تحریر۔ نائیلہ الطاف کیانی

ہم کون ہیں؟ ہماری پہچان اور اصلیت کیا ہے؟ کیا ہم مسلمان معاشرہ ہیں اور کیا واقعی ہم اسلام کو مذہب اور ضابطہ حیات کے طور پر تسلیم کرتے پیں؟ اسلامی طرز زندگی سے ہماری مراد ہے کیا؟ کیا ہم واقعی اسلامی نظام چاہتے ہیں اور آج سے جھوٹ، فساد، غیبت، بہتان تراشی، کم ناپ تول، بے ایمانی، رشوت ستانی چھوڑنے اور بے راہ روی چھوڑنے پر آمادہ ہیں؟ یا اسلام سے ہماری مراد ہمیں نہیں دوسروں کو اسلامی اقدار کا پابند کرنا ہے؟  تو پھر کیا ہم مغربی معاشرے کے چاہنے والے ہیں؟ ہم لبرل ہیں؟ اگر ہاں تو دوسرے کو جینے کا حق دینے پر آمادہ کیوں نہیں ہیں؟ اگر قدامت پسند ہیں تو ہمارے افعال اقوام مغرب کی پیروی میں کیوں ہیں؟

ایک طرف ہم طالبان کی فتح کا جشن بنا کر ایک دوسرے، کو مبارک باد دے رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف کینیڈا، امریکہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں رہائش کیلئے ویزے  ڈھونڈنے والی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ دن بھر “میرا جسم میری مرضی” کے نعرے کے خلاف احادیث اور اسلامی قوانین تلاش کرتے ہیں اور شام کو موبائل پر بیٹھ  کر یہود و ہنود سے ایسی فرمائشیں کر رہے ہوتے ہیں کہ سنتا جا شرماتا جا۔ آئے روز ہمارے حکمرانوں، اداکاروں، مصاحب، افسران اور دیگر مشہور لوگوں کے بارے میں شرمندگی آمیز اسکینڈلز سامنے آ رہے ہوتے ہیں۔



 عائشہ اکرم
فوٹو : بشکریہ روزنامہ پاکستان

حال ہی میں چودہ اگست کے موقع پر وڈیو بنوانے کے لئے کیمرہ مین اور دیگر پانچ ساتھیوں سمیت مینار پاکستان پر جانے والی ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ من حیث القوم ہماری اخلاقی پستی کا شاہکار ہے۔ کس طرح ایک عورت کے ساتھ سیلفی بنوانے کی درخواستوں سے شروع ہو نے والا واقعہ ہمارے سوچ کے ننگے پن پر منتنج یوا۔ یہ کوئی ایک دو افراد نہیں تھے جن کی تربیت یا سیاسی جماعت پر الزام دھر کر آپ بری الذمہ ہو سکیں، یہ خاتون کے بیان کے مطابق پانچ سو کے لگ بھگ اور پولیس ذرائع کے مطابق چند ہزار افراد تھے۔ جو ایک خاتون کو اپنے درمیان پا کر اپنے آپ سے باہر ہو گئے، اسے ہاتھ لگانے اور کھینچا تانی کے شوق میں اس کا لباس تار تار کر دیا گیا اور اسے متعدد بار ہوا میں اچھالا گیا، اس کے ساتھ چھینا چبٹھی کی گئی۔ ہمارے ہزاروں افراد کے ہجوم نے دراصل ایک عورت کا لباس تار تار نہیں کیا بلکہ اپنا کردار بے لباس کیا، اپنے کردار کو ہوا میں اچھالا اور اپنی سوچ کی برہنگی کہا مظاہرہ کیا۔ یہ ہماری اصلیت ہے۔ یہ ہماری اوقات ہے اور یہ ہماری تربیت ہے۔ زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ رات کے اندھیرے میں سفریا سنسان راستوں کا انتخاب قپ کو مشکل میں ڈال سکتا ہے، جہاں زیادہ لوگ ہوں گے وہاں آپ کو ضرورت کے وقت مددگار مل پائیں گے۔ مگر اس واقعے نے تو ہمیں دن کے اجالے میں ننگا کر دیا۔ ہمیں بتا دیا کہ اس نام نہاد اسلامی ملک میں جتنے زیادہ لوگ آپ کے اردگرد ہونگے اتنے ہی بڑے خطرے میں آپ گھر سکتے ہیں۔ یہ لوگ گھٹن زدہ گلے سڑے نظام کا عکس ہیں، یہ اس معاشرے کے مرد ہیں جن کو کبھی سکھایا ہی نہیں گیا کہ مرد کی بھی عزت ہوتی ہے، اپنی نظر میں اپنا بھی ایک انسانی وقار ہوتا ہے اور کسی بھی گھٹیا حرکت کے نتیجے میں انسان کا اپنا کردار مجروح اور اپنی عزت داغدار ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے مردوں کی غیرت نہ گھر میں ٹانگیں پسار کر بیٹھے کھانیسے جاگتی ہے، نہ ماں باپ پر بڑھاپے میں بھی بوجھ بنے رہنے پر جاگتی ہے، نہ قطار توڑتے ہوئے گالیاں اور جھڑکیاں کھانے پر مجروح ہوتی ہے، نہ کاروبار اور دفتر میں بے ایمانی کرتے ہوئے متاثر ہوتی ہے۔ ہمارے مردوں کی غیرت کا معیار صرف اور صرف دوسری عورتوں کی وضع قطع رہ گیا ہے۔ یہی منافقانہ رویہ ہمارے معاشرے کی گراوٹ کی وجہ ہے۔ جن اخلاقی پستی کے گڑھوں میں ہم روز بہ روز گرتے جا رہے ہیں ان کی بنیادی وجہ اسلام سے دوری نہیں ہے، کہ کئی غیر اسلامی اور ملحد معاشرے ہماری بہ نسبت زیادہ ایماندار اور اخلاقی قدروں والے ہیں۔ ہماری اخلاقی پستی کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دل میں ہماری اپنی عزت کے ہونے کا احساس نہیں ڈالا گیا، اس ذاتی عزت کی حفاظت کا خیال رکھنے کی ضرورت کا ادراک نہیں پیدا کیا گیا۔ یہ اپنے دل میں اپنا وقار قائم رہنے کی خواہش ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے مہذب معاشرے میں آپ کو جھوٹا گواہ نہیں مل پاتا۔ جبکہ ہم اپنی عزت نہ کرنے والے لوگ گناہ صرف اسے سمجھتے ہیں جو لوگوں کے سامنے آ جائے، ہم جرم صرف اسے سمجھتے ہیں جو قانون کی گرفت میں آ جائے۔ یہ شخصی وقار کی کمی ہی ہے کہ ہماری عورتیں کسی بھی قسم کی نمائش اور بے ہودہ حرکات کی وڈیوز کی صورت میں چند لائیکس اور کمنٹس کیلئے اپنا کردار مسخ کر سکتی ہیں۔ ہمارے مرد عورت کو باہر دیکھ کر اس کو قصور وار گردان کر کسی بھی حد سے گزر جاتے ہیں۔ اور اس کے باوجود بھی وہ اپنا سامنہ کرنے کے قابل رہتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی انسان ہونے کے ناطے عزت کریں۔ اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت میں اپنا شخصی وقار قائم رکھنے کی مشق کریں، اپنے ضمیر کی آبیاری کریں تاکہ غلطی ہو جانے پر ابلیس کی طرح وجوہات تراشنے کے بجائے شرمندہ ہو کر توبہ کر سکیں۔ دوسروں پر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا الزام دھرنے سے ہم اپنے اعمال سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اس سے پہلے کہ ہمارا شمار مسلمانوں میں تو کیا مہذب انسابوں میں کیا جانا ہی متروک ہو جائے، ہمیں ہوش کے ناخن لے لینا چاہیئں۔


لکھاری کا تعارف 

نائلہ الطاف کیانی ایک سیاسی اور سماجی تجزیہ کار ہیں۔ اردو اور انگریزی اخبارات میں کالم نگار ہیں اور آزاد کشمیر ٹیلی ویژن ٹیلی ویژن پر حالات حاضرہ کے پروگراموں کی میزبانی کرتی ہیں۔ 

Leave your comment !