July 7, 2022

کشمیر نما ۔۔۔۔ تحریر، ممتاز غزنی

سر شام گھپ اندھیرے میں ڈوب جانے والے اس بازار کی قدرے وسط میں واحد جامع مسجد کے سائے تلے چاچا فتح جنگ کے ہوٹل میں ٹمٹماتا چراغ یہاں انسانی زندگی کا واحد نشان ہوتا تھا۔کہوٹہ عباس پور سے پا پیادہ یا کسی تھکی ہاری بس پر دیر سے پہنچنے والے مسافر کے لیے یہ چراغ “قندیل رہبانی” سے کم نہ ہوتا تھا۔چند روپوں کے عوض چاچا فتح جنگ ان مسافروں کو رہائش اور کھانا فراہم کرتے تھے۔عدالتی تاریخ پر آنے والے اور مزدور پیشہ لوگ اس ہوٹل کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔

چاچا فتح جنگ ساری زندگی ون ڈش کے اصول پر کاربند رہے۔ان کے ہوٹل میں ابلے چاول اور لوبیہ کی دال کے علاؤہ شاید ہی کچھ پکا ہو۔چاچا ابلے چاول مٹھی بھر بھر کر تھالی میں ڈالتے،جب تھالی بھر جاتی تو چاولوں کے سطح پر ہاتھ پھیر پھیر کر ہموار کرتے۔اس کاروائی کے دوران چاچا کے ہاتھوں میں لگی کالک سے سفید چاول بلیک اینڈ وائٹ ہو جاتے۔لکڑی کے بیروزے کی بوباس اور کالک لگے چاولوں پر لوبیہ کی نیم کچی دال ڈالتے پھر زنگ آلود چمچ ران پر رگڑ کر یا قمیض کے پلو سے پونجھ کر تھالی پر اوندھا رکھ کر تھالی گاہک کے آگے پٹک دیتے”

“کہتے ہیں کہ راولاکوٹ کے ایک دکاندار اپنی دکان پر چائے پی رہے تھے کہ سامنے سے ایک شناسا کا گزر ہوا۔دکاندار نے بصد اصرار اسے چائے کی دعوت دی اور اپنی پیالہ زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔یہ شخص دکاندار کے حسن اخلاق سے بہت متاثر ہوا اور شکر گزاری اور ممنونیت کا اظہار کرنے لگا۔

شکر گزاری کے الفاظ سنتے ہی دکاندار پرصاف گوئی کا دورہ پڑا تو بولا کہ شکریہ تو تمھارا کہ تو نے ایسی چائے پی ہے اگر میں ایک گھونٹ اور پی لیتا تو قے ہو جاتی۔تو نے پی کر مجھے دودھ نور نالی میں گرانے سے بچا لیا۔تیرا بہت شکریہ دیکھنا اگر الٹی آئے تو سڑک کے کنارے بیٹھ کر دل کھول کر کر لینا”

“سپلائی بازار کے ایک ہوٹل میں کوئی اجنبی گاہگ داخل ہوئے اور ہوٹل والے کو اچھی چائے پلانے کا کہا ۔ہوٹل والے نے ان اجنبیوں کو سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا اور بولے:-

ناٹھیو میں تہرن گچھاں اچھی چائے پینے کے لیے میں خود ہوٹل بند کر کے دو میل دور قصائی گلی میں جاتا ہوں۔آپ بھی وہاں چلے جائیں سیر بھی ہو جائے گی اور چائے بھی اچھی مل جائے گی”

“پونچھ کے زیادہ تر دیہاتوں میں چارٹر ٹریڈ یعنی جنس کے بدلے جنس کا کاروبار رائج تھا ۔ہر گاؤں میں ایک دو ہٹیاں ہوتی تھیں جہاں اشیاء ضروریہ گڑ،شکر،چائے کی پتی،نسوار،تمباکو،تیل،صابن،ہلدی،مرچی بوندیاں،مخانے،مرونڈے مل جاتے تھےیہ دکانیں دیہاتیوں کا حجرہ اور بیٹھک بھی ہوتی تھیں۔گاؤں کے لوگ کام کاج سے فراغت پا کر خریداری،تفریح اور یار باشی کے لیے ادھر کا رخ کرتے دکانوں کے باہر لگے لکڑی کے بنچوں یا پتھر کی سلوں پر بیٹھ کر گھنٹوں گھپ شپ لگاتے تھے۔یہ دکانیں ایک طرح کے خبر رساں ادارے بھی تھے۔گاؤں میں کسی کی بیماری،سال بھر میں ہونے والی شادیوں اور کس کے گھر ولادت باسعادت ہو چکی ہے اور کس کے گھر ہونی ہے کہ خبریں انھی دکانوں سے عام ہو کر گھر گھر پہنچتی تھیں”

درج بالا اقتباسات ایک بہترین کتاب “کشمیر نما”کے ہیں جس کے مصنف راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر ممتاز صادق صاحب ہیں۔

کشمیر نما اپنے قاری کو پڑھنے کے لیے راغب ہی نہیں کرتی بلکہ پڑھنے پرمجبور بھی کرتی ہے۔

درحقیقت یہ کتاب ایک بہترین ادبی شہ پارہ ہی نہیں بلکہ ایک فکری اور تجزیاتی اثاثہ بھی ہے۔مصنف نے جس باریک بینی سے ماضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حال کا تجزیہ پیش کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں راولاکوٹ اور قرب و جوار کا تفصیل سے تذکرہ اور تجزیہ پیش کیا ہے لیکن مجموعی طور پر پورے آزاد کشمیر کے باسیوں کے افکار و احوال پر عمدہ تبصرہ کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کے طنز و مزاح نے کتاب کے حسن کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔

صفحہ نمبر 49 پر لکھتے ہیں کہ “دو وکیل صاحبان ایک ہوٹل میں قریب کے میزوں پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ۔ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ آپ گھر ناشتہ کیوں نہیں کر کے آئے؟وکیل صاحب بولے دراصل میری بیوی سکول میں استانی لگی ہے۔صبح سویرے سکول چلی جاتی ہے۔اس لیے ناشتہ نہیں ملتا۔پھر دوسرے وکیل نے پہلے وکیل پر یہی سوال داغا۔تم گھر سے ناشتہ کر کے کیوں نہیں آئے؟

وکیل صاحب بولے۔آپ کو معلوم نہیں میری بیوی بھی لگی ہوئی ہے۔آپ کی بیوی کیا لگی ہوئی ہے پہلے وکیل نے حیرت سے پوچھا۔

دوسرے وکیل بزبان پہاڑی بولے “مہاڑی کھٹا لگی نی”(میری بیوی بیماری کے سبب بستر پر پڑی ہے)

کتاب 216 صفحات پر مشتمل ہے۔اور پونچھ نامہ،محنت کشوں کا نشیمن مظفرآباد ،مہمان نوازوں کی سر زمین میرپور،فردوس رنگ ،نیا کشمیر کے بہترین عنوانات دے کر زمینی حقائق اور ان سے حال و مستقبل میں نمودار ہونے والے نتائج کا انتہائی غیر جانبداری سے مشاہدہ کرتی ہے۔

کوئی بھی قوم ،قلم وقرطاس سے تعلق توڑ کر بقا کے بساط پر باقی نہیں رہ سکتی۔کتاب افراد اور قوموں کی ترقی اور بقا کی ضامن ہے۔کتاب کا مطالعہ انسان کو ایک خاص ذہنی کیفیت اور دلربائی سے ہمکنار کرتا ہے۔کتاب اپنے قاری کو صدیوں پر محیط انسانی تجربات اور مشاہدات سے ہمکنار کر کے اسے عام لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔ہماری کتاب سے لاتعلقی کے متعدد اسباب میں ایک ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ایسی کتابیں بہت کم لکھی جاتی ہیں جو قاری کو پڑھنے کی رغبت دے سکیں۔مجھے یقین ہے کہ “کشمیر نما” آپ کو پڑھنے پرراغب بھی کرے گی اور مجبور بھی کرے گی۔کتاب پڑھتے ہوئے آپ قہقے روک نہیں سکیں گے خاص کر دو دیسی ڈاکٹر بھائیوں کا داڑھ نکالنے کا انوکھا طریقہ پڑھ کر آپ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو جائے گا۔

یہ کتاب کشمیر نما بھی ہے اور کشمیر نامہ بھی ہے۔

پروفیسر عبد الصبور خان صاحب کا شکریہ کہ انھوں نے راولاکوٹ سے بذریعہ ڈاک لاہور بھیجی اور اہلیہ محترمہ کا بھی شکریہ کہ وہ بچوں کو لے کر میکے گئی تھیں اور میں نے پرسکون ہو کر دو دن میں کتاب ختم کر ڈالی۔

کیدے تے پیکے جا نی بیگم

آوے سکھ دا ساہ نی بیگم

کتاب راولاکوٹ کے تمام بک سٹالز پر دستیاب ہے

ممتاز غزنی پھاگوعہ تھوراڑ آزاد کشمیر حال مقیم لاہور

Close