July 5, 2022

“بہاول پور میں اجنبی” : شائستہ کومل کا تبصرہ

تبصرہ نگار: شائستہ کومل

                                                                                                    کتاب:بہاول پور میں اجنبی

                                                                                                                               مصنف:مظہر اقبال مظہر     

 طابع: پریس فار پیس فاؤنڈیشن لندن، یو کے

سن اشاعت: 2021          

                    مندرجہ بالا کتاب 119 صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب کے مصنف مظہر اقبال مظہر کا بنیادی تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور وہ بسلسلہ روزگار کراچی میں مقیم تھے تو 1995 میں وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے ایم اے انگریزی کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار دینے آئے۔ علم کے متلاشی اس متجسس روح نے بہت تھوڑے سے وقت میں امتحان کے دورانیہ میں ہی بہاول پور کو دیکھ بھی لیا اوراسی زاویہ نگاہ سے تقریباً 25  سال بعد اسے تحریری شکل میں بھی بیان کیا ہے۔

                    کتاب ـــ “بہاول پور میں اجنبی ” بہت زیادہ ضخامت کی حامل نہ ہے اور نہ ہی یہ بہاول پور کی تاریخ اور ثقافت کا مکمل احاطہ کرتی ہے اور مصنف نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔

                    کتاب میں اندازِ بیان کافی حد تک شگفتگی کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ سلیس اور رواں تحریر میں بہت کم جگہوں پر خشک اور غیر ضروری باتیں لکھی گئی ہیں لیکن ایک منجھے ہوئے قلمکار کا تاثر مکمل طور پر نہیں بنتا۔

                    کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں باتوں کو غیر معمولی طوالت نہیں دی گئی نہ بہاول پور پر لکھی گئی دیگر کتب سے چربہ سازی کی گئی ہے۔اگرچہ بعض موضوعات پر اختصار نویسی سے تشنگی کا احساس ہوتا ہے لیکن اس کا دوسرا مثبت پہلو یہ ہے کہ کتاب بوجھل اور ثقیل محسوس نہیں ہوتی۔

                    کتاب کے مطالعہ کے دوران مصنف کی اپنی جنم بھومی کشمیر سے محبت اور الفت احساس جا بجا جھلکتا نظر آتا ہے۔ وہ بہاول پور کی جس چیز کو دیکھتا ہے، اسے اپنا علاقہ کشمیر ضرور نظر آتا ہے اور وہ اس کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مثل مشہور ہے کہ ہر کسی کو اپنا وطن کشمیر نظر آتا ہے تو کشمیر کے باسی کو کشمیر کیسے بھول سکتا ہے؟

                    مصنف نے سرزمین بہاول پور کی خوبیوں کا دل کھول کر ذکر کیا ہے۔ بہاول پور کی سرائیکی زبان کی شیرینی، مٹھاس اور حلاوت کو بیان کرتا ہے تو بہاول پور کے تہذیبی ورثے کی خوبصورتی اور جمال کا تذکرہ بھی کرتا ہے۔ بہاول پور کے عباسی حکمرانوں کے اچھے کارناموں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تصوف اور روحانیت کے مراکز اور بزرگانِ دین کا ذکر بڑے احترام سے کرتا ہے۔

                    مصنف نے کشمیر اور ریاست بہاول پور کی محرومیوں اور تاریخی ناانصافیوں کو بیان کیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ دونوں خطوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور اس سے ان دونوں سابقہ ریاستوں کے باشندگان کی حق تلفی ہوئی ہے۔ وہ بہاول پور کی ریاست سے یونٹ اور یونٹ سے شہر تک کے سفر کو بڑی دل سوزی سے بیان کرتے ہیںاور صبح صادق سے صبح کاذب کی جامع اصطلاح میں سمو دیا ہے-

                    مصنف تھوڑے سے وقت کے لیے بہاول پور آیا اور محض سیر و تفریح کے لیے نہیں بلکہ ماسٹر ڈگری کے امتحان میں شرکت مقصود تھی۔ جب انسان کی ذہنی اور فکری توانائیاں صرف امتحان میں کامیابی پر مرتکز ہوتی ہیں، مصنف اس مشکل مرحلے میں بھی بہاول پور کے تمام نمایاں اہم مقامات، بازاروں حتیٰ کہ کھانے پینے کے مشہور سٹالوں کو دیکھ کر اسے اپنے انداز سے جانچا اور پرکھا۔ اتنا طویل عرصہ اپنی یادوں میں محفوظ رکھا اور اب ان یاداشتوں کو کتاب کی شکل میں سب کے لیے بیان بھی کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش قابلِ قدر ہے۔                     کتاب کے آخر میں دو افسانے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس طبعت کا حامل مصنف محض سیر و تفریح کا دلدادہ نہیں بلکہ ادب شناس ہونے کے علاوہ ادب تخلیق بھی کر سکتا ہے۔ امید رکھی جانی چاہیے کہ مصنف اپنی خداداد صلاحیتوں کو تحریری شکل میں بیان کرتا رہے گا۔

Leave your comment !

Close