موجودہ دور میں جس متنازعہ خطہ کا ذکر ھو رھ ہے۔ وہ 4 اکتوبر 1947 کو متنازعہ بنا۔ یہ ایک تسلیم شدہ ریاست تھی۔ اس کا نام تھا ریاست جموں و کشمیر۔

جس کی اکاہیاں لداخ بلتستان گلگت اور وادٸ کشمیر تھیں۔ رقبہ85806 مربع میل تھا ۔یہ ریاست 16 مارچ 1846 کو معرض وجود میں آٸی ۔ اس کا بانی مہاراجہ گلاب سنگھ تھا ۔یہ کثیر المذاھب ریاست تھی۔اور سب علاقہ جات اور مذاھب کی نماہندگی تھی۔

ایک صدی بعد۔جب دوقومی نظریات کے تحت ہندوستان کا بٹوارہ ھوا۔۔تو دو قوموں یا دو مذاھب کا نا مکمل بٹوارہ ھو گیا ۔ آدھی سے زیادہ قوم یا ملت ہندوستان میں چھوڑ کر آدھی قوم قلعہ بند ھو گٸی ۔ ایسے لگتا تھا چند ملاں اور وڈیرے بہت جلدی میں ہیں۔

دوقومی تعصب کو ریاست جموں کشمیر میں بھی کھینچ کر لایا گیا۔ کچھ سہولتاروں کو کو مہرے بنایا گیا۔اور مسلم اکثریتی علاقہ جات میں غدر کھیلا گیا۔

اور سردار ابراھیم کی قیادت میں ساڑھے چار ہزار مربع میل پر محیط ایک ریاست قاہم ھوٸی ۔ ریاست آزاد کشمیر۔ جو پاکستان کے ساتھ کھڑی ھے۔عزت حرمت مال و جان بیچ کر حکمِ قرآں کے تحت۔۔اس ریاست کا بانی سردار ابراہیم ھے۔

اس ریاست سے ریاستی نہتے باشندوں ڈوگروں برھمنوں کو دو قومی نظریات کے پاسداران نے قباہلی درندوں کی حمایت سے گاجر مولی کی طرح دریاوں کے کناروں پر کاٹ پھینکا۔ اور اس ریاست سے غیر مسلموں کی بیخ کنی کر ڈالی۔۔

اب سوال یہ بنتا ھے۔ اقوامِ متحدہ میں جو کیس ھے۔وھ ھے ریاست جموں و کشمیر کا جس کا رقبہ ھے 85806 مربع میل ۔اس کی جغرافیاٸی سرحدوں کا تعین ھوا۔ جس کا بانی ھے مہاراجہ گلاب سنگھ۔ جس کی بنیاد و ثبوت ھے معاہدہ امرتسر۔ جسے برطانیہ سمیت ساری دنیا جانتی مانتی ھے۔

اگر اس ریاست کی آزادی کے متمنی ہیں ریاست آزاد کشمیر کے لوگ اور انکا آقا پاکستان۔ تو لاکھوں بےگناہ ریاستی غیر مسلم باشندوں کے قاتل یہ بتاہیں۔تم ریاست کے تین ڈویژن ۔جموں۔لداخ۔ اور وادٸ کشمیر سے کس اصول ضابطے۔ کے تحت حاصل کرو گے؟

جہاں کثیر المذاہب آبادی ھے۔۔لداخ بلتستان۔ جموں۔میں بڑی تعداد میں کثیر المذاہب آباد ہیں۔ ایک دو قومی نظریے کا حامل ملک پاکستان آپ کو کس فلاسفی کے تحت ریاست جموں و کشمیر بحال و آزاد کروا کر دے گا۔؟

اور اس خوش فہمی سے اب تو باہر نکل آنا چاہیے۔ بھارت کے حالیہ اقدام کے بعد۔جب اس نے ریاستی تشخص کو پامال کیا۔۔تو بہادر اور غمگسار پاکستان نے کیا کر لیا۔۔

المیہ یہ ھے ریاست جموں کشمیر کےبجاٸے کشمیر کشمیر کی گردان 100% منافقت ھے۔ اور اس کی داغ بیل ڈالی قوم پرستوں کے آہیڈیل راہنما مقبول احمد بٹ نے۔

ریاست جموں کشمیر کی بحالی و آزادی کی سوچ اور صدا کو ہی کوہستانوں کی بازگشت بنا دیا۔ مفاہیم ھی بدل ڈالے۔مذہب کی باگ پکڑ صرف مسجد میں جایا جا سکتا ھے۔عزت حرمت حکمِ قرآں۔

ایک قابض کی حمایت سے دوسرے قابض سے گلو خلاصی کیسے ممکن ھے اور کیونکر ممکن ھے کلیسا ،مندر۔ گردوارے، جماعت خانے۔ تباہ کر کے کونسی ریاست حاصل کی جا سکتی۔کیسے بحال کی جا سکتی ھے۔

کہاوت ھے ہم اس مغرب سے روشنی کے متمنی ہیں جہاں سورج بھی جاتا ھے تو ڈوب جاتا ھے۔۔۔ہم اس ملک سے ریاست کی آزادی کے متمنی ہیں جس کے تعصب حرص کمینگی کیوجہ سے آدھا وجود دولخت ھوا۔ جو خود اپنے وجود کی ٹوٹی کرچیاں نہیں سنبھال پایا

۔جہاں بلوچی سراپا احتجاج ہیں شورشزدگی ھے۔ تورا بورا پر ایف سولہ بمبارمنٹ کرتے ہیں۔۔جہاں سندھ میں آج بھی جی ایم سید کے لاکھوں چاھنے والے ہیں۔۔وھ ہم سے یکجہتی کا اظہار کر رھا جسے بلوچوں سے پختونوں سے سندھیوں سے کرنی چاھٸے۔

کشمیر آزاد کروانے والو۔ یہ کام زاہد حامد ۔اوریا مقبول جان، حافظ سعید ۔آسیہ بہن جی ۔یاسین ملک۔صاحب کو کرنے دو۔۔