پروفیسر رضوانہ انجم

میری طالب علمی کے زمانے کا لاہور کالج، لاہور کے بہترین کالجوں میں شمار ہوتا تھا۔کنئیرڈ کالج برائے خواتین کے بعد لاہور کالج برائے خواتین کی شہرت پورے پنجاب میں تھی۔

اس کالج کی اساتذہ اور طالبات کے درمیان ادب واحترام و تقدس کا بےمثال رشتہ قائم تھا۔بحثیت طالبہ اس کالج میں جو چار سال گزرے وہ سرمایۂ حیات ہیں۔

چار سالہ دور یادوں کا حسین البم ہے جسکی ہر تصویر ایک سبق اور پیغام ہے۔اس دور کے اساتذہ بجا طور پر صاحب علم تھے اور طالب علم حقیقتاً علم کے طلبگار۔

علم کی یہ طلب اور رسد احترام اور عقیدت کے قیمتی طلائی و نقرئی اوراق میں لپٹی ہوئی تھی اور عاجزی کی کلابتون سے بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔ ہم اسے پلکوں اور پیشانی پہ اٹھائے پھرتے تھے۔

استاد سے لگاتار نظر ملا کر بات کرنا،انکی بات قطع کرنا،راستے میں چلتے ہوئے ان کے برابر یا نذدیک ہو کر چلنا گویا بد تہذیبی نہیں گناہ کے زمرے میں آتے تھے۔یہ باتیں آج بھی گناہ صغیرہ ہی لگتی ہیں۔

آج بھی ان بے مثال اور نابغۂ روزگار اساتذۂ کرام کے نام نامی بنا دعاؤں کے ہونٹوں پر نہیں آتے۔اللہ علم و آگہی کے ان میناروں کو تندرستی اور سلامتی کے ساتھ طویل عمر عطا کرے آمین ثم آمین۔

یوں تو سبھی اساتذہ کرام نگینے تھیں لیکن انمیں دو عظیم ہستیوں نے میری گمنام سی ہستی کو اپنے شخصیت کے سورج سے روشنی عنایت کرنے اور اس ذرے کو اپنی چمک دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

ایک استاد محترم مس رقیہ رفیق قریشی صاحبہ جنہوں نے دنیا کا جغرافیہ ایسے دل و جان سے پڑھایا کہ پھر انکی اور جغرافیہ کی محبت دل سے نکل ہی نہیں سکی۔۔۔عشق بن گئی۔۔۔پوری زندگی پہ چھا گئی۔۔۔۔اور دوسری ہستی ڈاکٹر عارفہ سیدہ صاحبہ کی کہ اردو ادب اور ادب۔۔۔جنکا اوڑھنا بچھونا تھے اور ہیں۔۔۔۔کوئی مجسم ادب ہو کر کیسا دکھتا ہے؟

اگر کسی کو دیکھنا ہو تو ڈاکٹر عارفہ سیدہ سے کچھ دیر ملاقات اور گفتگو کر کے دیکھیں۔۔۔بدایوں سے لیکر دہلی و علیگڑھ اور آگرہ کے سارے قرینے ان ایک ہستی میں سمٹے نظر آئیں گے۔ڈاکٹر صاحبہ کی پی ایچ ڈی کی ڈگری،علم و دانشوری ،ملکی اور غیر ملکی اعلٰی ترین فورمز پر انکے لیکچرز کی دھوم اور پزیرائی۔۔۔۔کچھ بھی تو اس عاجزی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی جو ہم نے بحیثیت وائس پرنسپل انمیں اسوقت دیکھی جب وہ اپنے ہاتھوں سے لاہور کالج کی اندرونی سڑکوں سے طالبات کے پھینکے ہوئے کاغذ اور ریپرز اٹھا رہی ہوتی تھیں۔

دنیا کی نظروں سے بے نیاز اپنے کالج کی سڑک کو صاف ستھرا کرنے کی دھن میں مگن ہوتی تھیں۔اور ہم طالبات بھی بخوبی سمجھتی تھیں کہ جب علم کا آفتاب زمین کی طرف جھکتا ہے تو اسکی آب وتاب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ زمین کے بخت روشن ہوتے ہیں۔وہ جسقدر جھکتی تھیں ہماری نظروں میں اتنی ہی ارفع اور عارفہ ہوتی چلی جاتی تھیں۔سلامت رہیں آمین۔استاد کی جیسی عزت میں نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کو کرتے دیکھا۔۔۔۔کسی اور کو کم ہی دیکھا ہے۔

ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔لاہور کالج کے شاہ فیصل آڈیٹوریم میں کوئی ادبی تقریب منعقد ہور ہی تھی۔ڈاکٹر سجاد باقر رضوی مرحوم مہمان خصوصی تھے اور ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے استاد تھے۔

استاد محترم جب تک اپنی نشست پر بیٹھے نہیں ڈاکٹر عارفہ سیدہ ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑی رہیں۔جب استاد محترم بیٹھ گئے تو ڈاکٹر عارفہ سیدہ ،پرنسپل لاہور کالج، بین الاقوامی شہرت کی حامل دانشور ، تاریخ دان مفکر،مقالہ نگار اپنے استاد کے قدموں میں زمین پر بیٹھ گئیں اور بیٹھے بیٹھے آسمان کو چھو لیا۔۔۔۔چاند کو ہاتھ لگا آئیں۔

میری استاد محترم ڈاکٹر عارفہ سیدہ کی طرح ہر جینوئن صاحب علم و فن و کمال جانتا ہے کہ آنا و فخر کے بت توڑ کر،عاجزی کا بھبوت مل کر،گھٹنوں کے بل بیٹھ کر استاد،والدین،ضعیفوں،عورتوں ،کمزوروں اور کم حیثیت رکھنے والوں کے سامنے جھکنا وہ عظیم سیڑھی ہے جو علم اور صاحب علم کو خاک سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں تک لے جاتی ہے۔ذرے کو آفتاب و ماہتاب بنا دیتی ہے۔۔۔۔۔

لیکن یہ راز خوش نصیبوں پر افشاء ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہم سب کو عاجز بنائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔