تحریر :ماہ نور جمیل عباسی
کسی بھی کام کے شروع کرنے کے بعد اس کے آدھ پر پہنچ کر ہم اطمینان و سکون سے فیض یاب ہوتے ہیں ۔ کہ واہ ! کام آدھا رہ گیا جلد ختم کو جائے گا ۔انسانی زندگی زیادہ سے زیادہ اوسطاً 60 سال رہ گئی ہے،اور ساٹھ کا آدھ تیس سال ، انسان جب 25 سال سے کم عمر ہوتا ہے تب ساری دنیا کو اپنے قدموں تلے سمجھتا ہے ۔ مجھ جیسا شاہکار شاید ہی اس دنیا میں ہو ۔میں جو چاہے کر سکتا ہوں ، میں لازوال ،میری جوانی میرے خواب آب حیات پی چکے ۔ یعنی موت کی طرف رتی برابر دھیان نہیں جاتا اور اگر چلا جائے تو ذہن بذات خود ذہن کو روکتا ہے موت کے بار میں سوچنے سے ، روح کے پرواز کر جانے کو ۔
جیسے ایک پہاڑ ہو ،اسکی چوٹی تک پہنچتے تیس سال لگے ،اب اس چوٹی کی دوسری جانب اترتے ہوئے بھی تیس سال لگیں گے اور سفر ختم ، ہماری خوبصورت جلد ،خوبصورت آنکھیں ، خوبرو ہونٹ ،مضبوط بازو ،سب فنا ، ابلتے خواب ہوا بن کے اڑ جائیں گے ۔کچھ خواب پورے ہو چکے ہوں گے اور کچھ حسرتوں کے بھنور میں بہہ جائیں گے۔ ساٹھ سال گزر جائیں گے ،دھوکے کا سفر ختم ہو جائے گا

۔ماہ نور جمیل عباسی پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی رضا کار ہیں