادریسؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت موسیٰ ؑ اور سب سے آخر میں اپنے جد امجد سیدنا  حضرت ابراہیمؑ  علیہ سلام سے ملاقات ہوئی۔ان تمام انبیائے کرامؑ سے ملاقات کرنے اور ان کی دعائیں سمیٹنے کے بعد آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  نے جنت و دوزخ کے مناظر کا مشاہدہ کیا۔ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے تو جبرائیل امینؑ نے مزید پیش قدمی سے عجز ظاہر کردیا۔ چنانچہ وہ منزل آپہنچی جو عرشِ بریں پر تجلیات انوار ربانی سے حبیب کو مزید منور کر گئی۔ جس کے لیے اقبال فرماتے ہیں :
معراج کا سفر عظمتوں والے رب کی مہمان نوازیوں کا ایک پرنور و دل نواز سلسلہ ہے جس کا آغاز اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کی طرف ایک عالی شان قاصد اور شان دار سواری بھیجنے سے ہوا اور اس سفر کا منتہیٰ اپنی تجلیات کا دیدار کرانا اور اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کی امت کے لیے تین بہت خصوصی تحائف کا دینا تھا۔
یہ تین تحائف اللہ کا خصوصی کرم ہیں۔
(1)     پچاس نمازوں کا فرض ہونا ( بعد میں جن کی تعداد امت کی آسانی کے لیے پانچ کردی گئی)
(2) سورۂ بقرہ کی آخری آیات۔
(3) اور تیسری چیز  بغیر توبہ کے بھی گناہوں کا معاف کیا جانا۔
ان تحائف میں اولین صلوٰۃ ہے۔ یہ معراج میں فرض ہوئی اس لیے فرمایا گیا کہ ’’الصلوٰۃ معراج المومنین‘‘ نماز اہلِ ایمان کے لیے بہ منزلۂ معراج ہے۔یہ تمام تحائف لے کر جب آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم  دنیا میں لوٹے تو وقت کی نبض نے پھر رفتار کی ڈور تھامی اور نظام کائنات کو روانی ملی۔واقعۂ معراج اور اس کی تفصیلات کی گونج جب مکہ کی فضاؤں میں پھیلی تو  منافقین حاسدین اور مشرکین مکہ کو ہرزہ سرائیوں کا ایک موقع ہاتھ آگیا ان کی جانب سے سوالات شروع ہوگئے  کہ مسجد اقصیٰ کے ستون کتنے ہیں؟؟؟؟ وہاں کی کھڑکیاں کیسی ہیں؟ ؟فرش کیسا ہے؟؟؟اللہ تعالیٰ نے اچانک آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کے سامنے مسجد اقصیٰ کو ظاہر کردیا اور آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم نے دیکھ دیکھ کر ان تمام سوالوں کے جوابات دیے۔حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم  سے خود سنا: ’ جب مجھ کو قریش نے (واقعۂ معراج) پر جھٹلایا تو میں حجر میں کھڑا ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے ظاہر فرمایا۔
میں نے ان کو اس کی نشانیاں بتانا شروع کردیں اور میں ان کو دیکھتا جاتا تھا۔‘ (بخاری و مسلم)اس واقعہ کے بعد کا ایک اہم پہلو،
مرحلہ تصدیق یعنی صدیقؓ اکبر  بھی ہیں۔ مشرکین مکہ نے حضورؐصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم کی زبانی تذکرۂ معراج سنا تو چند ایک عجلت میں
 صدیق اکبرؓ کی بارگاہ میں پہنچے کہ آپ کے نبی اور دوست صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  یہ فرما رہے ہیں۔ وہ اپنی دانست میں رفیق رسولصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ  وآلہ وَسَلَّم  کو متزلزل کرنے کی کوشش کررہے تھے مگر تب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے جب یار غارؓ نے فرمایا کہ لوگو! اگر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم یہ   کہہ رہے ہیں تو سو فی صد سچ کہہ رہے ہیں میں یہ مانتا ہوں کہ روزانہ آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم  کے پاس فرشتہ آتا ہے اور اگر ایک مرتبہ آپؐ کو آسمان پر لے جایا گیا تو یہ کون سی بڑی بات ہے، میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔‘‘ اسی دن آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کو بارگاہ رسالت سے صدیق  اکبر کو صدیق کا خطاب ملا۔رویت باری تعالیٰ سے متعلق دور روایات ہیں۔ جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  نے فرمایا : ’’ تم اپنے رب کو عیاں دیکھو گے۔
‘‘ایک اور روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْه وآلہ  وَسَلَّم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہوئے فرمایا: ’ تم اپنے رب کی طرف دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں
کرتے اگر تم اس بات کی طاقت رکھو کہ تم سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھنے سے مغلوب نہ کردیے جاؤ تو ایسا ضرور کرو۔ پھر یہ آیت پڑھی:’’ اور تسبیح بیان کرو اپنے پروردگار کی سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے۔‘(بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد)رب جلیل کی قوتِ تخلیق اور قدرتِ تصرف کو ہماری عقل کی محدود رسائی نہ جان سکتی ہے نہ کبھی  اس کے اسرار پاسکتی ہے۔
 حیرت کدۂ دھیر میں ان معجزات یا ماورائے عقل واقعات کا تسلسل ہے—عقل عاجز ہےمحدود ہے اور ان معجزات کو سمجھنے میں یک سر عاجزیہ واقعہ معراج دنیا میں رہنے والے انسانوں پر اپنے حبیبصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ  وآلہ وَسَلَّم  کی شان و مقام اور اپنی قدرت کو عیاں کرنے کا ایک مظہر تھا— اور اصل عطائے ربانی ابھی باقی ہے کہ جب
 یوم حشر میں تمام مخلوق ذلیل و رنجور حالت میں ندامت سے سر جھکائے کھڑی ہوگی اور اللہ  پاک اپنے چنیدہ بندوں کو اپنی رحمت و مغفرت کی خلعت عطا فرمائے گا اور سب سے بڑھ کر اپنے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم  کی شان لوگوں پر عیاں کرتے ہوئے حق شفاعت دے کر وسیلہ و مقامِ محمود پر سرفراز فرمائے گا-اللہ رب العزت  کی ہم پر کروڑوں رحمتیں ہیں بے حد بے حساب کہ اس نے ہمیں حضور اکرم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم کی امت میں پیدا فرمایا –
ایسے ہی  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ  وَسَلَّم پر چلنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے آمین ثم آمین