اسد اللہ غالب

دئیے سے دیا جلتا ہے۔ کوئی دو ماہ قبل قائد اعظم پورٹل پر میرا کالم شائع ہو اتو ایک صاحب نے فون کیا کہ وہ اس پراجیکٹ میں شریک ہونے کے خواہاں ہیں، ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے پاکستان کے قیام کا معجزہ تو انجام دیا مگر کشمیر کی پاکستان میں شمولیت کاا یجنڈہ ابھی ادھورا ہے۔

وہ اسکی تکمیل کے لئے علمی، تحقیقی اور تاریخی پس منظر کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوںنے کہا کہ قائد اعظم پورٹل پر کشمیر کے لئے خصوصی سیکشن مختص  کیا جائے اور اس کے لئے جو بھی مواد چاہئے،اس کی فراہمی کے لیے وہ اپنی خدمات وقف کرناچاہتے ہیں،انہوںنے اپنا نام سمیع اللہ بھٹی بتایاا ور یہ بھی کہا کہ وہ کشمیر وکلا محاذ کے کنوینر عابد حسین بھٹی کے علاقے سے ہیں ۔ اور ان سے قرابت داری بھی ہے، عابد بھٹی کا صاحب زادہ اوسامہ عابد اپنی لیاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر امریکہ میں رہ کربزنس میں مصروف ہے۔

اور اس نے اپنی وطن کو فراموش نہیں کیا اس کا سارا کاروبار پاکستان کے ساتھ ہے۔ اوسامہ عابد یو این او کے باہر کشمیر کے حق میں پاکستانیوں کے مظاہروں میں جوش و خروش سے حصہ لیتا ہے۔ میںنے سوچا کہ اللہ نے ایک ہی خاندان کو پاکستان اور کشمیر کاز کے لئے چن لیا ہے ۔ یہ ایک خدائی نعمت ہے۔ جیساکہ حمید نظامی کے مشن کو میرے مرشد مجید نظامی نے آگے بڑھایا اور ایک لشکر تیار کر دیاہے جو نظریہ پاکستان پر جان چھڑکنے کے لئے تیار ہے۔ اسی طرح عابد حسین بھٹی اور سمیع اللہ بھٹی کو اللہ نے توفیق بخشی ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کی آبیا ری کریں، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں اور  اس کے لیے ملک کے اندر اور عالمی سطح پر آگہی پیدا کریں۔

میں سمجھتا ہوں کہ نوائے وقت کا وجود غنیمت ہے کہ اس کے قارئین کی بڑی تعدادعلامہ اقبال اور قائد اعظم کے افکار اور کردار سے متاثر ہے، مجھے اس وقت بے حد سکون محسوس ہوتا ہے جب ملک بھر سے پرانی نسل کے لوگ فون کرتے ہیں اور تحریک پاکستان کے دنوں کے قصے سنانے لگتے ہیں۔انہی میں ایک نام انور خان کا شامل ہے ، وہ قیام پاکستان کے  وقت نویں جماعت میںتھے اور ان کے والد مردان ریسٹ ہائوس میں خدمات پر مامور تھے۔ انور خان بتاتے ہیں کہ ایک بار وہاں قائد اعظم نے قیام فرمایا اور ان کے والد سے فرمائش کی کہ کھانے کے لیے ہلکی پھلکی چپاتی  اورچھلکے والی مونگ کی دال بنائی جائے۔قائد اعظم نے برتن میں کچھ دال چھوڑ دی،انور خان وہاں سے برتن اٹھا کر لایا تو اس نے قائد اعظم سے والہانہ محبت کی بناء پر قائد اعظم کی چھوڑی ہوئی دال کو انگلیوں سے چاٹ چاٹ کر کھایا۔

اسی طرح سمیع اللہ بھٹی صاحب بھی کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کے بزرگوں نے مینار پاکستان کے مقام پر ہونے والے جلسے میں شرکت کی جو دو روز جاری رہا جس میں قرار دادلاہور منظور ہوئی جو پاکستان کے قیام کی بنیاد بنی۔سمیع اللہ بھٹی کی رگوں میں انہی آباواجدا دکا خون گردش کر رہا ہے۔بات دراصل ڈی این اے کی ہوتی ہے، شیخوپورہ اور خانقاہ ڈوگراں کے علاقوں میں بسنے والے بھٹی خاندان کا ڈی این اے اور پاکستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے ،یہ دراصل نظریاتی ڈی این اے ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ انگریز اور ہندو کی سازش سے پیدا ہوا اور بگڑا۔ پنجاب بائونڈری کمیشن کے سربراہ ریڈ کلف واضح طور کہتے تھے کہ پٹھان کوٹ سے فیروز پور تک کا مشرقی پنجاب کا علاقہ پاکستان کا حصہ بنے گا لیکن اٹھارہ اگست سینتالیں کو ایک انہونی ہوگئی،ریڈکلف تو برصغیر سے رخصت ہوچکے تھے لیکن ان کی غیر موجودگی میں ریڈ کلف ایواڈ کا اعلان کیا گیا تو ایک طے شدہ سازش کے تحت مسلم اکثریتی علاقے بھارت کے حوالے کر دیئے گئے،

پاکستان پر یہ ایک قیامت کا وقت تھا کشمیری مسلمان اپنی جگہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ ریڈ کلف ایوارڈ نے ان کی قسمت سربمہر کردی ہے ۔تقسیم ہند کے ایجنڈے کی رو سے پاکستان سے ملحقہ مسلم اکثریتی ریاست کو بھارت میں شامل نہیں کیا جاسکتا تھا۔

مگر پنڈت نہرو اور سردار پٹیل نے کشمیر کے غیر مسلم مہاراجہ کی طرف سے الحاق کی ایک جعلی دستاویز تیا رکی۔ سمیع اللہ بھٹی کہتے ہیں کہ کس قدر بڑی ستم ظریفی ہے کہ جب الحاق کی دستاویز سامنے آئی تو مہاراجہ ہری سنگھ سری نگر میں موجود نہیں تھا نہ اس نے کسی سے مشاروت کی تھی اور نہ ہی اس دستاویز پر مہاراجہ کے دستخط ثبت تھے۔

کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت کی فوجیں آپس میں ٹکرائیں تو پنڈت نہرو اپنی شکست دیکھتے ہوئے سلامتی کونسل جا پہنچے اور سیز فائر کی بھیک مانگی۔پاکستان اور بھارت کے نمائندے سلامتی کونسل کے سامنے اپنے دلائل پیش کرتے رہے مگر ممتاز برطانوی مورخ چارلس لیمب  نے اپنی کتاب ’’عظیم دھوکہ ‘‘میں دلائل کے ساتھ واضح کیا کہ بھارت کے پاس الحاق کی کوئی دستاویز نہیں تھی اور اس نے سلامتی کونسل کے کسی اجلاس میں اپنے موقف کو ثابت کر نے کے لیے یہ دستاویز پیش ہی نہیں کی۔

سمیع اللہ بھٹی کہتے ہیں کہ بھارت نے اقرار کیاکہ اس کے سرکاری آرکائیوز سے یہ دستاویز چوری کر لی گئی۔بھارت نے سراسر دھونس جمائی اورپاکستان کو کشمیر کے دریائوں سے محروم کرنے کے لیے ریا ست پر قبضہ کر لیا۔سمیع اللہ بھٹی کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے کشمیر کوجب اقتصادی شہ رگ قرار دیا تھا تو ان کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کشمیر کے دریائوں سے محروم ہو کر اپنی شہ رگ کٹوا بیٹھے گا۔قائد اعظم کو ان کی بیماری نے مہلت نہ دی اور وہ ناگہانی طور پر اللہ کو پیار ے ہو گئے اور کشمیر کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

سمیع اللہ بھٹی چاہتے ہیں کہ قائداعظم پورٹل پر کشمیر سے متعلقہ تمام دستاویزات جمع کر دی جائیں ،یہ سارا ریکارڈ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے حق وانصاف پر مبنی موقف کی ایک روشن دلیل ہوگا۔

بشکریہ رونامہ نوائے وقت