ڈاکٹر کی ڈائری !!

آج کلینک کے بعد سُسرال کا چکر لگایا تو اپنی better والی ہاف کو بڑا تیار شیار پایا،کھانا سرو کیا گیا جمائ راجہ کو،۔۔ ۔۔دی سِری پکی تھی میری فرمائش پر۔

ٹھنڈ کافی تھی بیگم صاحبہ جا کر اندر سے جرسی پہن آئیں،میری نظر پڑی تو جرسی بڑی کھِلتی ہوئ لگی،میں نے تعریف کی واہ،تو اور کھِل گئی۔۔

پوچھا یہ کہاں سے خریدی؟ کیونکہ عموماً شاپنگ میں خود ہی کرواتا ہوں۔۔ تو مُسکرا کر کہنے لگی LB سے ۔۔‏LB؟میں نے پوچھایہ کونسا برانڈ ہے؟ کھسیانی ہنسی ہس کے بولی،لنڈا بازار۔

میں بڑا حیران ہوا میں نے کہا کتنے کی؟؟ کہنے لگی تین سو روپے کی۔۔ ہیں ں ں۔۔ وہ کیسے؟ بازار گئے تھے، ایک بندہ پھٹے پہ جرسیاں لگا کر بیٹھا تھا،گزرتے نظر پڑی،اچھی لگی تو خرید لی۔۔۔۔۔

واہ یار بلکل بھی پتا نہی چل رہا ۔ ویسے۔۔۔یہی اگر کسی برینڈ سٹور پہ پڑی ہوتی تو تین ہزار کی بھی لے لیتے۔۔۔ کہنے لگی ؛ہاں تو یہ بھی برینڈڈ ہی ہے امپورٹڈ ۔۔

میرے شرارتی دماغ میں آئیڈیا آیا اور جیسا کہ میرا دوست جواد یہ چِتاونی دے چُکا کہ میں اپنے شکار کی فوٹو ضرور لیتا ہوں ۔۔۔میں نے موبائل نکالا اور اس اینٹیک جرسی کی فوٹو لینا چاہی، بیگم میرے ارادے بھانپ گئ اور نہ نہ پلیز کا رولا ڈال دیا !!

ترلہ منت کہ یہ کام نہ کرنا پلیز لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔ لیکن میں نے جان نہ چھوڑی نہ ہی چھوڑنی ہے، وہ پاپا رازی سے چھُپنے کی کوشش کرتی رہی، ہم قہقہے لگانے لگے،نیچے بیٹھی نور نشاں نے اپنے نانا سے پوچھا کہ یہ اوپر اتنا ہس کیوں رہے ہیں؟

انہوں نے کہا “تم بھی جا کے ہس لو” وہ بھاگتی اوپر آئ۔۔باقی آپ دیکھ ہی رہے ہیں آپ بھی ہس لیں ۔۔۔

یہ تو خیر ایک بے ساختہ ماحول بن گیا ۔ لیکن اس پہ ڈائری لکھنے(بیگم کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکی کے باوجود) کی وجہ کچھ اور تھی ۔۔

میں نے سوچا اپنے قارئین کیلئے لنڈا بازار کے پس منظر اور اسکی افادیت پہ اپنے انداز میں کچھ لکھوں۔

آپ جانتے ہیں کہ استعمال شدہ کپڑوں’ جوتوں اور پرانی دوسری اشیاء کے بازار کو “لنڈا بازار” کیوں کہا جاتا ہے ؟

اس کے متعلق مشہور ہے کہ ایک برطانوی خاتون کا نام Linda لِنڈا تھا،بہت رحم دل خاتون جسے غریبوں سے خاص ہمدردی تھی اس نے غریبوں کے لیے کچھ کرنے کا سوچا.چونکہ اس کے پاس اپنے وسائل کم تھے اس لئے اس نے اپنے دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی.

اس کے دوستوں نے اسے کچھ پرانے جوتے کپڑے وغیرہ دیئے. جو اس نے غریبوں کےلیے ایک اسٹال پہ سجائے اور غریب لوگ وہاں سے وہ کپڑے مفت لینے لگے.

دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑوں اور جوتے وغیرہ لِنڈا کو دینے شروع کر دئیے.اور اس کا یہ اسٹال کافی مشہور ہو گیا . جو بعد میں ایک مارکیٹ کی شکل اختیار کر گیا.

آخر اس جگہ کو لِنڈا مارکیٹ کہا جانے لگا،جو درحقیقت غریبوں کی مارکیٹ تھی.انگریزوں کی برصغیر آمد کے ساتھ ہی انگریزوں کی پرانی اشیاء جو بے کار ہو جاتی تھیں. سستے داموں میں ہند و پاک میں بک جاتی تھیں.

گویا انگریز جاتے ہوئے وراثت میں ہمیں لِنڈا مارکیٹ دے گئے جسے ہم لنڈا بازار کہتے ہیں. جو ہمارے ہاں مقامی زبان میں اس کا بگڑا ہوا نام ہے..!! اس کہانی کے اندر ہمارے لئے بھی مثال ہے کہ غریبوں کیلئے اگر کوئ نیک نیتی سے کچھ کرنا چاہتا ہے تو خدا دنیا میں ہی اسکا نام امر کر دیتا ہے،۔

لکھتے لکھتے یاد آیا کہ یارمدد گار گوجرنوالہ نے بھی اسی طرز پہ فاطمہ اسد روٹی بینک کے بعد ُبک بینک شروع کیا ہے جہاں آپ اپنے بچوں کی پرانی نصابی کتابیں ڈونیٹ کر سکتے ہیں،چئیرمین رضوان خواجہ اس سلسلہ میں انتھک محنت کر رہے ہیں۔ اور سینکڑوں کُتب اکٹھی ہو بھی گئی ہیں۔انشااللہ جلد افتتاح ہو گا۔

جس کو ضرورت ہو گی آ کر ریفرینس بُکس لے سکتا ہے ۔ بلکل فری۔۔یہ ڈائری اصل میں لنڈا بازار کا سِٹگما کم کرنے کی ایک کوشش ہے،کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ‏Charity begins at home.

دوسروں کو آدرش دینے سے پہلے خود کر کے دکھائیں. ہم جانتے ہیں کہ برینڈز کی چکا چوند آنکھوں کو خیرہ کرتی چمچماتی دکانوں اور آسمان کو چھوتی قیمتوں نے طبقاتی تفریق کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مزدور آدمی کو تو پرواہ نہی وہ تو ادھر دیکھتا ہی نہی لیکن سفید پوش متوسط طبقہ کا المیہ اور زیادہ ہو گیا ہے،جو نہ ادھر کے نہ ادھر کے ۔۔میرے خیال میں برینڈز بہت اوور چارج کرتے ہیں شائد انکی بھی مجبوری ہو،امیروں کی تو خیر مجبوری ہے ہی برینڈڈ کلچر شو شا اگر لنڈے سے اتنی سستی اور اچھی چیزیں ملتی ہیں تو کیا مُضائقہ ہے؟

چلیں کسی کی اُترن اگر طبع نازک پہ گراں گزرتی ہے تو جو اندرون شہر روایتی بازار ہیں وہاں سے نیو بھی کافی سستی اور معیاری چیزیں مل جاتی ہیں،ہمیں واپس ادھر ہی جانا ہو گا،سادگی اپنانا ہو گی،لوگوں کو کپڑوں جوتوں سے جج کرنا ترک کرنا ہو گا،ورنہ ہزاروں لاکھوں کما کر بھی ہم فائننشلی تنگ ہی رہیں گے.

رشتے داروں، مسکینوں اور مسافروں کا حق

کیا ہی کمال رہنمائ ہے؛وَ اٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ وَ لَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِیۡرًا ﴿۲۶﴾ اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بے جا خرچ سے بچو ۔

یہ تو خیر ایک رینڈم واقعہ ہو گیا لیکن مجھے فخر ہے کہ میری وائف الحمداللہ رزق کی فراوانی کے باوجود بھی کفایت شعار ہے،یہی وجہ ہے کہ ہم دوسروں کو اپنی خوشی میں شریک کر کے کبھی تنگ نہی ہوے۔۔

یہاں مجھے امجد اسلام امجد کی نظم سیلف میڈ کا المیہ یاد آ رہی ہے۔

زندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیں

سب ہی ہاتھ آتی ہیں

سب ہی مل بھی جاتی ہیں

وقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیں

یعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہے

لیکن اس طرح جیسے

قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے

اصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائے

فصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیں

جن کے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہی

ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ

فروری ۲۰۲۰