رپورٹ: تہذین طاہر

تہذین طاہر

“تسنیم جعفری فن اور شخصیت” کے موضوع پر تحریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا

پریس فار پیس فاؤنڈیشن نے مقابلے اور تقسیم انعامات کا اہتمام کیا۔

بچوں کے لیے سائنسی کہانیاں لکھنے والوں میں ایک منفرد نام تسنیم جعفری کا ہے۔ آپ ایک معروف ادیبہ ، ماہر تعلیم ، شاعرہ ، مصور ، اور درجنوں کتب کی مصنفہ ہیں۔بچوں کے ادب کے حوالے سے آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کے منفرد اسلوب پر مشتمل کہانیاں اور دیگر مضامین کو علمی و ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی۔اسی پذیرائی اور ادب کی دنیا میں آپ کی محنت کا منہ بولتا ثبوت پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایوارڈ تقریب ہے۔پریس فار پیس فاؤنڈیشن انگلینڈ میں رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ ظفر اقبال صاحب کی زیر نگرانی آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کا کرداراہم ہے۔ تسنیم جعفری صاحبہ کی محنت اور بچوں کے لیے مثالی کام کرنے پر اس فاؤنڈیشن کی جانب سے محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی خدمات اور شخصیت کے حوالے سے تحریری مقابلہ منعقد کروایا گیا۔ ادیبوں نے اس مقابلے میں بھر چڑھ کر حصہ لیا جس کے نتائج میں تقریباً آٹھ لوگ انعام کے مستحق قرار پائے۔

تحریری مقابلہ جیتنے والوں کو انعام دینے کے لیے قذافی سٹیڈیم ،پنجاب کمپلیکس میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس تقریب کی میزبان فلک ناز نور تھیں۔ تقریب کا آغاز کلام پاک سے کیا گیا ۔ جس کا شرف غلام زادہ نعمان صابری کو حاصل ہوا۔مہمان خصوصی ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ اور شاہین اشرف صاحبہ اور محمد شعیب مرزا صاحب تھے۔

قرة العین، عطرت بتول، فوزیہ تاج، نصرت نسیم، منزہ اکرم، رفعت امان اللہ، فریدہ گوہر اور انصار احمد معروفی نے مقابلے میں پوزیشنیں حاصل کیں

مقابلہ جیتنے والوں میں پہلا نام قرة العین عینی،دوسرا عطرت بتول اور فوزیہ تاج، تیسرا نصرت نسیم اور منزہ اکرم، چوتھا رفعت امان اللہ اورفریدہ گوہر جبکہ ایک خصوصی ایوارڈ محترم انصار احمد معروفی کا تھا جنہوں نے انڈیا سے خصوصی شرکت کی تھی۔

مقابلے کی فاتح قرة العین عینی

مقابلے کی پہلی فاتح قرة العین عینی چار کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تسنیم جعفری صاحبہ کی سب سے پہلی تحریر انہوں نے 2003ءمیں پڑھی ۔ جو مریخ کے بارے میں ایک کہانی تھی ۔ اور تب سے انہیں پڑھتی آ رہی ہیں۔انہوں نے ظفر اقبال صاحب، پریس فار پیس فاؤنڈیشن اور محترمہ تسنیم جعفری کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تقریب کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادیبوں کا کام صرف پیسہ کمانا نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی نشوونما اور تربیت کرنا بھی ہے۔ اس حوالے سے تسنیم جعفری کا کردار مثالی ہے کہ وہ تخیل کی دنیا میں نہیں لکھتیں بلکہ ماضی، حال اور مستقبل سمیت خصوصاً سائنسی فنکشن لکھ رہی ہیں جو بہت ضروری ہے۔

عطرت بتول صاحبہ جو مقابلے کی دوسری فاتح تھیں نے ایک حدیث مبارکہ سے اپنی بات کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا تسنیم جعفری پذیرائی کی مستحق ہیں جو نوجوان نسل میں شعوربیدار کر رہی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ماں کی دعاؤں سے آج تسنیم جعفری یہاں تک پہنچی ہیں ۔

سفر نامہ نگار تابندہ ضیاءجو ماہنامہ”پھول” کی لکھاری بھی ہیں انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کا یہ دور مصروف ترین ہے۔ جہاں خلقِ خدا کی خدمت کی ہی نہیں جاتی۔ نفسا نفسی کے اس دور میں پریس فار پیس فاؤنڈیشن کا کام اعلیٰ ہے۔ اس طرح کے ادارے تسنیم جعفری جیسے جانے مانے لکھاریوں سمیت نئے آنے والوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فضیلت بانوکا کہنا تھا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں تسنیم جعفری کے لیے کچھ کہہ سکوں۔ انہوں نے تسنیم جعفری کو ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ ادبی تو یہ ہیں لیکن سائنسی نہیں لگتیں۔ تسنیم معلومات سے بھرپور کہانیاں لکھتی ہےں۔ پہلے ہمارے پاس سائنسی بھائی(ڈاکٹر طارق ریاض) تھے اور اب ایک سائنسی بہن بھی ہیں۔ اس طرح ادیبوں کا سائنسی قبیلہ بن رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ رواں دواں رہے ۔

مہمان خصوصی ماہنامہ”پھول” کے ایڈیٹرمحمد شعیب مرزاکا کہنا تھا کہ مجھے ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو اپنے بارے میں نہیں بلکہ دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ پریس فار پیس کے چیئرمین ظفر اقبال صاحب اور تسنیم جعفری ایسے ہی ہیں ۔ ادب اور سماجی خدمات کے لیے ہر وقت سرگرم رہتے ہیں۔ انہوں نے ادیبوں کی پذیرائی کرنے پر ظفر صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مبارک باد دی۔ انہوں نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ میں اس لیے بھی تسنیم جعفری صاحبہ کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ پچھلے کچھ سالوں سے بچوں کے ادیبوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک لاکھ کے ایوارڈز دے رہی ہیں۔ جبکہ حکومت کو بچوں کے ادب پر کام کرنے والوں کے لیے ایوارڈز کا اعلان کرنا چاہیے جو وہ نہیں کر رہی۔انہوں نے تسنیم جعفری صاحبہ کے کام کو مثالی قرار دیا اور تقریب میں مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ ظفر اقبال

پریس فار پیس فاؤنڈیشن انگلینڈ کے چیئرمین ظفر اقبال صاحب نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ آئندہ بھی ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔

ظفر اقبال سفیرِ ادب ہیں شاہین اشرف

تقریب کی مہمان خصوصی شاہین اشرف صاحبہ نے اپنی خوشی کا اظہار شرکاء کے ساتھ مل کر بھرپور تالیوں سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادیب کو عزت کیوں نہیں دی جاتی۔ معاشرے میں سب سے کم حیثیت ادیب کی ہے ۔ جبکہ ادیب سوچتے ہیں، لکھتے ہیں، نوجوان نسل کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن قومی سطح پر انہیں کوئی نہیں سراہتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ دوسرے شعبوں کی طرح ادیبوں کو خاص اہمیت دی جائے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انہوں نے ادیبوں اور خصوصاً تسنیم جعفری صاحبہ کو بقاعدہ سلیوٹ کے ساتھ سلام پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تسنیم جعفری نرم دل معلمہ ہیں جو پیار دیتی اور لیتی ہیں اور محبت بھری خوشبو بکھیر رہی ہیں۔اللہ تسنیم جعفری کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی توفیق دے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ظفر صاحب سفیرِ ادب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے فلاحی کاموں میں ترقی دے۔ انہوں نے تقریب کا انعقاد کرنے پر پریس فار پیس کاشکریہ ادا کیا۔

تسنیم جعفری، محمد شعیب مرزا اور شاہین اشرف کو ادبی خدمات پر ایوارڈز دیے گئے۔

محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ نے اپنے خیالات کااظہار کرنے سے پہلے سب کا شکریہ ادا کیا ۔ تقریب میں آنے والوں کو خوش آمدید کہا اور مقابلہ جیتنے والوں کو مبارک باد پیش کی۔تسنیم جعفری صاحبہ نے بتایا کہ انہوں نے2003ءمیں پہلی کہانی لکھی جو “پھول” میں شائع ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردو سائنس بورڈ اور اردو میگزین کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ انہیں سائنسی مصنفہ کا ایوارڈبھی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اکثر مجھے کہا جاتا ہے کہ میں بچوں کے لیے لکھ کر اپنا وقت ضائع کر رہی ہوں۔ جبکہ مجھے بچوں کے لیے لکھنا اچھا لگتا ہے۔ میں ایک ٹیچر ہوں، اور میں چاہتی ہوں بچوں کے لیے اچھا لکھوں، مختلف لکھوں خاص طور پر سائنس فنکشن پر لکھوں تاکہ بچے معلومات حاصل کر سکیں۔ ملک و قوم کی ترقی کے لیے سائنسی ادب کو پھیلانا بھی ضروری ہے۔آج کے دور میں چاند کی طرف یا آسمان کی طرف دیکھنا خلل سمجھا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ماحولیات پر کافی کچھ لکھا ہے ۔ آپ دنیا کی تاریخ پڑھیں تو جانیں گے کہ دنیا آگ کا گولہ تھی۔ انسان کو بسانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے رہنے کے قابل بنایا ۔ ماحول کو خوشگوار اور صاف ستھرا کیوں اور کیسے بنایا جائے اس بارے میں میرے کتاب “ماحول سے دوستی کیجئے” میں بتایا جا چکا ہے۔ انہوں نے پریس فار پیس کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بھی اعزاز کی بات ہے کہ یہ فاؤنڈیشن کشمیری بھائیوں کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔انہوں نے ظفر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادیبوں کے حوالے سے کام کرنا بڑی بات ہے۔یہ ادارہ پرانے اور نئے ادیبوں اور شاعروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔آخر میں انہوں نے تقریب کی میزبان فلک ناز صاحبہ کا شکریہ ادا کیا جن کی محنت سے تقریب منعقد ہوئی۔

شمیم عارف صاحبہ جو تسنیم جعفری صاحبہ کی بڑی بہن بھی ہیں کہتی ہیں مجھے تسنیم پر فخر ہے۔ ہماری دوستی پُرانی اور مثالی ہے ۔ یہ نیک اور اچھی بہن ہے۔ انہوں نے پریس فار پیس کا تسنیم جعفری پر تحریری مقابلہ کروانے پر شکریہ ادا کیا۔

ڈاکٹرطارق ریاض صاحب جو ادب کی دنیا میں سائنسی بابو کے نام سے جانے جاتے ہیں نے کہا کہ میں دس پندرہ سال سے تسنیم جعفری کو پڑھ رہا ہوں۔ سائنسی ادب سے میرے ساتھ ساتھ ان کا بھی گہرا تعلق ہے۔ سائنسی حوالے سے یہ میری چھوٹی بہن ہیں۔ جو وہ لکھ رہی ہیں احساس کے ساتھ لکھتی ہیں۔ دردِ دل رکھتی ہیں۔ ادبی اور سائنس فنکشن کے حوالے سے وہ ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔

سینئر ادیبہ عالیہ بخاری صاحبہ نے محترمہ تسنیم جعفری کو خوبصورت گلدستہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تسنیم جعفری سے میرا تعلق بہت پرانا ہے ۔ انہوں نے اب تک جتنا کام کیا وہ سراہے جانے کے قابل ہے ۔ میری بہت سی دعائیں تسنیم جعفری کے لیے ۔ وہ اپنے کاموں کی تکمیل تک پہنچیں۔

غلام زادہ نعمان صابری نے کہا کہ محترمہ کا کام بہت اچھا ہے ۔وہ بہت محنت اور لگن سے کام کر رہی ہیں ۔ ان کے لیے ڈھیروں دعائیں۔

مدیر اعلیٰ بچوں کا پرستان امان اللہ نیرشوکت جو ماہنامہ “پھول” میں باقاعدگی سے نظمیں بھی لکھتے ہیں انہوں نے مقابلہ جیتنے والوں کو مبارک باد دی۔اور کہا کہ سائنسی فنکشن میں دو نام معتبر ہیں ڈاکٹر طارق ریاض اور تسنیم جعفری صاحبہ۔ میں مشکور ہوں محمد شعیب مرزا صاحب کا جن کا نام اور کام دونوں بڑے ہیں۔شکریہ پریس فار پیس اور تسنیم جعفری صاحبہ کا جنہوں نے ہمیں یہاں بلا کر عزت بخشی۔

وسیم عالم صاحب نے پریس فار پیس کے کام کو سراتے ہوئے کہا کہ تقریب بہت اچھی ہے۔ تسنیم جعفری تحریری مقابلہ کروانے پر انہوں نے تسنیم جعفری کو مبارک باد دیتے ہوئے مزیدکہا کہ تسنیم جعفری سائنسی فکشن کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

پریس فار پیس کے رکن سرفراز علی جو جرنلسٹ بھی ہیں اور تقریب کی لائیو کوریج کرتے ہوئے اسے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھانے میں مصروف تھے نے تقریب میں موجود مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ 2003ءسے پریس فار پیس فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں۔ ادب پر کام کرنے والے لوگ ہی سوسائٹی کا اصل چہرہ ہیں۔ آپ سب کی آمد اور اس تقریب کو شاندار بنانے کا بہت شکریہ۔

 تقریب کے آخر میں مقابلہ جیتنے والوں کو شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔ تسنیم جعفری صاحبہ کو پریس فار پیس فاؤنڈیشن کی جانب سے خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ مہمانانِ خصوصی شاہین اشرف اور ایڈیٹر ماہنامہ “پھول” محمد شعیب مرزا صاحب کو بھی بہترین ادبی خدمات انجام دینے پر پریس فار پیس کی جانب سے ایواڈز پیش کیے گئے۔تقریب کی میزبان فلک ناز اور خدیجہ طارق کو خصوصی سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔

تقریب میں خصوصی شرکت کرنے والوں میں صفیہ ہارون ، تہذین طاہر،عائشہ جمشید ، اسماءجمشید، اسعد نقوی،غلام زہرا، ایمان فاطمہ سمیت کئی ادیب شامل تھے۔ تقریب کے مہمانوں کی چائے اور پھلوں سے تواضع کی گئی۔ اور ایک خوشگوار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

بشکریہ ماہنامہ پھول  لاہور 

یہ رپورٹ ماہنامہ پھول یکے از مطبوعات نواۓ وقت شائع ہوئی ہے – ایڈیٹر پھول جناب شعیب مرزا اور محترمہ تہذین طاہر کے خصوصی شکریے اور اجازت سے شائع کی جارہی ہے 

٭….٭….٭

Leave your comment !