اسرار احمد، نکیال ( حال مقیم گلف)

اقوام کی ترقی کا راز اُن کی مادری زبان، اُن کی تہذیب و ثقافت رسم و رواج می‍ں پنہاں ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنی تاریخ سے دُور ہو کر تقسیم ہوئے، اور محکومی پہ فخر کرنے لگے۔ ہمارا بنیادی تعلیمی نصاب ہمیں انگریزی الفاظ کے معنی و مفہوم سکھانے میں ہماری خداداد صلاحیتوں کو ضائع کر دیتا ہے۔

ہم ملازمت کے حصول کے لیے  خوب رٹہ لگا کر ایک نوکر بننے تک اَسناد کے اَنبار لگا دیتے ہیں۔ یورپ چلے جائیں تبھی نوکر، عرب ممالک نکل جائیں تبھی نوکر، الغرض نوکری کے حصول تک ہماری ساری کاوشیں اس وقت دم توڑ جاتی ہیں۔ جب ہمارے پاس انگریزی بولنے کے علاوہ کچھ پاس نہیں رہتا۔ ظاہر ہے صرف انگریزی بولنا کافی نہی‍ں۔ آپ کے پاس ہنر ہو، ترقی کے لیے آپ کے پاس کونسی صلاحیتیں ہیں؟

آج ہم اگر صرف چین کی ہی بات کریں، تو چینی باشندوں کا تعلیمی نصاب اُن کی اپنی زبان میں ہے۔ وہ انگریزی بولنا تو نہیں جانتے۔ وہ انگریزی سے واقف تو نہیں، البتہ دنیا بھر میں اُن کی مصنُوعات فروخت ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ معاشی طور پر مضبوط ترین قوم کے طور پر اُبَھر کر دنیا بھر می‍ں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔

مگر ہماری بدقسمتی ہم انگریز کو تباہ و برباد کرنے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ اُن کی مصنُوعات استعمال کر کے ہم فخر کرتے ہیں ۔ ہم نے ترقی کی منازل طے کر لیں۔ مگر بے شک ہم اسکول کے پاس سے نہ گزرے ہوں ہم انگلش کے پہلے  E کو لکھ نہ سکتے ہوں،۔ مگر ہم زبانوں کے ساتھ بات چیت کے دوران غلط ملط انگلش کے الفاظ شامل کر کے پڑھا لکھا ضرور تصور کرتے اور دکھاتے ہیں۔

ہم انگریزوں کے طرزِ زندگی ان کے رسم و رواج کی چھاپ لگوا کر انقلاب چاہتے ہیں۔ کیا یہی انقلاب ہے؟ ٹھیک ہے زبان سے واقف ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ زبان نہیں سیکھ سکے تو دوسری اقوام کو کیسے سمجھ پاؤ گے، ان کے راز کیسے جان پاؤ گے، مگر سرے سے ہی اپنی پہچان، تہذیب و ثقافت، رسم و رواج تاریخ و زبان، مسخ کر کے دوسری اقوام کے طرزِ معاشرت پہ فخر کر کے وہی طور طریقے، رنگ ڈھنگ اپنا لینا یہ انقلاب نہیں عذاب ہے، اور عذاب اقوام کو غرق کرتے ہیں۔

ضروت اس امر کی ہے ہماری بنیادی تعلیم اپنی زبان میں ہو، ہمیں انگریزی کے الفاظ رٹانے کے بجائے ہماری صلاحیتوں کو دیکھا جائے، اور اسی کی تعلیم دی جائے، کیا اپنی زبان میں تجربات و مشاہدات نہیں ہو سکتے، کیا اپنی زبان میں یہ سب ممکن نہیں؟ جو دوسری ترقی یافتہ اقوام نے کیا، تعلیم کے ساتھ بہترین نطام و حالات سازگار چاہیے۔

شدت پسندی کے بجائے مہذب شہری اور  ترقی پسند بنانے پہ فخر ہو۔ انگریزی کے غلط ملط الفاظ بولنے کے بجائے دنیا کو دکھائیں ہمارا تعلق کس قوم اور کس زبان سے ہے، اپنی زبان کو فروغ دیں۔ اپنے رسم و رواج اپنی ثقافت پہ فخر کریں۔