ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر۔ یہ دن ان مظالم کی یاد دلاتا ہے جو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانو ں پر ڈھائے جار ہے ہیں۔ بھارت کے زیرِقبضہ جموں و کشمیرمیں عوام پر ظلم ،زورزبردستی اور ننگ انسانیت مظالم کے باب رقم کیے جا رہے ہیں ۔۔ مسلمان اور دیگرمذاہب کے پیروکار جہاں براہ راست ظالم حکومت کی چیرہ دستیوں کاشکارہیں وہاں بھارتی حکمرانون کے ہم مذہب چھوٹی ذاتوں کے ہندوبھی ان کے نسلی تعصب کابدترین شکارہیں۔

سیکیورٹی کے ادارے جس نوجوان کو چاہے گھروں سے اٹھاکر غائب کردیتے ہیں۔ انہیں سالہا سال تک عقوبت خانوں زیرحراست رکھ کر بدترین حیوانی تشددکیاجاتاہے۔ ان نوجوانوں کے لواحقین قبرکی دہلیزتک اپنے پیاروں کاانتظارکرتے کرتے ہمیشہ کی نیند سوجاتے ہیں لیکن ریاست کاکوئی ادارہ ان کی دادرسی کرنے کو تیارنہیں ہوتا۔

ان حالات میں بہت خوش قسمت نوجوان ہوتے ہیں جن کے کٹے پھٹے اور ستم رسیدہ لاشے ان کے ورثاکو مل جاتے ہیں اور انہیں یک گونہ تسکین میسرآجاتی ہے۔ اور کم از کم گومگوکی کیفیت سے ان کی جاں خلاصی ہو جاتی ہے۔

ماضی کی دل دہلالینے والے مظالم کی کہانیوں سے کم از کم صنف نازک تومحفوظ تھی لیکن بھارتی سیکولرازم نے تو اہل پردہ کو بھی اپنی سنگینوں کی نوک پر لارکھاہے۔ اور کشمیرمیں خاص طورپرخواتین پر بھی  بے پناہ تشددکرکے انہیں ہلاک کردیاجاتاہے یا سربازار گولیوں کانشانہ بناکرتاحیات معذوری کی زندگی گزارنے پرمجبورکردیاجاتاہے۔

کشمیرسے تو کچھ بچی کھچی خبریں عالمی ذرائع ابلاغ تک پہنچ ہی جاتی ہیں لیکن بھارت کے دوردرازعلاقوں میں ہونے والی ریاستی دہشت گردی کی تو کوئی اطلاع بھی باہر نہیں نکل پاتی۔

اگست 1947سے تادم تحریر کشمیریوں کی تیسری نسل ہے جو ظلم کی اس چکی میں پستی چلی آرہی ہے۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کوکچلنے کے لیے طاقت کاہراندازاپناچکے،اندھی قوت جھونکنے کے تمام تجربات ہوچکے،جھوٹ فریب اور دغابازی کی ساری کاروائیاں بھی کھیلی جاچکیں ۔

کشمیری قیادت اورکشمیری عوام نے ہر موقع پر بھارت سے برملا برات کاظہارکیاہے۔بھارتی یوم جمہوریہ ہویا بھارتی یوم آزادی ہویاکوئی اور بھارتی حکومت کے خاص ایام میں سے کوئی دن ہو،کشمیریوں نے وہ دن سڑکوں پر گزاراہے اور مردوں کے شانہ بشانہ عورتوں اور بچوں نے بھی بھارتی افواج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کران کامقابلہ کیاہے اور ظالم حکمران کے سامنے کلمہ آزادی کانعرہ تکبیربلندکیاہے۔