آزاد کشمیر کی خوبصورت سرزمین پرسہانے خواب دیکھنے کا موسم کبھی ختم نہیں ہوتا ۔آنکھ کھولیں بھی تو خوابوں کا نشہ واپس وہیں لے جاتا ہے۔ پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے آزاد کشمیر میں نئے  مرکز کے لیے لوہار بیلہ کا انتخاب بھی ایک خوبصورت خواب  جیسا  ہے  جسے تنظیم کی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے ہماری دیرینہ ساتھی اور رضا کار روبینہ ناز   کے خواتین کے لیے موبائل سلائی کڑھائی  مرکز نے مہمیز دی۔  

اگر آپ ڈیزل اور پٹرول کے دھوئیں سے قدرتی حسن کو پامال کرتی گاڑیوں اور تعمیر و ترقی  کے نام پر زمینوں پر  تیزی سے قبضہ جمانے والے نو دولتیوں کو آزاد کشمیر سے نکال دیں تو سارا خطہ پھر سے  لوہار بیلہ کا روایتی  سماج اور  قدرتی  ماحول  کا منظر  پیش کر نے لگے گا۔  اور اگر یہ دونوں خطرناک ٹرینڈ نہ رکے تو اگلے دس سالوں میں  آپ کو  لوہار بیلہ کی جگہ مظفرآباد کی لوہار گلی  کا منظر نظر آئے گا جس  کے بغل میں واقع  کسی کلائمیٹ چینج سینٹر  اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کا بورڈ بھی لگ سکتا ہے۔ 

واضح رہے کہ ان جیسے ان گنت سرکاری و غیر سرکاری  ادارے مل کر بھی  مظفر آباد  کو تباہی سے بچانے کی کوئی تدبیر نہیں ڈھونڈ پار ہے ہیں۔

 ہر خطے کے لوگ اپنی سرزمین سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ مگر ہم نے  ضلع باغ کی یونین کونسل ناڑ شیر علی خان  کے ان دور افتادہ دیہات میں اس محبت کے  سرچشمے پھوٹتے دیکھے تو یہ خیال بھی ابھرا  کہ اگر خوابوں کا موسم ہی چل رہا ہے تو کیوں نہ ہم بھی پھر سے خواب دیکھیں۔ پسماندگی کے خاتمہ  کے خواب دیکھنے  والوں کو  ،  پسماندگی کو  اور اس سے جڑے  زندگی  کے  چھوٹے چھوٹے پہلو  وں کو پریس فار پیس  کی نظر سے  دیکھتے ہیں۔ 

غربت کا خاتمہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی  ہماری ہر حکومت کی  ترجیحات میں سرفہرست  رہی ہے۔ مگر زمینی حقائق پر نظر دوڑائیں تو آزاد کشمیر کو سیلیکون ویلی میں تبدیل کرنے کا نعرہ لگانے والے  عوام الناس کو آج بھی درختوں پر چڑھ کر موبائل سگنل پکڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

آزاد کشمیر کا  نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ امریکی منڈیوں میں سافٹ وئیر بیچنے کے خواب دیکھتے دیکھتے ذہنی مریض بنتا جا رہا ہے ۔  مگر خواب بیچنے والے ابھی بھی تھکے نہیں،  حکومتی ایوانوں تک رسائی  کے  لیے  ہر ضلع میں میڈیکل کالج ، ہر تحصیل میں کیڈٹ کالج اور ہر اونچی  چوٹی پر عالمی معیار کے ائیر پورٹس  دینے کے دعویدار تولی پیر کی پہاڑی پر موبائل کے  سگنل کا ایک  کھمبا نہ لگا سکے کے اس کے دامن میں غلیل کے نشانے پر موجود لوہار بیلہ میں بیٹھی کوئی ماں وطن سے ہزاروں میل  دُور عرب کے تپتے ریگزاروں میں روزگار کی  تلاش میں جانے والے اپنے  لخت ِجگر سے جی بھر کے بات ہی کرسکے ۔

خواب ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ، ہزاروں مائیں  پسماندگی  کے  عفریت سےنبٹنے  کے لیے  اپنے جگر گوشوں کو ہزاروں میل دور بھیج کر ڈھلتی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے خواب دیکھتے دیکھتے آٹے، چینی، بجلی اور بچوں کی تعلیم سستی ہونے کے خواب دیکھنے لگی ہیں۔ ہائیڈرو پاور کا بخار اور بجلی بیچ کر قرضے اتارنے کا خواب آزاد کشمیر  کو  دو دریاؤں سے  محروم  کرگیا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔اب ایرا ، سیرا اور ٹیوٹا  کا  استعمال شدہ  مال بیچنے والوں کو  سی پیک  جیسا ڈبہ پیک مال ملا تو ان کا کاروبار پھر سے چمکنے کی امید  ہے  ۔

جس طرح خواب  دیکھنے کا موسم ابھی ختم نہیں ہوا۔ اسی طرح  آزاد کشمیر کے باشندوں کا پسماندگی  ، غربت اور  محرومیوں کا سفر بھی ابھی ختم نہیں ہوا۔ پریس فار پیس فاؤنڈیشن  ماضی کے تجربے کی روشنی میں ایک  انتہائی  پسماندہ اور دور افتادہ علاقے میں موجود رہ کر مختصر سی ٹیم کے ساتھ  ایک نئی شروعات کر رہی ہے ۔ آئیں اور  آپ بھی ہمارے اس قافلے میں شامل ہو جائیں۔

(جاری ہے )