پریس فار پیس گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں رضا کارانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ابتدا میں ان سرگرمیوں کا محور مظفرآباد شہرتھا۔تاہم 2005 کے ہولناک زلزلہ کے بعد اس سماجی تنظیم کا رُخ  مظفرآباد سمیت دیگر متاثرہ  علاقوں کی طرف ہو گیا تھا ۔

آزادکشمیر میں سماجی بہبود اور عوامی فلاح کے لیے بے شمار تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں بہت بڑی تعداد ایسے اداروں کی ہے جو دیہی و شہری علاقوں میں یکساں کام کر رہے ہیں۔ یقیناً ان تمام اداروں کی سرگرمیوں سے معاشرے کے پسماندہ و ضرورت مند طبقے کو خصوصاً   اور عوام علاقہ کو عمومی طور پر خاطر خواہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

کچھ ادارے بین الاقوامی فلاحی اداروں کے ذیلی اداروں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ جن سے ان کی استعداد کار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی توجہ اور دلچسپی  سنجیدہ نوعیت کے مقامی اور علاقائی مسائل سے ہٹ کر  ملکی اور عالمی سطح کے  مسائل اور معاملات میں بڑھتی جارہی ہے۔
مکمل طور پر رضا کاروں کے تعاون سے چلنے والے اس ادارے  کے بانی ارکان اور رضاکاران عرصہ دراز سے یہ محسوس کر رہے تھے کہ جن اقدار و مقاصد کے تحت  تنظیم کا قیام عمل میں آیا تھا، ان کی اہمیت اور ضرورت  کا تقاضا یہ ہے کہ اس ادارے کی سرگرمیوں کی مزید فعال بنایا جائے۔

تنظیم کے قیام کے  ابتدائی  عشرہ میں ہزاروں کی تعداد میں رضا کار اس قافلے میں شامل ہوتے رہے ہیں اور اپنے حصے کی شمع جلا کر دیگر معاملات زندگی میں مشغول ہوگئے یا ملک ِعدم سدھار گئے ۔

آزاد کشمیر جیسے مختصر آبادی والے علاقہ کے حوالے سے جہاں آبادی کا بڑا حصہ اب  پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر معیار ِزندگی گزار رہا ہے ، رضا کارانہ سرگرمیوں کے حوالے سے  یہ اعداد وشمار مصنوعی لگتے ہیں۔ مگر ٹھوس معلومات اور تنظیمی تجربے کی بنیاد پر ہم  یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ  کسی بھی ارفع مقصد کے تحت  اگر آپ میدان ِ عمل میں اتریں اور آپ کی نیت میں کھوٹ نہ ہو تو   آپ کو باصلاحیت اور درد ِ دل رکھنے والے افراد  کی کبھی کمی محسوس نہیں ہوتی۔

مگر بحیثیت قوم اور ملک ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری و سیاسی نوعیت کی بدانتظامی اور بداعتمادی  سماجی شعبے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے  کے برعکس کردار ادا کرتی رہی ہے ، جس سے سماجی شعبے کے مثبت اثرات ہمیں معاشرے میں کم نظر آتے ہیں۔
ہمارے ملک اور خطے میں چادر و چار دیواری کا تحفظ آج بھی ایک مسئلہ ہے،  ڈگریوں کی بھرمار کے باوجود تعلیم و تربیت  اور ہنر مندی کا فقدان ہے اور  نوجوان طبقہ کسی مسیحا کے انتظار میں  چکنے چپڑے نعروں کے پیچھے لگ کر اپنی خداداد صلاحیتوں کو زنگ آلود کر رہاہے۔
گزشتہ کئ سالوں سے پریس فار پیس  سے منسلک ہوکر علاقائی ضرورت کے تحت  ہمارے رضا کاروں نے چھوٹے چھوٹے  کئی کامیاب تجربے کئے ، مگر وہ سب کچھ مقامی نوعیت کی  غیر منظم سرگرمیوں تک محدود رہا۔ 

اس کی بہرحال فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں   پاکستان اور آزاد کشمیر کے دیگر شہروں اور دیہات سے  تنطیم سے منسلک ہونے والے نئے رضاکاروں کی ایک مضبوط اور متحرک ٹیم میسر آگئی ۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، جہاں رضاکار میسر ہوں گے وہاں ہی سرگرمی ممکن ہوگی۔ پریس فار پیس کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ادارے کے قیام سے لے کر اب تک ہمیں بے غرض و بے لوث ساتھیوں کا تعاون حاصل رہا ہے، جن میں ہماری موجودہ سرگرم عمل ٹیم بھی شامل ہے۔

اس ٹیم کی سربراہ نے تنظیمی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے   پریس فار پیس کے  نئے مرکز کے طور پر ضلع باغ کی نشاندہی کی  تو  لوہار بیلہ تنظیمی سرگرمیوں کے  لیے   منتخب ہوا، اس حوالے سے ایک  تفصیلی رپورٹ عنقریب شائع کی جائے گی۔

یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ پریس فار پیس اب چونکہ برطانیہ میں ایک فاؤنڈیشن کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ تنطیمی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم  نے ایک مرکز کا انتخاب کر نا تھا جو کہ ہو چکاہے۔ لوہار بیلہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کا پاکستان اور آزاد کشمیر میں مرکز ہوگا۔
(جاری ہے )