کتاب کا نام: بلدیہ کراچی، سال بہ سال 1844 تا 1979۔
مصنف:  بشیر سدوزئی
اشاعت:  فرید پبلیشرز اردو بازار کراچی
تبصرہ:  شکیل خان


بشیر سدوزئئ نے یہ کتاب نہیں لکھی داستان محبت رقم کی ہے ، یہ ایک محبت کرنے والے کی طرف سے اپنے محبوب کے لئے خراج تحسین ہے، یہ وہ نذرانہ ہے جو پروانہ شمع کے حضور پیش کرتا ہے. بشیر سدوزئئ کراچی میں پیدا نہی ہوئے اس کا اختیار ان کے پاس نہی تھا زندگی بخشنے والے رب نے ان کا مقام پیدائش آزاد کشمیر رکھا تھا لیکن بشیر سدوزئئ نے دو کام کئے پہلا یہ کہ عشق کشمیر سے کیا اور دوسرا یہ کہ انکی محبت کراچی کے حصہ میں آئی۔ اپنے عشق اور محبت دونوں کےلئے ہمیشہ اپنے قلم سے اپنی زبان سے ،اور اپنے عمل سے جہاد کرتے رہے۔

بشیر سدوزئئ ہمارے دوست ہیں کچھ دن قبل اس خوبصورت کتاب کا تحفہ ہمیں دیتے ہوئے طارق رحمانی سے کہا کہ تصویر کھینچ لو تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت گواہی کے لئے پیش کی جاسکے۔ یہ کتاب نہی 135 برس ( 1844 تا 1979) کی رومانوی داستان ہے، جس کے ہیرو مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مذاہب رکھنے والے تھے لیکن جن کامقصد صرف ایک تھا اور وہ یہ کہ اس گندے سے گائوں کو شہروں کی دلہن بنانا ہے ۔یہ تاریخ کی کتاب نہی ہے نہ ہی یہ کوئی جغرافیائی داستان ہے، یہ قصہ ہے ایک ایسے گائوں کا ایک ایسی پسماندہ، گندی ،وبائوں اور امراض میں گھری بستی کا کہ جو نصف صدی کے عرصہ میں شہروں کی دلہن بن گئی

اس کو شہروں کی دلہن بنانے والے ہزاروں کوس دور سے آئے ہوئے انگریز تھے جن کو ہم حملہ آور کہتے ہیں لیکن کس محبت، محنت اور ایمانداری سے ان انگریزوں نے اس شہر کو بسایا ان کا ساتھ دیا اس وقت کے پارسیوں نے، ہندوؤں نے، گوانیز نے اور مسلمانوں نے، یہ سب کے سب مخلص، ایماندار اور کراچی شہر کو بنانے والے تھے، کیسی کیسی داستانیں اس کتاب میں بیان ہوئی ہیں کہ آج کا کراچی والا حیران ہوجائے کہ اپنوں کے ہاتھوں تباہ حال، برباد اور گندگی سے بھرپور کراچی نے کیسے کیسے ہیرے اپنے دامن میں سجائے تھے۔ یہ وقت وہ تھا کہ جب یہ شہر جگمگایا کرتا تھا اس روشنی سے کہ جو تہذیب کی روشنی کہلاتی تھی، کیسے کیسے قدآور اس شہر کی پہچان ہوا کرتے تھے، امن ،سکون، محبت، رواداری اس شہر کی پہچان ہوا کرتے تھے۔

سال بہ سال کے تاریخی انداز سے لکھی گئی اس کتاب میں بیان کا تسلسل کسی جگہ نہی ٹوٹتا، روانی کسی جگہ متاثر نہی ہوتی یہ اس بات کی علامت ہے کہ مصنف اپنے موضوع پر کس قدر عبور رکھتا ہے اس کتاب کے حوالے سے اس کا مطالعہ کس قدر وقیع و جاندار ہے، اس کتاب کے ہر صفحہ پر آپ کو عزم و ہمت کی داستانیں ملیں گی۔ایک ایسا شہر جو سمندر کے کنارے آباد ہورہا ہے لیکن پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور اس پانی کے حصول کے لیے کیا کیا کوششیں کی جارہی ہیں یہاں تک کہ بالآخر 1882ء میں وہ اس شہر تک 25 لاکھ گیلن پانی لا نے میں کامیاب ہوگئے، اس وقت تک برصغیر کے کسی شہر کو یہ اعزاز حاصل نہی تھا کہ وہاں پانی کی تقسیم کا یہ نظام موجود ہو, 1847 میں جس شہر میں اسٹریٹ لیمپ لگادئے گئے ہوں، 1883 میں کراچی شہر کی سڑکوں پر 1000 اسٹریٹ لیمپ روشنیاں بکھیرتے تھے، بشیر سدوزئئ لکھتے ہیں ” یہ غالباء دنیا کا واحد بلدیاتی ادارہ ہے جو پہلے قائم ہوا اور شہر بعد میں آباد ہوا، اس ادارے نے شہر کی آباد کاری، اس کی توسیع کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورت کی ہر سہولت یہاں مہیا کی”

کتاب کے صفحہ نمبر 94 پر مصنف لکھتے ہیں کہ 1860 میں بلدیہ کراچی کے چیف انجینئر کو اس الزام میں برطرف کر دیا گیا کہ اس نے بندر روڈ کو غیر ضروری طور پر چوڑا کرکے بلدیہ کے وسائل کو نقصان پہنچایا ہے چیف انجینئر کا کہنا تھا کہ اس نے یہ ڈیزائن آنے والے 200 برسوں کی ضرورت کے پیش نظر رکھا ہے مصنف نے لکھا ہے کہ بندر روڈ آج بھی مولوی مسافر خانہ تک ہی دوطرفہ ہے اس سے آگے ٹاور تک یہ یک طرفہ ہے لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس چیف انجینئر اور اس کے برطرف کرنے والے دونوں کو سلام پیش کروں کہ دونوں اپنے اپنے کام میں کس قدر مخلص اور ایماندار تھے۔
برطانوی حکومت کو 1859 میں کہ جب کراچی پر انکی حکومت کو 20 سال بھی نہی ہوئے تھے یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ مقامی مسائل کو مقامی لوگ ہی بہتر طور پر حل کرسکتے ہیں اس لئے انکو زیادہ سے زیادہ اختیارات دئے جائیں لیکن یہ بات ہمارے حکمرانوں کو آج 2020 میں بھی سمجھ نہی آئی۔

تقریبا 750 صفحات پر مشتمل اس کتاب پر تبصرہ ایک مشکل امر ہے یہ کام اور زیادہ مشکل اس لئے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ ایک گندی بستی سے ایک شہر بےمثال بننے کی داستان ہے لیکن اس بےمثال شہر کی بربادی کا نوحہ اس کتاب میں موجود ہے گوکہ وہ ابھی اتنے واضح انداز میں نہی ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ بشیر سدوزئئ صاحب کی اگلی کتاب میں بربادی اور اس شہر کو برباد کرنے والے دونوں کا ذکر ہوگا۔

یہ خوبصورت کتاب مرحوم سیف الرحمن گرامی کے نام معنون ہے جن کے بارے میں بشیر خان سدوزئی کہتے ہیں کہ گرامی صاحب نے مجھے اپنے بچوں کی طرح محبت دی، مجھے تعلیم سے تہذیب سے تربیت سے نوازا، مجھے اٹھنے بیٹھنے، بات کرنے کے آداب سکھائے، میری زندگی میں سیف الرحمن گرامی صاحب کا بڑا دخل ہے۔

کئی کتابوں کے مصنف بشیر خان سدوزئی نے جناب عبدالستار افغانی، جناب فاروق ستار، جناب نعمت اللہ خان، جناب مصطفی کمال اور جناب وسیم اختر کے بحیثیت میر و بحیثیت ناظم کراچی کےتمام ادوار میں بلدیہ کراچی میں ذمہ داریاں سرانجام دیں ہیں ۔ وہ ان تمام ادوار کا ذکر اپنی آنے والی کتاب میں کریں گے۔ ہماری تو جب بھی بشیر سدوزئئ سے ملاقات ہوتی ہے وہ سراپا عجز و محبت کرنے والے ہی لگتے ہیں ۔ہمیشہ یہ کہتے ہوئے کہ میں اپنے رب کا شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے ایسے اچھے لوگوں سے ملوایااور اس کراچی شہر کو میرا شہر بنایا،
بلدیہ کراچی سال بہ سال میری لائیبری اور کراچی کے شہریوں کے لئے ایک خوبصورت تحفہ ہے یقینا اس کو پاکستان کی تمام لائیبریز اور جامعات و کالچز کے کتب خانوں کا لازمی حصہ بننا چائیے بشیر سدوزئئ صاحب آپ کی اگلی کتاب کا شدت سے انتظار ہے۔