May 23, 2022

کشمیر کا کرب/ احسان الحق

احسان الحق

ظالمو!اپنی قسم پہ نازاں نہ ہودوربدلے گاوقت کی بات ہے
وہ ضرورسنے گاصدائیں میری، کیاتمہاراخداہے ہمارانہیں
کشمیرکے معصوم بچوں کامستقل یتیمی کاہے۔کشمیرکے دونوں اطراف معصوم بے زبان بچوں سے ان کے ”بابا“چھین لئے گے۔ مظفرآبادمیں ایک سفاک قتل کے عوض ایک گودمیں پڑے بچے سے اس کی ماں چھین لی گئی،معصوم بچوں نے حوالات کے اندراپنے قاتل باپ کے ساتھ ٹھٹھری رات میں وقت گزارا،انہیں کیاپتہ کہ جیل/تھانہ کیاہے۔اسلام آبادمیں میٹروکے غیرفعال باتھ روم سے آزادکشمیرکی ایک بارہ سالہ بچی صالحہ کی لاش کاملناجوجہلم ویلی کھلانہ کی رہائشی تھی،جس کاقاتل اس کاباپ نکلا۔مقبوضہ کشمیرمیں معصوم بچیوں سے ان کا ”بابا“ چھین لیاگیا۔روتی بلکتی ان کی مائیں اپنے سرتاجوں کی لاشیں لینے کیلئے سردی کی شدت میں سڑک پربیٹھی ہیں۔وہ صدائیں شاید ہمارے کانوں تک پہنچی ہوں گی اوریقیناپہنچی ہیں ”جوبچی یہ سوال کرتی ہے کہ میرے پاپانے کیاتھاکہ جو انہیں ماردیاگیا“لیکن بھارت کی ظالم حکومت اس ظلم کاجواب نہیں دے سکتی۔وہ کشمیری بہن حمیرہ مدثر جویہ کہتی ہے کہ”میرے مدثر (ڈاکٹر مدثرآف حیدرپورہ سری نگر)کوواپس کرو،وہ ایک پروفیشنل ڈینٹل ڈاکٹرتھاوہ ٹیررسٹ نہیں تھا۔وہ ایک سال کی معصوم بچی کواٹھائے کہتی ہے کہ اگروہ دہشت گردوں کے ساتھ ملاہواتھاتومجھے اورمیری ایک سالہ بچی کوگولی ماردوجوصرف ایک Wordبولتی ہے ”بابا“ورنہ مجھے ثبوت دو۔میں مدثرکی بیوی ہوں میں اس کے کردارعمل کوگہرائی سے جانتی ہوں۔ایک عالمی نشریاتی ادارہ کے مطابق 5اگست 2019ء میں جوحالات مقبوضہ کشمیرمیں پیداہوئے تھے ایسے حالات چنددن قبل ایک فرضی جھڑپ میں پیداہوگے تھے۔پوری دنیانے کشمیریوں پرہونے والے مظالم کواپنی آنکھو ں سے دیکھا،چیختی چلاتی ماؤں بیٹیوں کی آوازیں سنیں اوراسے ایک کشمیرمیں روزمرہ کاواقعہ قراردے کرخاموشی اختیارکرلی۔قارئین کرام!چنددن قبل مقبوضہ کشمیر حیدرپورہ سری نگر کے مقام پرالطاف احمدبٹ، ڈاکٹر مدثر اور عامراحمدماگرے جورابن سیری پورہ کارہنے والاتھاکوایک جعلی انکاؤنٹر میں شہیدکردیا گیا۔ الطاف احمدبٹ ایک بزنس مین تھا حیدر پورہ چوک میں اس کاشاپنگ پلازہ تھاجس میں وہ سیمنٹ کاکاروبارکرتاتھا۔اسی پلازہ میں ڈاکٹرمدثرجوایک خوبصورت کشمیری نوجوان تھاکاڈینٹل کلینک اورپراپرٹی آفس تھاجبکہ اس کے پاس ایک ملازم عامراحمدکام کرتاتھا۔ پولیس،سی آرپی اورانڈین آرمی نے مذکورہ کاروباری سنٹرپرجعلی ریٹ کرتے ہوئے مجاہدین کی موجودگی کاڈرامہ رچاکرنہتے اوربے گناہ کشمیریوں کوموت کے گھاٹ اتاردیا اور ان کشمیریوں کی لاشوں کوغیرآبادجگہ پردفنادیا۔اس واقعہ کے بعدشہداء کے ورثاء نے احتجاج بلندکیاان کے ساتھ سیاسی و سماجی شخصیات،بارایسوسی ایشن اورحریت رہنماؤں نے آوازبلندکرتے ہوئے ورثاء کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ورثاء کوشہداء کی لاشیں نہیں دی جارہی تھیں۔

قارئین کرام!گزشتہ ماہ (24اکتوبر)راولاکوٹ کے عظیم سپوت ضیاء مصطفی کوجومقبوضہ کشمیرکی مختلف جیلوں میں گزشتہ اٹھارہ برس سے قیدوبندکی زندگی گزاررہاتھا، مینڈھربھٹہ دُوریاں کے علاقہ میں لے جاکرایک جعلی انکاؤنٹرمیں شہید کردیا تھا۔ راولاکوٹ کے اس نوجوان کی شہادت پرورثاء نے عالمی عدالت میں بھارت کی اس سفاکیت کیخلاف مقدمہ درج کروایااورلاش کوورثاء کے حوالے کرنے کامطالبہ کیاہے جس پرتاحال عملدرآمدنہیں ہواہے۔کشمیرکے دونوں اطراف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔مظفرآبادمیں چاربچوں کی ماں کاقتل،مقبوضہ کشمیرمیں تین خاندانوں کے سربراہان کوشہیدکرنا، کشمیری بچوں کامستقبل یتیمی کاہے۔الطاف احمدبٹ کی بچی روتے بلکتے ہوئے کہتی ہے کہ میری ماں غم سے نڈھال ہے وہ کھڑی نہیں ہوسکتیں۔میرابھائی جوآٹھ سال کاہے اس کوہم کیسے بتائیں گے کہ ہمارے پاپاکہاں چلے گے ہیں۔میری بڑی بہن بے ہوشی کے عالم میں ہے،ہم دوبہنیں اورایک بھائی ہے۔اب ہم کس کے سہارے رہیں گے۔کشمیرکانوجوان ڈاکٹرمدثرشہیدکردیاگیااس کی ایک سالہ بچی اوراہلیہ حمیرہ مدثرسڑک پربیٹھی انصاف کی منتظرہیں۔معصوم بچی روئے جارہی ہے اس کوکیاپتاکہ اس کابابااس دنیامیں نہیں رہا۔وہ نوجوان جوڈاکٹرمدثرکے کلینک میں بطورآفس بوائے کام کرتاتھا،وہ آفس کی دیکھ بھال کرتاتھاچائے بناتاتھااورماہانہ دس ہزارروپے تنخواہ لے کراپنے والدین کاسہاراتھااس کوبھی ماردیاگیا۔ان شہداء کے ورثاء حکومت اورظالم پولیس،سی آرپی اورانڈین آرمی سے ثبوت مانگتی ہیں کہ اگرآپ کے پاس کوئی ثبوت ہے توہمیں بتائیں،لیکن ان کے پاس اس کاکوئی جواب نہیں،ان کے پاس کوئی وضاحت نہیں۔آئی جی پی وجے کمار ایک فرضی کہانی میڈیاکے ذریعے سناتے ہوئے ہانپ رہاتھااس کی سانس پھولی ہوئی تھی اوراپنے جھوٹے الفاظ میں کہہ رہاہے کہ ہمیں ان ہلاکتوں پرافسوس ہے۔حیدرپورہ میں جہاں واقعہ ہواوہاں پرکوئی پولیس اسٹیشن نہیں جبکہ پولیس کاکہناہے کہ حیدرپورہ سری نگرمیں پولیس اسٹیشن میں ڈاکٹرمدثر،الطاف احمدبٹ،عامراحمدکی انکوائری کی گی جبکہ پولیس اسٹیشن ہی نہیں ہے۔”قتل کرکے پوچھتے ہیں جنازہ کس کاہے“۔

قارئین کرام!بیس کیمپ کی حکومت ابھی جیسے وہ پہاڑی میں کہتے ہیں کہ”پاسے پرت“رہی ہے وہ ابھی جاگی نہیں ہے۔ہوناتویہ چاہیے تھاکہ حیدرپورہ میں شہیدہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑارہتے اورایک جاندارموقف بھارت کودیتے، آزاد کشمیرمیں سرکاری سطح پراس ظالمانہ اقدام کیخلاف آوازبلندکی جاتی۔لیکن یہاں توکچھ بھی نہیں صرف ایک خبر،افسوس اوربس۔۔۔۔میڈیاپرالطاف بٹ کی بیٹی کی ویڈیوشیئرکرکے ہمارے نوجوان اپنے پیج کی رکنگ اوردولت کمانے کی دوڑمیں ہیں۔کشمیرکی بیٹی کے پیغام سے ہمیں کوئی غرض نہیں اس کابابامرتاہے تومرے۔ابھی بھی وقت ہے مظلوم کشمیریوں پرہونے والے مظالم کوروکنے انہیں آزادی جیسی نعمت سے نوازنے کیلئے ہمیں غازی ملت سردارمحمدابراہیم خان،کیپٹن حسین خان شہیدجیسے کرداراداکرنے ہوں گے۔ہمیں اپنامحاسبہ کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے،جاگنے کاوقت ہے کائنات کے خالق کے ارشادات پرعمل کرتے ہوئے میدان عمل میں آناہوگاظلم کی رات کومٹاناہوگاتاکہ آزادی کاسورج طلوع ہوسکے۔

Leave your comment !

%d bloggers like this: