ہمارا ایمان ہے کہ اللہ جل جلالہ نے نسل آدم کے اچھے اور برے اعمال کا حساب اور اس کے مطابق جزا و سزا کا میزان اور جنت و دوزخ کا حکم بلا تخصیص صادر فرمایا ہے ۔اللہ کے ہاں جنت و دوزخ کا مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ اہتمام نہیں ہے ۔اگر عورتوں اور مردوں کے لیے جنت و دوزخ کا نظام ایک ہی ہے تو پھر ہم عورتیں اور مرد یکساں طریقے سے اپنی زندگی کو ایک جیسے بہترین اسلوب میں کیوں نہیں گزارتے !

لہذا آج کے یوم خواتین پر میری آدم و حوا کی بیٹیوں اور اپنے وطن کی ماؤں بہنوں سے یہی گزارش ہے کہ اللہ کی منشا اور اس کی بنائی ہوئی قرآن وسنت کی حدود کے مطابق پوری قوت،تمام تر صلاحیتوں اور بھر پور خود اعتمادی سے اپنی قیمتی زندگی کی شاندار منصوبہ بندی کریں۔

اور جرات حوصلہ مندی ،اخلاق حسنہ اور محبت و مروت ،جانثاری اور محنت کے پھولوں کی خوشبو میں اپنا دامن بھر کر بھرپور زندگی گزاریں ۔ماں پاپ،سسرال اور بزرگوں کی دعائیں جی بھر کر سمیٹیں اور اپنے گردو پیش میں صلہ رحمی ،خدمت اور مسکراہٹوں کے پھول بکھیریں ۔

اپنے بہن بھائیوں اور اپنی اولادوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں وطن عزیز کے شاندار شہری بننے میں ان کی مدد کریں اور آنے والی نسلوں کو شاندار مستقبل کی نوید دیں اپنے گھر اور اپنے وطن کی معاشی ،معاشرتی ،تعلیمی اور صحت کی بہتری کے لیے مکمل آزادی اور جانفشانی کے ساتھ اور مثبت رویوں کے ساتھ مکمل خود اعتمادی سے آگے بڑھیں ۔نیک اور جانثار عورت کی مامتا کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔

بلکہ ہر قدم پر آپ کو بھر پور تعاون ملے گا ۔سب آپ کا ساتھ دیں گے ۔آپ کی عزت کریں گے ۔اس موقع پر میں آپ کو رول ماڈل کے طور پر حضرت خدیجۃ الکبریٰ ۔حضرت فاطمہ زہرہ،حضرت عائشہ صدیقہ اور محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی سے سبق سیکھنے کی درخواست کرتی ہوں اور عصر حاضر کی عظیم خواتین سرینگر کی محترمہ آسیہ اندرابی ،محترمہ آہنگر،پروفیسر مسز حمیدہ بانو اور پونچھ کے محاذ پر موضع تھوراڑ کے گاؤں بینح گواں کی ام مجاہدہ تین اے جے کے رجمنٹ کی عظیم سپاہیہ جس کا رجمنٹل نمبر ۱۷۷۲۰تھا اس ام مجاہدہ کا نام حسین بی بی تھا جس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے فاتح تھوراڑکا اعزاز حاصل کیا اگر یہ عظیم خاتون مجاہدین کی مدد کے لیے جام شہادت نوش نہ کرتی تو آج آزاد کشمیر کا نقشہ مختلف ہوتا ۔


میں آپ کو مقبوضہ کشمیر کی ان خواتین کے نقش قدم پر چلنے کی دعا دیتی ہوں جنہوں نے جذبہ حریت سے مسرت ہو کر جدو جہد آزادی کی شمع کو جلائے رکھا اور اپنے عظیم قائدین کی دوسری دفاعی لائن بن کر تن،من دھن کی بازی لگادی ۔اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ۔آزادی کشمیر کی یہ تحریک جو مائوں کی آغوش میں پروان چڑھی ہے اپنی منزل آزادی سے ضرور ہمکنار ہو گی اور کشمیر بنے گا پاکستان کے مقصد کے ساتھ پاکستان کی تکمیل ہوگئ