جمنا دیوی کی زندگی کی تمام آرزوئیں پوری ہوچکی تھیں ۔ دھن دولت، ٹھاٹ بھاٹ، بڑا نام کیا کچھ نہیں تھااس کےپاس ۔

اب اُس کی صرف دو ہی حسر تیں تھیں کہ اپنی اکلوتی بیٹی نیلم کے ہاتھ پیلے کرے اورپھر اپنے بیٹے سنجے کی شادی کرکے ستی ساوتری جیسی بہو گھر لائے اور پھر ہری دوار سے ہوآئے ۔ جمنا کی یہ حسرتیں گزشتہ دودنوں سے نیلم کا مر جھا ہوا چہرہ دیکھ دیکھ کر انجانے خوف سے بدل رہی تھیں۔

وہ خود سے سوال کرتی یہ سب کیا ہے کہ نیلو میرےجیتے جی مررہی ہے، اُس کی زندگی میں کون سی کمی ہے ، اونچے برہمن گھرانے کی اکلوتی بیٹی، بلا کی خوب صورت ، پتا جی دیش کااتنا بڑا نیتا ،بھائی کئی فیکٹریوں کا مالک، بڑے بڑے گھرانوں سے رشتوں کے ڈھیر ، نوکر چاکر گاڑیاں ، عیش و آرام ، بھگوان کی دَیا سے کوئی کمی نہیں. تو کیا وجہ ہے کہ نیلم ا تنی دُکھی بیٹھی ہے کہ بھوک پیاس بھی برداشت کررہی ہے۔
    جمناآج ایک بار پھر نیلم کے کمرے میں خدشات کی بھاری پوٹلی دل میں دبائے داخل ہوئی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا چھایا تھا ۔ اُس نے سبھی بلب آن کئے، کمرہ اُجالے سےجگمگایا۔

جواں سال نیلم دُلہن جیسے سجے سجائے پلنگ پر غم واندوہ کا مجسمہ بنی دوزانو بیٹھی تھی، اپنا سر گھٹنوں میں کچھ ایسے دبا ئے رکھا تھا جیسے بتا رہی ہو کہ میں جینا نہیں چاہتی۔ جمنا سےیہ سب کہاں دیکھا جاتا، اس کے تو پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ہکلاتے ہوئے پوچھا:
’’ نی ۔نی۔ نی نیلو بٹیا کیا بات ہے ؟ یہ کیاحال بنایا ہے؟ بیتےدودن سے پوچھ رہی ہوں کو نسا غم سینے میں دبائے بیٹھی ہو ، کھا نا پینا چھوڑ دیا، کسی سے ملنا جلنا نہیں، ہنسنا مسکرانا نہیں ۔۔

بات کیا ہے ؟ کسی نے کچھ کہا؟ کوئی معاملہ پیش آیا؟ دن بھر یہاں دبک کر پڑی رہنا ، یونیورسٹی نہ جانا ، کمرے میں اندھیرا کرنا ، کیا ہے یہ سب ؟ میں اَبھاگن تمہاری ماں ہوں، کوئی پرائی نہیں، مجھ سے شرماؤ مت، گھبراؤ مت ۔ اپنی بپتا مجھے سناؤ ۔ ننھی سی جان پر اتنا دُکھ کیوں لینا، بتاؤنیلو تمہیں میری سوگندھ ‘‘
    سوگندھ کا لفظ سنتے ہی نیلم کی خاموشی کا باندھ یکایک ٹوٹ گیا ،  اُس کی آنکھوں کے پیمانے سے آنسوؤں کی برسات سیلابی ریلے کی طرح نیچے چھلکنے لگی۔

کھڑے ہوکرماں کو گلے لگاکر زور زورسے رویا۔ اپنی ہنس مکھ چلبلی جواں بیٹی کی ا یسی خستہ خالی سے کسی بھی ماں کا کلیجہ پھٹ سکتا ہے ۔ جمنا بھی انسان ہی تو تھی کوئی پتھر نہ تھی۔ ا پنی بھیگی آنکھیں ساڑھی کے پلو سے صاف کر کے ٹوٹے حوصلوں کو سنبھالا دے کر نیلم سےبولی  :
 ’’بٹیااکیلی میں نہیں تمہارے ویوہار سےسارا پریوار چنتا جنک ہے۔ سنجے تمہارا بھائی الگ سےپریشان ہے، لگاتار پوچھ رہا ہے مما  دِی کا اُترا چہرہ دیکھ کر مجھے فیکٹری جانے کا من ہی نہیں کرتا۔ آخر د یدی خاموشی کا بُت کیوں بنی ؟ گھر میں مجھ سے دی کے بارے میں کیوں کچھ بھی بولا نہیں جاتا؟ تمہارا ڈیڈی مجھ پر برس رہا ہے، بولتا ہے نیلم اتنے دن سے کھوئی کھوئی ہے ، گھر سُونا سُونا ہے اور تم کچھ کرتی بھی نہیں۔ تم ہی بتاؤ میں کیا جواب دوں ۔ تمہارے پتاجی کو اس وقت جن سبھا میں بھاشن دینے کی مجبوری تھی ورنہ وہ تمہارے چھپےغم کا ر یہسہ ضرور پوچھ کر رہتے ۔ اور تمہیں توپتہ ہی ہے کہ وہ کتنے غصیلے اور جوشیلے ہیں ۔ نیلو صاف صاف بولو کیا سنکٹ ہے ؟ ‘‘


نیلم مامتا اوردرد کی یہ ٹیسیں محسوس کر کے من بنا گئی کہ اب ماں کو سب کچھ بتانا ہی بہتر ہے ۔ لاج شرم کے احساس تلے دب کر اُس نے آنکھیں نیچی کر کے بولا:
 ’’مما! میں۔۔ میں۔۔میں کیا۔۔ کیا کہوں، شب۔۔ شبد ہی نہیں مل رہے ۔ میرا وجود تمہارے بغیرادھوار ہے۔ تمہاری سوگندھ تم سے کچھ چھپانا پاپ سمجھتی ہوں۔۔۔ لیکن میری وارتا سن کر تم سہن کر پاؤگی؟میرا دُکھ ہی کچھ ایسا ہے ، میرا تورواں رواں اسی دُکھ کی بھٹی میں پگھل رہاہے۔‘‘ نیلم آنسوؤں کا سیلاب پھر سے گالوں پر انڈیل گئی۔
 ’’ نیلو تم سچ سچ بتاؤ ، مجھ میں اتنا ساہس ہے ، جیون کا کوئی بھی بُرا سپنا سہنے کی شمتا ہے مجھ میں۔ بہت اُتا ؤ لی ہوں ، بھگوان کے لئے میرے دھیرج کی اورپریکھشا نہ لے بیٹا، نچنت ہوکر سب کچھ بتاؤ ۔ اور سنو جیون میں ہر سمسیا کا سمادان نکالا جاسکتا ہے، ہر پریشن کا ایک اُتر ملتا ہے ‘‘ جمنا نے نیلم کے دل میں اپنائیت اور بھروسے کا حوصلہ بھرد یا۔
 ’’میں سمجھتی ہوں تمہیں جان کر بہت دُکھ ہوگا مگر مجھے معاف کرنا مما۔ تم جانتی ہو یونیورسٹی میں میرا کلاس میٹ ر۔۔۔ر ۔۔۔ ر۔۔۔ رضا احمد ‘‘
’’ ہاں ہاں بتا یا تھا تم نے کئی بار اُس رجا ملیچھ کے بارے میں۔ اور تمہیں پتہ ہے مجھے کسی بھی کمینے ملیچھ کا نام زبان پر لینے سے ہی متلی آتی ہے ‘‘ جمنا نے منہ بسورتے ہوئے بولا ۔ جمنا کےاس تیکھے تیور نے نیلم کا زخم اور گہرا کردیا لیکن وہ اپنی ماں کا غم غلط کر نے یا شک وشبہ رفع کر نے کے لئے اپنی کتھا کی پرتیں کھولنے ہی والی تھی کہ سنجے خوشی سے جھومتے ہوئے کمرے میں گھس آیا۔ نیلم نے منہ فوراً منہ بند کیا۔ سنجے خوشی کی ترنگ میں بولا:
 ’’مما، دِی تم یہاں پڑی ہو ۔۔۔ ڈیڈی کا جن سبھا ویڈیو وائرل ہورہا ہے ۔ ڈیڈی کتنا بڑھیا بھاشن دے گیا راشٹریہ ایکتا سنگٹھن کے پنڈال سے ۔‘‘
 جمنا کی ساری توجہ نیلم سے ہٹ کر وائرل ویڈیو کی طرف کھنچ گئی مگر نیلم جانتی تھی کہ یہ ویڈیو اُس کے بجھے بجھے دل کو اور زیادہ بوجھل بنانے والا ہوگا کیونکہ وہ اپنے پتا جی کی وچار دھارا سے لاعلم نہ تھی۔ سنجے اور جمنا پلنگ پر بیٹھے موبائیل پرویڈیو دیکھنے میں منہمک ہوگئے ،مگر نیلم اپنے دردوغم کے اَتھاہ سمندر میں برابر غوطہ زن رہی ۔ دینا ناتھ کا وائرل بھاشن یہ تھا :
 بھائیو بہنو اور جن سبھا میں اُپس تتھ ہزاروں سجنو ! میں آپ سب کا   راشٹریہ ایکتا سنگٹھن کی اس جن سبھا میں ہارتک سواگت کرتاہوں ۔ آج اس منچ سے سبھی دیش واسیوں ، اپنے سنگٹھن کے کاری کرتاؤں  اور ساری جنتاکو بھدائی دیتا ہوں کہ ہم سب کا اَنتھک سنگھرش رنگ لایا ، ہماری تپسیارپوری ہوئی ۔ لوجہاد کے خلاف وِدھان سبھا نے ایک شکتی شالی قانون بنا یا ہے ،اسےاِتہاس میں سنہری شبدوں میں لکھاجائے گا ۔ نیا قانون ہمارے راشٹروادی وچارکی بڑی سپھلتا ہے۔( زوردار تالیوں کےبیچ جے سری رام کے نعرے)۔
 نیا قانون ہر پریکار سے ہماری عزت، مان سمان، مریادا، دیش کی ایکتا ، دھرم کی سُرکھشا کا آشواسن دیتا ہے ۔ آپ سبھی متر جانتے ہیں کہ مدتوں مسلم سماج کے دیش دروہی ہمارے خلاف ایک خطرناک آکرمن چھیڑے ہوئے تھے ۔ اورنگ زیب کی یہ سنتانیں ہماری معصوم بالکاؤں کو پریم جال میں بہلاتےپھسلاتے ، اغواکر تے، جھوٹ موٹ کا وِ واہ رچاتے، پھر اُن کا دھرم پریورتن کر واتے ۔ یہ سب کچھ اَدھرم، ہماری پوترتا پر ایک بد نما داغ، ہمارے سمیدھان کا اُلنگن ، ہماری ویرتا کے خلاف شترو کی مکروہ چال تھی۔ اس دھبے ،اس کلنک ،اس اَندھ کار کے خلاف کبھی نہ کبھی ہمیں جاگرو ہونا ہی تھا۔ آج وہ دن آیا اور ہم نے لوک تانترک منتر سے ملیچھوں کے خلاف جوابی آکرمن چھیڑ ا، اپنے ماتھے کےاس کلنک کو پورا دھولیا ، ہم ابھی دیش ہِت میں بہت کچھ کر نے کے وچن بند ہیں، آپ راشٹر میں بہت کچھ ہوتا ہوادیکھنے والے ہیں ۔ ساتھیو! یہ سُوچنا پاکر آپ سب کاجی اورزیادہ خوس ہوگا کہ نئے قانون کے اَنوسار یدی کوئی مسلم مہیلا ہمارے یُوا سے وِواہ کرے ، اُسے ہم اپنے گھر میں خوسی خوسی بہو قبولیں گے ، یدی کسی ملیچھ نے ہماری کسی بالکا کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت کی یا اُسے ورغلانے کی کوئی گھٹنا گھٹی تو اَپرادھی کو ایسا کڑا ڈنڈ ملے گا کہ سوچ کر اُس کی سات نسلیں تھرائیں۔( پُرجوش تالیاں اور نعرے) ۔
 آپ کو سب آج اس شبھ اَوسر پر تیز رفتار سراندھی کو ساکھشی مان کر یہ شپتھ لینا ہوگا کہ ہم ہندوستان کی سیوا میں کوئی بھی بلیدان دیں گے ‘‘       
سنجے اپنے پتاکے بھاشن پر پھولے نہیں سمارہاتھا:  ’’ لَو یُو ڈیڈ ، شیردل، مہا نیتا ہے ، یہ بھاشن نہیں شیر کی گرج ہے، دِی دیکھو بھاشن کو کتنی لاکھوں لائیکس مل رہی ہیں۔ مجھے گورؤ ہے اپنے پتا شری پر، جگ جگ جیو شیرا ۔ بہت خوش ہوں آج، اتنی تو کرپا ہوئی کم ازکم میرے لئے رضیہ سے سات پھیر ےلینےکا قانون میں پراودھان رکھا گیا ہے۔‘‘
  ’’سنجے کیا بک رہے ہو ، خبردار! گھر کی دہلیز پرکوئی ملیچھ پرویش کرے ، بھول کر بھی اُس منحوس کا سپنا نہ دیکھنا۔ ہم برہمن ہیں ، کسی کو ہمارا گھر بھرشٹ ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ا س کے لئے پہلے میری مریتو ہونی چاہیے ۔ اُس کل موہنی، نیچ لڑکی کا کبھی زبان پر ذکر بھی نہ لانا، اس کمینی چڑیل کو یہاں کوئی سوئیکار نہیں کرے گا‘‘
 جمنا زخمی شیرنی کی طر ح غراتے ہوئے بولی ۔ سنجے ناراضی اور غصے میں جل بھن کر کمرےسے چلا گیا ۔جمنا نے دوبارہ نیلم سے اپنی گفتگو شروع کی:
 ’’ہاں تو بتاؤ بٹیا کیا بات ہے، اپنارَیہسہ کھول دو‘‘
’’ میرا سر درد سے پھٹاجارہاہے۔ کچھ بھی نہیں بول پاؤگی‘‘
 سنجے کی سرزنش کر تے ہوئے جمنا نے جو کچھ کہا تھا نیلم نے اس سے یہی اخذ کیا کہ ماں سے اپنے دل کی بات کہنا مشقِ لا حاصل ہوگی ۔ اُس نے ارادہ کر لیا کہ میں زبان سے کچھ نہیں بولوں گی بلکہ جو چھٹی میں نے پہلے ہی لکھ کر رکھی ہے ،وہی وقت پرمیرے دل میں چھپے غم کا خلاصہ کرے گی ۔
 جمنا نے بھی نیلم سے زور زبردستی راز اگلوانا مناسب نہ سمجھا۔ وہ اپنی بیٹی کے لئے چائے بجھوانے رسوئی چلی گئی۔ کچھ دیر بعد نوکر چائے کی ٹرے لے کرکمرے میں آیا تو وہاں نیلم کوموجود نہ پایا۔ اس نےجمنا سے کہا مالکن بٹیا رانی وہاں ہے ہی نہیں، میں نے چائے وہیں رکھ چھوڑی ۔ جمنانے خیال کیا کہ نیلو واش روم میں ہوگی ۔ کچھ دیر بعد  اُس کے قدم خود بخود نیلم کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ اس نے دیکھا نیلم وہاں تھی ہی نہیں ، واش رُوم میں بھی نہیں۔جمنا نے آواز یں ماریں نیلو کہاں ہو تم مگر کوئی جواب نہ آیا۔ جمنا کی پریشانیاں آنسوؤں میں ڈھل گئیں ۔

گھر کے کونے کونے سے لے کر لان تک سب کچھ چھان مارا گیا مگر نیلو کا کہیں اَتہ پتہ نہ ملا۔ اُسے زمیں کھاگئی یا آسمان نگل گیا۔ سنجے باؤلے کی طرح گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں تک اُلٹاپلٹ کرتاگیا، پھر موبائیل کالیں کر کے بہنا کی کھوج تلاش شروع کی مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ دنیا ناتھ کو گھر کی بپتا فون سےمعلوم پڑی تو جن سبھا اُدھوری چھوڑ کر جلدی جلدی گھر لوٹا ۔ گھر میں پریشانی وبے چینی کا نرالا سماں دیکھا تو وہ غم و اضطراب اور طرح طرح کے قیاسات کے دلدل میں دھنس گیا ۔ نیلم کا چند ہی منٹوں میں پُر اسرار طور غائب ہونا سب کے لئے انہوناتھا۔ غم سے نڈھال جمنا ، سنجے ،دیناناتھ  دوبارہ نیلم کے کمرے میں آگئے۔

اچانک جمنا کی نظر پلنگ پر پڑے کاغذ کے ایک ورق پرپڑی ، دیکھتے ہی اُ س کے ہوش اُڑگئے، اُس نے کانپتے ہاتھوں اسے اُٹھاکر سمجھ لیا یہ نیلم کا ماتا کے نام آخری بات ہوگی۔ دینا ناتھ اور سنجے کی دھڑکنیں بڑھ رہی تھیں ، جمنا نے خط کو لرزتی زبان سے پڑھنا شروع کیا:
 ’’ مما! یہ چھٹی دو دن پہلے لکھ رکھی تھی ۔ آج جب تم یہ پڑھ رہی ہوں گی  تومیں تم سب سے بہت دور تیز گام سراندھی کی گود میں ہمیشہ کی گہری نیند سوچکی ہوں گی۔ مجھے شما کرنا کہ تم سبوں کو بہت دُکھ پہنچایا مگر میرے پاس اس کے سوا اور کوئی اُپائے بھی نہ تھا ۔
 مما! کئی بار رضا احمد کے بارے میں تم سے بولا تھا مگر تم نے ہمیشہ میری بھاؤنا وں کو سمجھنے میں چُوک کی، مجھے ٹھیس ضرور پہنچی مگر تمہارے اپنے آدرش اپنے نیّم تھے۔ یہ تمہاری نظر میں سب چیزوں سے اوپر تھے۔تم نے جب بھی رضا کا نام میری زبان سے سنا تو اُس کے خلاف اَناپ شناپ نفرت کا لاوا اُگلنے میں ذرا دیر نہ کی،یہ جانے بغیر کہ ہم دونوں اسکول کے دنوں سے یونیورسٹی تک اکٹھے پلے بڑھے، ایک دوسرے کو پہلے دن سے بہت چاہتے تھے۔

سچ مانو ہم ایک دوسرے کا سایہ تھے، میری سگی سہیلیاں یہ راز جانتی تھیں ، پرنتو وہ چپ سادھے رہیں کیونکہ انہیں ہمارے گھرانے کی پرم پرا کا گیان پراپتھ تھا۔ مما!میرا اور رضا کا ایک پوتر رشتہ تھا ، ہرطرح سے پاک دامنی میں ڈھلا ہوا، دو پاک دلوں کا ملن جو دین دھرم جات برادری سے پرے تھا ۔ رضا ایک نہایت شریف ، شائستہ، نیک دل دیش پریمی تھا۔اس کی نظر میں مانوتا انمول چیز تھی ۔ تم کو پتہ ہی نہیں کہ جب ڈیڈی پر لٹھ بردار
د نگائیوں نے سبھا سے لوٹتے ہوئے جان لیوا حملہ کیا تھا، اُنہیں اپنے سب کاری کرتاؤں تمام کایروں نے سرراہ اکیلے چھوڑا ، یہ رضا تھا جس نے منٹ بھی ضائع کئے بغیر ڈیڈی کو اپنی گاڑی میں ہسپتال پہنچایا ، وہ نہیں جانتا تھا کہ خون میں نہلا یا گیا زخمی وَیکتی کون تھا، کس دھرم جاتی کاتھا۔ ڈیڈی کو بچانے کے لئے رضا نے ہی اپنی رگوں کا خون اُن کی رگوں میں دوڑایا ۔

پھر خاموشی سے چلتا بنا تاکہ اندھے قانون کے سوارتھی رکھشک آتم گھاتی حملے کا الزام اُسی کے سر نہ ڈال دیں ۔ بھگوان کی کرپا سے ڈیڈی بچ گئے مگر لاکھ کوشش کے باوجود بھی اُنہیں کبھی پتہ نہ چلا وہ وکن دیوتا تھا جس نے انہیں بچایا، نہ یہ معلوم ہوا کہ اُن کو اپنا خون دینے والا رضا احمد کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

میڈیا میں انسانی ہمدردی کی اس مثال کو نامعلوم اجنبی نوجوان کی مانوتا کہہ کرکے بات آئی گئی ہو گئی ۔ تو کیامیرا رضا مانوتا کا ستیہ اور پریم پجاری نہ تھا؟ تمہیں یہ بھی پتہ نہیں جس دن سنجے کی فیکٹری میں آگ لگ گئی اور بھیا شعلوں کی لپیٹ میں بُری طرح آگئے تھے ،اُس وقت بھی اپنی جان جوکھم میں ڈالنے والا نقاب پوش نوجوان بھی رضا ہی تھا ۔

سنجے نے بہت کوشش کی کہ اُس نامعلوم دیوتا کو انعام دے جس نے اُسے بچا کا دوسرا جنم دینےکا شبھ کاریہ کیا مگر رضا نے یہ کام اوپر والے کی رضا کے لئے کیا تھا کوئی انعام پانے کے لالچ میں نہیں ۔ اور پتہ ہے بھیا جس رضیہ کی تم سے بار بار بات چھیڑتا ہے،وہ رضا کی ہی دورکی پڑھی لکھی کزن ہے ۔ رضا اور میں نے سو چ سمجھ کر ایک دوسرے کا جیون ساتھی بننے کا سنکلپ لیا تھا مگر ہم نہیں جانتے تھے کہ قسمت ہم سے رُوٹھ چکی ہے ۔
 مما! اس سنسار میں دھرم کی ریکھا اور راکھشسی راج نیتی وِواجن نے ہمارا ملن نا ممکن بنادیا مگر پرلوک میں ہمارا ملن ہونا ہی ہونا ہے ۔ یہ بھی  کہناضروری ہے کہ رام کو رضا امام ِ ہند کہتا، میں محمد صاحب( ص) کو  وِ شو اوتار مانتی۔ رضا میرے ساتھ سات پھیرے لینے کے لئے تیار تھا، میں اس کے ساتھ نکاح کرنے کو رضا مند تھی، ہم دونوںکاشی اور کعبے دونوں کا دل سے آدر کرتے تھے، ہمیں ایک دوسرے کے دھارمک آستھاؤں سے کبھی کوئی آپتی نہ تھی ، جس کو ہم ایشور کہتے ہیں، وہ اُسے اللہ پکارتا ، ہمارا پوجا استھل مندر ہے ، اس کےنماز کی جگہ مسجد کہلاتی ہے ، ہمارا سورگ اُن کی جنت ہے ، پھر ان نفرتوں کاکیا اَرتھ راج نیتی کے سوا؟ 
مما! اگر ہماری تقدیر میں ملن لکھا ہوتا تووہ ہمارے گھر کا ہندو جمائی ہوتا، میں اُس کے گھر کی مسلم بہو ہوتی ۔ ہم زمانے کو دکھاتے کہ لو جہاد کیا ہوتا ہے ۔ جانتی ہوں تم یہ سب پڑھ کر مجھے کوس رہی ہو گی، مجھے دُشت، باؤلی ، رسوائی بدنامی کی پر تیگ کہہ رہی ہو گی ۔ رضا نے بھی گھر میں جب میرے ساتھ بیاہ کر نےکی ضد کی تو اُس کے ماتا پتا نے اُس کا جینا حرام کردیا۔ بولےنالائق ، حرام خور،کم بخت ، بدمعاش ،یہ کیا پاگل پن ہے، نہیں جانتے اسلام تم کو ہندو چھوکری سے سے شادی سےروکتاہے، اوپرسے لو جہاد کا قانون بنا ہے ، کیاتم ہمیں بے موت مروانا چاہتے ہو، کیوں نہ خود ہی اپنے بھائی بہن کا گلا گھونٹ دو؟

ہماری غریب بستی کو جعفرآباد دلی بنا نے پر کیوں تُلے ہو ؟ تم کوئی سنیل دت ، شاہ رُخ خان ، کوئی عامر خان ، کوئی سیف علی خان ، کوئی مختار عباس نقوی ، کوئی شاہ نواز حسین ہو نہیں سب جھک کر سلام کریں، تمہارا حشر تبریز انصاری کا جیساہوگا ، دیش بھگتوں کے ڈنڈے اور بھیڑ کی ہنسا سے تڑپ تڑپ کر مرجاؤگے ۔ دفع ہوجاؤ اس گھر سے، پھر کبھی اپنی منحوس شکل نہ دکھانا۔۔۔

رضا کو صرف میری وجہ سے گھر سے نکالا گیا، اس پر یہ شاق گزرا ۔ اس نے مجھ سے کہا نیلم یہ میرے گھر والوں کا حال ہے، تمہارے پتا جی تو کسی اور ہی مٹی کے بنے ہیں ، وہ نہ جانے کیا گزریں گے۔ یہ سن کر میں سیدھے آسمان سے زمین پرآ گر ی۔ پھر اُس نے اپنی آخری فون کال میں مجھ سے روتے روتے صرف اتناکہا نیلم مجھے معاف کر نا ،میں تمہارا ساتھ چھوڑ رہاہوں ،اپنا نیا گھر ڈھونڈ لیا ہے ، جہاں میں رہنے کو جارہاہوں وہاں سے کوئی واپس نہیں آتا، الوداع نیلم الوداع ۔

میں نے بہت چیخا چلّایا، رویا دھویا، دیواروں کے ساتھ سر ٹکرایا، بال نوچے، سینہ پیٹا پرنتو میری چیخ وپکار صرف آکاش کے پنچھی سن رہے تھے۔ رضا کا موبائیل اُسی وقت سے سوئچ آف ہوا ، اورپھرکبھی آن نہ ہوا ۔ اگلے روز رضا کی لاش سراندھی کی لہروں سے برآمد ہوئی۔تم ہی بتاؤ رضا کے بغیر میرا دنیا میں جیوت رہنے کا کوئی اَرتھ ہے، کوئی ادھیکار ہے مجھے جینے کا؟

اس لئے آج میں اپنے رضا سے ہمیشہ کے ملن کے لئے اسی تیز رفتار ندی کی بانہوں میں کو د رہی ہوں۔ یہ کوئی آتم ہتھیا نہیں بلکہ یہی اصل لَوجہاد ہے۔ مما مجھےشما کر نا۔ ڈیڈی! ہوسکے توآپ بھی مجھے شما کرنا ۔ سنجے! رضیہ کو کبھی دغا نہ دینا، اس کو جیون ساتھی بناکر من کی کھڑکی اور سوچ کے دروازے تازہ ہوا کے جھونکوں کے لئے کھلا چھوڑنا، بھلے ہی اسلام قبولنا پڑے۔
 بد نصیب نیلو
 خط پڑھ کر جمنا کی سانسیں رُک گئیں،غش کھا کر دَھڑام سےفرش پر گرگئی ، سنجے غم اور صدمے میں ڈوبے آنسوؤں کی سراندھی آنکھوں سے بہانا چاہتا تھا مگر آنسودل کے تہ خانے میں قطرہ قطرہ دفن ہوچکے تھے ، دینا ناتھ دم بخود ہوکر اپنے آپ کو سوگ کے مہاساگر میں ڈبکیاں مارتے ہوئے پا رہا تھا۔