تحریر : مائدہ شفیق 

ہاورڈ یونیورسٹی کے اعلیٰ گریجویٹس پر کی گئی 70 سالہ تحقیق کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا کہ زندگی میں سب سے زیادہ خوش اور مطمئن رہنے والے وہ لوگ تھے جن میں رشتے بنانے اور نبھانے کی صلاحیت تھی۔ جو تعلقات کو خوب صورتی سے نبھاتے اور آپس کے اختلافات کو خوش اسلوبی سے حل کر کے رشتوں کو بچاتے تھے۔ یہ وہ تمام گریجویٹس تھے جو امریکہ کے صدر، خلاباز اور سائنس دان بنے تھے۔ لیکن اُن سب کی زندگیوں کے مطالعہ نے یہ ثابت کیا کہ سب سے زیادہ خوش اور مطمئن لوگ ہر گز ڈگری ہولڈر، اعلیٰ عہدے پر فائز یا کروڑ پتی نہیں بلکہ رشتوں کے بندھن کو پالنے والے تھے۔


اللہ رب العزت نے انسانوں کو رشتوں کی لڑی میں پرویا ہے۔ ہماری خوشیاں رشتوں کے سنگ دُگنی ہوتی ہیں اور غم رشتوں کے ساتھ کم ہوتے ہیں۔ رشتوں سے دوری انسان کے اندر مایوسی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یورپ کے کلچر میں اٹھارہ سالہ بچہ ماں باپ سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے تنہائی نے وہاں کے ذہنی دباؤ کی شرح انتہا تک جا چکی ہے۔ خالق نے جب رشتوں کو تخلیق کیا تو فرمایا۔
“میں رحیم ہوں میں نے الرحم (رشتوں) کو تخلیق کیا۔ میں نے اپنے نام رحیم سے اس کا نام رحم نکالا ہے ۔ سو جو کوئی رشتوں کو توڑے گا میں بھی اُس کو خود سے توڑوں گا۔ جو کوئی رشتوں کو جوڑے گا میں اس کو خود سے جوڑوں گا۔”
ہم انسان اگر کوئی چیز تخلیق کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی تصویر یا کوئی تحریر تو ہم اُس کے بنانے والے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اُس تصویر، تحریر کو خراب تو دور بُرا بھی کہے تو ہمیں بے حد ناگوار گزرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح رشتوں کا، انسانوں کا خالق تب بے حد ناگوار گزرتا ہے جب اُس کے بنائے گئے رشتوں کو تکلیف اور اذیت دی جائے، بُرا کہا جائے یا توڑا جائے۔
آج کل رشتوں میں (چاہے دوستی اور پروفیشنل تعلقات ہوں یا رشتہ داری) اِن میں اخلاص، احساس اور ایثار کا جذبہ کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔ منافقت، حسد اور خود غرضی کے جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔ ذاتی مفادات کے لئے دوسروں کی کردار کشی ایک معمولی بات بن کر رہ گئی ہے۔ رشتوں کی یہ اخلاقی پستی مزید اخلاقی برائیوں کی راہ کھل رہی ہے، جن میں غیبت، جھوٹ سرِ فہرست ہیں۔
بہت سی احادیث نبوی ﷺ رشتوں کو جوڑنے اور توڑنے سے باز رہنے کی توفیق دیتی ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ
“قطع رحمی ایک ایسا گناہ ہے جس کی سزا دنیا میں ہی دے دی جا تی ہے۔”
دوسری طرف جزا یہ سنائی گئی کہ اگر کوئی شخص درازی عمر اور فراوانی رزق چاہتا ہے تو وہ صلہ رحمی کرے۔ یعنی رشتوں سے حسن سلوک کرے۔ اسلام صرف رشتہ نبھانے والوں سے یا اچھا سلوک کرنے والوں سے ہی اچھائی اور حسن سلوک کا قائل نہیں ہے بلکہ نبی ﷺ نے فرمایا  کہ جو شخص برا سلوک کرنے والے رشتے داروں سے اچھائی کرے اس کے لئے اللہ پاک کی طرف سے مدد گار مقرر کر دیا جاتا ہے۔ رشتوں میں محبت کی کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر ہم کسی سے اچھائی کرتے ہیں تو اُس سے واپس اچھائی کی امید لگا لیتے ہیں۔ اگر وہ نہیں کرتا تو پہلے مایوس ہو جاتے ہیں پھر آہستہ آہستہ تعلق توڑ دیتے ہیں۔
انسانوں کو انسانوں سے احساس، اخلاص اور ایثار کے لئے پیدا کیا گیا نہ کہ آس اور امید کے لئے۔
رحم (رشتوں) کے پودوں کو خدا کے لئے پالنا ہے۔ اُن کی آبیاری اخلاص اور احساس سے کرنی ہے اور جزا کی امید نہیں بلکہ یقین اللہ پاک پر رکھنا ہے۔ جیسے اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں
“کیا تمہیں اگر زمین میں طاقت دی جائے تم زمین میں فساد کرو گے اور رشتوں کے بندھن کو توڑو گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ کی لعنت ہو گی اور انہیں ببرا اور اندھا کیا جائے گا۔” قرآن۔ 23:22:47
بطور انسان نہیں بلکہ مسلمان ایک دوسرے کا احساس کیجئے۔ آیئے رشتوں کو جوڑیئے۔ یاد رکھئےرشتوں سے محبت خدا سے محبت ہے۔ رشتوں سے تعلق خدا سے تعلق ہے۔ رشتوں سے قطع تعلقی خدا سے قطع تعلقی ہے۔ یہ کائنات خدا اور محبت کا بندھن ہے اس میں خود کو باندھئے