کہانی کار اور تصاویر -فیصل مرزا

کوٹلی مقبرہ ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل کامونکی میں موڑ ایمن آباد سے کم و بیش تیس چالیس کلو میٹر کی دوری پر واقع ایک گاؤں ہے۔ وہاں موٹر سائیکل پر پہنچتے ہوئے ہمیں قریبا ایک گھنٹہ بیس منٹ لگے۔ مقبرہ کیا تھا کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک بلند و بالا اور پر شکوہ مگر اداس سی عمارت تھی دور سے ہی اپنی خستہ حالی و بے توجہی پر ماتم زدہ لگ رہی تھی ۔ مقبرہ کے قریب پہنچے تو ایک سرنگ نما راستہ تھا جو گنبد کی عمارت کے نیچے جاتا تھا۔ اندر گے تو تین قبریں تھیں وسطی قبر پر تختی لگی تھی جس پر کنندہ تھا ۔

مولانا شیخ عبدالنبی سلطنت مغلیہ کے عہد میں قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے۔اور دائیں بائیں والی قبروں کے متعلق لکھا تھا کہ ایک ان کے بیٹے کی اور دوسری خادم خاص کی قبر ہے ۔ خیر ہم دعا کے بعد وہاں سے نکلے تو مقبرے کی عمارت کو دلچسپی سے دیکھنے لگے وہ اپنے اندر چار صدیوں کی تاریخ کو سموئے ہوئے تھی ۔ دراصل اس مقبرے میں موجود قبروں کی شخصیات پر تو مختلف روایات ہیں اور یقینی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کون کون یہاں دفن ہیں؟  یہ محض غالب گمان کے تحت یا راجح روایت کے مطابق وہاں مولانا شیخ عبد النبی کے نام کی تختی آویزاں ہے ۔ لیکن عمارت اپنی تاریخ میں بلا شبہ چار سو سال قدیم ہی ہے کہ اس کا طرز تعمیر سترھویں صدی میں شاہ جہاں کے عہد کی عمارات سے کاملا مماثلت رکھتا ہے ۔

 محققین نے اسے شاہ جہاں کے عہد سے ہی جوڑا ہے لیکن قدیم تاریخ اور انگریزی اقتدار کے زمانے کی تاریخ میں بھی اس مقبرے کا کہیں ذکر نہیں ملتا شاید دور ویران و بے آباد مقام پر ہونے کی وجہ سے یہ مقبرہ مؤرخین اور آثار قدیمہ کی نظروں سے اوجھل رہا ہوگا لیکن علاقائی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ آج سے کم و بیش تیس سال قبل اسی آب و تاب سے کھڑا تھا جیسے اسے تعمیر کیا گیا تھا مگر دھیرے دھیرے اطراف کے لوگوں نے اس کی ویرانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی عمارت کو منہدم کرنا اور اینٹ ٹائل کو گھروں میں لے جانا شروع کردیا جس سے اس کی چار دیواری بھی جاتی رہی اور مقبرے کی عمارت بھی کھوکھلی ہونے لگی ۔ مزید قہر یہ ہوا کہ کچھ سال قبل چند لوگ خود کو محکمہ آثار قدیمہ کا ظاہر کرکے یہاں ٹھہرے رہے اور ایک رات پھر چپکے سے گنبد پر لگی قیمتی نوادرات کو اتار لے گے بل کہ قبر کشائی کرکے لاشوں کی بے حرمتی بھی کی معلوم نہیں جس خزانے کی تلاش میں آئے تھے لے گے یا نہیں لیکن اس تاریخی مقبرے کے حسن کو داغ دار کرگے۔ آج بھی یہ مقبرہ حکومت اور آثار قدیمہ کی توجہ کا طالب ہے ۔ لازم ہے کہ ایسے تاریخی مقامات کو محفوظ رکھ کر نسل نو کو بھی محفوظ آثار اور تاریخ فراہم کریں۔

Leave your comment !