مقابل تھا شیشے کا سنگ ِ گراں

ش  م  احمد 

 شہر خاص سری نگر کی جامع مسجد کے میدان میں مسلم کانفرنس کا سالانہ سہ روزہ جلسہ مئی ۱۹۴۴کے وسط میں منعقد ہوا۔ جلسے میں محمد علی جناح کی ایک تاریخی تقریر ہوئی۔ اتفاق سےیہ سری نگر میں اُن کی آخری تقریر بھی تھی۔ فاضل مقرر کا خطاب صاف گوئی اور تلخ نوائی کا امتزاج تھا ۔

قائد اعظم اصلاً شیخ صاحب کو منانے اور اپنانے کے لئے اپنی تمام مصروفیات تر چھوڑ کر ڈھائی ماہ ( شیخ صاحب کے مطابق ڈیڑھ ماہ) تک کشمیر میں قیام پذیر رہے ۔ قائد دل سے چاہتے تھےکہ اُن کی اگوائی میں نیشنل کانفرنس کے رُوح رواں کی مسلم کانفرنس کے ساتھ سینہ صفائی اور مفاہمت بحسن وخو بی انجام پائے۔
ا س کے لئے ملاقاتیں کا اہتمام کیا ، تبادلہ  ٔ آرائی کی مجلسیں ہوئیں، دلائل اور مباحث کے انبار لگ گئے مگر شیخ جی اپنے موقف میں ذرہ برابر تبدیلی کرنے یا ا س میں کوئی لچک لانے پر آمادہ نہ ہوئے ۔

جب قائد نےاپنی تمام تر مصالحانہ کو ششوں کے باوجود شیخ کی جانب سے کوئی پیش رفت نہ دیکھی تو انہیں لگا کہ یہ سب کچھ نقش بر آب ہے یا پنجابی کہاوت کی زبان میں ’’ پانی وِ چ مدانی ماری ‘‘ تھا تو وہ بہت مایوس ہوئے اور مایوسی کے عالم میں شیخ صاحب کی سیاسی سوچ کی برسرعام تردیدکر نے میں مسلم کانفرنس کے سالانہ جلسہ کا پنڈال منتخب کیا۔

یہیں سے اپنی تقریر میں انہوںنے شیخ صاحب کی سیاست کی خبر لینے میںکوئی کسر نہ رکھی، دل کی بات برملا کہی، بنا لگی لپٹی کے کہی ، ڈنکے کی چوٹ پر کہی۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قائد ہمیشہ  دوست تو دوست کسی دشمن سے بھی اپنی بات منوانے کی غیر معمولی قابلیت سے لیس تھے ، نیز اُن کی جیسی اعلیٰ پایہ سیاسی شخصیت سے یہ معاندانہ یا ناقدانہ رو ش غیرمتوقع تھی۔

سوال یہ ہے کہ آخر مسٹر جناح نے شیخ کے ساتھ آئندہ کسی ممکنہ مفاہمتی امکان سے نگاہیں کیوں پھیردی تھیں جب کہ وہ سمجھتے تھے کہ سیاست کاری امکانات کا کھیل ہوتی ہے ؟ بہر کیف پتہ نہیں پس ِ پردہ ایسا کیا کچھ ہوا تھا کہ قائد کے دل میں کشمیر ی مسلمانوں کو اتحاد کی لڑی میں پرونے کی تمام اُمیدیں یکسر دم توڑ گئی تھیں ۔ جامع کے جلسے میں انہو ں نے تقریر کے دوران اعلاناًنیشنل کانفرنس کو بیک جنبش ِقلم مسترد کیا اور مسلم کانفرنس کو مکمل طور اپنا یا ۔ اس نے نیشنل کانفرنس میں زلزلہ آیا۔

اس بات کاا مکان ردنہیں کیا جا سکتا کہ شیخ کے ساتھ ڈیل کر نے میں شایدخود قائد بھی اجتہادی چُوک کر گئے ۔اس کی وجہ جو بھی ہو مگر تاریخ کا یہ سوال لاکھ ٹالے ٹالا نہیں جا سکتا کہ آخر بانی ٔ پاکستان نے شیخ عبداللہ کے ساتھ سلسلۂ جنبانی کا سارا سلسلہ توڑنے کا یہ کٹھن فیصلہ کیوں لیا ، جب کہ امر واقع یہ ہے کہ آپ شیخ کو اپنانے کی سفارت پر ہی کشمیر آئے ہوئے تھے ۔

کشمیر کے سیاسی منظر نامے میں پیش آمدہ منفی صورت حال کی کہیں  وجوہات ہوسکتی تھیں۔غالباً قائد نے شیخ صاحب کو بہت سمجھایا بجھایا تھا کہ کشمیری مسلمانوں کا اجتماعی مفاد اُن کے ملّی اتحاد میں مضمر تھا، اُن کا ایک ہی جھنڈے تلے منظم ہو نا وقت کی اہم ضرورت تھی ۔ قیاس یہی کہتا ہے کہ یہ اصولی بات سمجھا سمجھا کر شاید جناح صاحب شیخ صاحب کی ضد کے سامنے تھک ہار کر تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق  جامع مسجد کے اجلاس میں نیشنل کانفرنس کو کھری کھوٹی سناگئے اور مسلم کانفرنس کے شانے تھپتھپائے ۔

یہ جناح کے مشن کشمیر کی ناکامی تھی یا  شیخ کی نا عاقبت اندیشی ، بہرحال اس ایک واقعہ سے آگے ریاست کی سیاسی تقدیر کا ڈولتاسفینہ کسی اور ہی جان لیواحادثے کا شکار ہونا طے ہوچکا تھا ۔
ظاہر ہے کہ شیخ صاحب کو قائد کی تقریر کا وہ اہم حصہ انتہائی بُرالگا تھا جس میں موصوف نے این سی کو خاص کر ہدف ِ تنقید بنایا تھا ۔ اس گفتنی کے بارے میں اُن کی رائے یہ تھی کہ قائد کے کان حریف مسلم کانفرنس والوں نے بھر بھر کر اُنہیںنیشنل کا نفرنس کے بارے میں گمراہ کیا تھا ۔ قائد اپنے اس فیصلہ کن اقدام کی کوئی اور ہی رام کہانی سنا رہے تھے۔ سچ جو کچھ بھی ہو وہ اپنی جگہ، جامع مسجد کی تقریر سے کشمیر کے سیاسی مدوجزر پر دُور رس اثرات مرتب ہونا لازمی تھا۔ بلاشبہ اس کے ردعمل میںشیخ عبداللہ کا آگ بگولہ ہو نا اور کانگریس کی جھولی میں ہمیشہ کے لئے گم ہوجا نا اب طے تھا۔

زمینی سطح پر جناح صاحب کی تقریر سےکشمیر کی سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی، اس سے جہاںمسلم کانفرنس کو سرخاب کے پر لگ گئے جیسےا س میں زندگی کی نئی رُوح پھونک دی گئی ہو ،وہیں نیشنل کانفرنس کی صفیں  جناح کی مخالفت میں آتش زیر پا ہو گئیں، پارٹی کے حامیوں میں قائد سے کھلی نفرت کا لاوا جوش مارنے لگا ، حتیٰ کہ بعض لیڈروں نے  بانی ٔ پاکستان کے خلاد دشنام طرازیاں کیں، نیشنل کانفرنس دوقومی نظریہ سے دشمنانہ دوری بنا نے میں زیادہ سر گرمِ عمل ہوئی۔ کل ملاکر   آنے والے ماہ وسال میں کشمیر ی مسلمانوںکے دو حریف دھڑوں میںسیاسی تقسیم اور نظریاتی تفریق کی ناقابل عبوردیوار کھڑی ہوگئی۔  سب سے بڑھ کر مسلم کانفرنس میں شیخ عبداللہ کی گھرواپسی کا خواب دُھول غبارہ ہوکر رہا، کشمیر سیاسی اختلافات کا اکھاڑہ بنا، دو متصادم ومتحارب سیاسی دھاروں میں منقسم کشمیری مسلمان تنا ؤ اور کشیدگی کےبھینٹ چڑھ کر آج تک انہی کانٹوں کی فصلیں کا ٹ رہے ہیں ۔ الغرض بہ حیثیت مجموعی نیشنل کانفرنس کی جناح مخالف لہر میں قائد کا سارامشن کشمیر فلاپ ہوکر رہا۔
 غور طلب ہے کہ مسلم کانفرنس کے صدر چودھری غلام عباس اپنی کتاب’’ کشمکش‘‘ میں قائداور شیخ کے مابین سیاسی جنگ کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شیخ صاحب نے جناح صاحب کے بارے میں علی الاعلان کہا تھا کہ ایک ملاقات کے دوران شیخ صاحب نے صاف لفظوں میں مجھ ( جناح ) سے کہا کہ نیشنل کا نفرنس کا نیشنل اِزم ہندوؤں کو دھوکا دینے کے لئے ہے، ورنہ وہ ( شیخ صاحب ) اور اُن کی پارٹی (این سی ) قوم پرستی کی حامی نہیں۔ یہ سن کرجناح صاحب نے شیخ عبداللہ سے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ یہ اقلیتوں کو صریحاً دھوکہ دینے والی بات ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔
 بہرصورت جناح صاحب کے زیر بحث خطاب کی مخالفت میں شیخ صاحب  اپنے جھلسے جذبات لے کربانی ٔپاکستان کو پٹخنی دینے میں قدرتی طور پیش پیش تورہے ہی مگر نیشنل کانفرنس کے غیر مسلم لیڈروں نے بھی اپنا حساب چگتا کر نے میںجناح کی نکتہ چینی کا محاذخوب گرمائے رکھا۔

جامع مسجد تقریر کے اگلے ہی رو ز شیخ صاحب نے بوکھلاہٹ کے عالم میں قائد کے خلاف جوابی دھاوا بولنے کی بسم اللہ کی۔ انہوں نے قا ئد کو یاد دلایا :’’ ریاست کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی آپ نے عزم ظاہر کیا تھا کہ میں یہاں کسی قسم کا سیاسی پروپگنڈا کر نے کے لئے نہیں آیا مگر یہاں پہنچ کر یہ قول وقرار ہو امیں تحلیل ہوا بلکہ جس جذبے کے ساتھ ہم نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر آپ کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا، اس جذبے کو بھی ٹھیس پہنچی۔۔۔ مسٹر جناح نے کشمیر نیشنل کانفرنس پر ایسے ہتھیار سے حملہ کیاہے جس کو وہ ہندوستان میں نیشنل کا نگریس پر آزماتے ہیں۔

ان کے عندیہ کے مطا بق نیشنل کا نگریس ہندوستانی اقلیت کو فریب دینے کی ہندوانہ کوشش ہے اور نیشنل کا نفرنس کشمیر کی اقلیت کو فریب دینے کی مسلمانانہ کوشش ہے‘‘۔ شیخ کا بیانیہ بانی ٔ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور کڑی نکتہ چینی کی دودھاری تلوار تھی مگر ساتھ ہی کانگریس کے ساتھ سیاسی موافقت کا ایک لطیف اشارہ بھی تھا ۔ جناح صاحب نے مسلم کانفرنس کے سپاس نامہ کے جواب میں یہ ضرور کہاتھا کہ میں یہاں کسی سیاسی پروپگنڈا کے لئے نہیں آیا ۔ بالفاظ دیگر ان کی پالیسی کشمیر میں غیر جانب دار ہوگی ۔

کشمیر میں جناح صاحب غیرجانب دا ر رہنے کاوعدہ کیوں وفا نہ کرسکے تھے ، وہ تو انہی کو معلوم تھا مگر یہی ایک طعنہ لے کر نیشنل کانفرنس لنگر لنگوٹے کس کر مسلم لیگ کے سربراہ کے پیچھے پڑی تھی ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ گردش ِ زمانہ میں جب مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گرماگرم بحث وتمحیص جاری تھی تو اُس موقع پر شیخ صاحب( جواس وقت وزیراعظم ریاست جموں وکشمیر تھے اور مسٹر گوپال سوامی آئنگر کی سر براہی میں بھارتی وفد میں بطور خاص ایلچی شامل تھے) سیکورٹی کونسل میں اپنی جوشِ خطابت میں آکر ۵ ؍ فروری ۴۸ کو کہہ گئے تھے کہ’’ اگر خود اللہ میاں زمین پر اُترآئیں اور سری نگر میں حکومت کا چارج سنبھال لیں تو وہ بھی غیر جانب دار نہیں رہ سکیں گے‘‘۔

برطانوی نمائندے نے شیخ سے پوچھا کہ جب اللہ میاں تک سری نگر میں غیر جانب دار نہیں رہ سکتے تو پھر آپ کیسے رہ سکتے ہیں؟ شیخ سے اس کا کوئی جواب نہ بن پایاتھا۔ بقول مصنف ’’(Danger  in Kashmir) جوزف کوربل( والد سابق امریکی وزیرخارجہ میڈالن آلبرئٹ ) شیح کی دھواں د ار تقریر’’ غیر مدبرانہ ‘‘ تھی۔
 شیخ صاحب نے مخالفانہ بیان جاری کر نے پر اکتفا نہ کیا بلکہ قائد کی ایک تقریر کے خلاف الفاظ کی ہزارجنگ چھیڑدی تھی ۔ ۲۰ ؍ جون کو خانیار سری نگر کے ایک عوامی جلسہ میں ان کی جذباتی تقریر اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ یہ تقریر سرتاسر قائد کے خلاف تھی ۔ شیخ نے اُن کی یہ کہہ کر چٹکی لی کہ وہ دوسروں کو اسلام کے نام پر اپنی سیاست کی طرف دعوت دیتے ہیں، مگر انہیں اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے قول وقرار کا پاس ولحاظ رکھنا چاہیے تھا۔ ان کے تمام احترامات ملحوظ نظر رکھتے ہوئے میں یہی کہوں گا کہ انہوں نے وہ معیار قائم نہ کیا جو انہیں ایک ذمہ دار اور عظیم الشان مسلم رہنما کی حیثیت یں قائم رکھنا چاہیے تھا