تجزیہ : نقی اشرف
ہمارے ہاں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر اکثر اس جملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے ‘‘سڑک،نالی،ٹونٹی کھمبے کی بنیاد پر ضمیر خریدے جارہے ہیں‘‘۔
اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ ترقیاتی کام(سڑک،ہسپتال،سکول،بجلی و پانی) کروانا قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا کام نہیں ہے بلکہ اُن کا کام قانون سازی ہے(یہ الگ بحث ہے کہ ممبرانِ قانون ساز اسمبلی کو قانون سازی کے اختیارات حاصل ہیں یا نہیں۔ ترقیاتی کام بہرحال بلدیاتی نمائندوں کا کام ہے۔ یہ بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں(پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر) بلدیاتی نظام گزشتہ تین دہائیوں سے موجود نہیں ہے۔ بلدیاتی نظام ہی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ دُنیا میں بلدیاتی نظام کے بغیر جمہوریت کا تصور محال ہے،ایسی انہونیاں ہمارے ہاں ہی ہوتی ہیں۔ میں نے قبل ازیں بھی لکھا تھا اور اب مکرر عرض ہے کہ کسی خوبصورت جھیل میں پانی کی آمد اور نکاسی کا سلسلہ بند کردیا جائے تو وہ خوبصورت جھیل دیکھتے ہی دیکھتے ایک جوہڑ کا روپ دھار لیتی ہے جس سے تعفن پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ ہم بلکل ایسے ہی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ہمارے ہاں جو بھی قیادت آئی وہ طلبا یونینز اور بلدیاتی انتخابات سے آئی۔ طویل عرصے سے طلبا یونینز پر پابندی اور بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے  قانون ساز اسمبلی کے اکثر حلقوں میں موروثیت مسط ہورہی ہے،دولتمند پیراشوٹس کے ذریعے وارد ہورہے ہیں اور سیاسی کارکنان ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ آج انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتیں بھی مشکلات کا شکار ہیں کہ ایک ایک حلقے میں پارٹی ٹکٹ کے درجنوں اُمیدوار سامنے آرہے ہیں،ان میں سے بڑی اکثریت لاکل کونسلر تو منتخب ہونا دُور کی بات،اپنا مقامی پولنگ اسٹیشن بھی جیت نہیں سکتے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتی ہیں۔ منتخب ایم ایل اے ترقیاتی فنڈز سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتے اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے نئی قیادت کے اُبھرنے اور اپنے ذوال سے خوفزدہ ہیں۔بدقسمتی سے پاکستانی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اب پارٹی ٹکٹ فروخت کرنے کا دھندہ بھی شروع کررکھا ہے،اس لیے وہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے ذریعے پارٹی ٹکٹ کی قیمت بھی نہیں گھٹانا چاہتی۔
میری ناقص رائے میں ہمارے مسائل کا واحد حل بلدیاتی انتخابات کا تواتر سے انعقاد ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے گزشتہ عام انتخابات کے موقع ہر اعلان کیا تھا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کا فوری انعقاد کروائیں گے مگر پھر ہم نے دیکھا کہ کس ڈھٹائی سے اُنھوں نے سیاسی کارکنان کو نظرانداز کرتے ہوئے چُن چُن کر معاشرے کے ناپسندیدہ عناصر کو بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹرز تعینات کیا۔ اب پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں عام انتخابات کے تین ماہ بعد بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے مگر پاکستان میں پی ٹی آئی کی طرف  سے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے دیکھی گئی غیر سنجیدگی پی ٹی آئی کے انتخابی منشور میں کیے گئے اس دعوے یا اعلان کی تائید نہیں کرتی۔
بلدیاتی انتخابات کے تواتر کے ساتھ انعقاد کے بغیر اسمبلی کی سطح پر جمہوریت کی مثال بغیر بنیاد کے عمارت کی تعمیر کے مترادف ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کسی تحریک اور پریشر  کے بغیر محض موہوم سی خواہش کی بنیاد پر کبھی بھی نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سنجیدہ فکر سیاسی کارکنان کو بروئے کار آنا پڑے گا۔ ہمارے ہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی قوم پرور سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی  عمل سے دُور بھاگنے کے بجائے یوٹوپیا سے باہر آکر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ‘تحریکِ آزادی کشمیر‘، چوراسی ہزار چار سو اکہتر مربع کلومیٹر کی کہانیاں بہت ہوچکیں۔ اب ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ اس سوال کو اہمیت دی جانی چاہیے کہ آج جموں کشمیر آزاد اور خودمختار ہوجائے تو دودھ و شہد کی نہریں کیونکر بہنا شروع ہوجائیں گی؟ بلدیاتی نظام کی بحالی کے بغیر سیاسی نظام کی اصلاح احوال کا خواب دیکھنا ایک ایسے کنویں سے پانی کے ڈول نکالنا ہے جس میں کُتا اندر ہی موجود ہے۔  کنویں کو پاک کرنے کے لیے بہرحال پہلے کُتے کو ہاہر نکالنا ہوگا۔ آج عام انتخابات کے موقع پر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے میری اس تحریر کو ممکن ہے بعض احباب بے وقت کی راگنی قرار دیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ ‘یہ نغمہ فصلِ گُل کا نہیں پابند‘۔ جب تک تواتر کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوجاتا، تب تک ہر ساز پر یہی نغمہ چھیڑے جانے کی ضرورت ہے۔

لکھاری کا تعارف 

نقی اشرف کا تعلق آزادکشمیر کے ضلع پونچھ سے ہے ۔ وطن اور اہل وطن سے بے پایاں محبت کرنےوالے ایک انسان دوست مصنف ہیں ۔طویل عرصہ سے صحافت کے میدان میں عوامی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔ نقی اشرف کی تحریروں کا ایک مجموعہ حرف ضمیر شائع ہو چکا ہے – ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے وقت کے انسانی المیے کی درد بھری داستان” میرپور، جب قیامت ٹوٹ پڑی” کے نام سے شائع ہو چکی ہے ۔ یہ ویسے تو ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے، مگر نقی اشرف نے ترجمہ اس مہارت سے کیا ہے کہ کتاب طبعزادمعلوم ہوتی ہے ۔ وہ مادری زبانوں سے قلبی لگاؤ رکھتے ہیں جس کے لیے پہاڑی میں افسانہ نویسی اور کالم نگاری کے تجربات بھی کر چکے ہیں ۔وہ مُردوں سے زیادہ زندوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے قائل ہیں ۔اسی لیے گاہے گاہے باصلاحیت اور نمایاں کرداروں کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں ۔