تحریر: عقیل بٹ، برطانیہ


سوال یہ ہےکہ جب سے نام نہاد تحریکِ آزادی کا آغاز ہوا ہے کشمیریوں نے بالخصوص اور جنوبی ایشیا کی عوام نے بالعموم کیا کھویا اور کیا پایا؟
آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔
جو تحریک ہی دوسروں کے بل بوتے اور کہنے پر شروع ہو وہ کامیاب کیونکر ہو سکتی ہے؟ حکومتِ پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہونے کے باوجود قبائلیوں کی نہتے کشمیریوں پر یلغار کس کی ایما پر کی اوریہ اتنی ناقص منصوبہ بندی کس کی وجہ سے ہوئی؟

گلمرگ اور دتہ خیل جیسے آپریشنز کے پیچھے کون سی طاقتیں تھیں؟ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسی ناقص پلاننگ اور مس ایڈونچر کی وجہ سے ہی اکیسویں صدی میں جب دنیا مریخ پر ڈیرے ڈالنے کی ترکیبیں کر رہی ہے برِ صغیر کی ڈیڑھ ارب آبادی غربت، بے روزگاری، پسماندگی، جہالات اور ایسی دوسری قبیحات میں آج بھی لت پت ہے۔

اگر ریاست جموں و کشمیر پر یہ ظالمانہ چڑھائی نہ کی جاتی توآج جنوبی ایشیا کے خطے کے تمام ممالک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوتے ۔ اور ایک بڑی معاشی طاقت ہوتا۔ اربوں کھربوں روپیہ جو دفاع کے نام پر پانی کی طرح بہایا گیا اور بہایا جا رہا ہے، مغرب کی طرح عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ ہوا ہوتا۔

ہم جیسے لاکھوں لوگوں کو پیٹ کی خاطر دنیا بھر کے دھکے نہ کھانے پڑتے۔ پردیس کی دو نمبر شہریتیں نہ لینی پڑتیں۔ والدین، بہن بھائیوں ، یار سجنوں اور جنت نما مادرِ وطن کی جدائی و اذیت برداشت نہ کرنا پڑتی۔

جنتِ بینظیر کو گولہ بارود اور آگ و خون سے جہنم نما نہ بنا دیا گیا ہوتا۔ ایک لاکھ معصوم شہید نہ کر دیے گئے ہوتے، سیکڑوں عورتوں کی عزتیں پامال نہ کی گئی ہوتیں، ہزاروں بچے یتیم اور اربوں کی املاک تباہ نہ کی گئی ہوتیں۔

آج بھی کشمیریوں کو سات لاکھ ہندوستانی فوجیوں کی رائفلوں کے خوف تلے زندگی بسر نہ کرنی پڑتی۔ ہمارا خطہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں سے کھچا کچھ بھرا ہوتا۔

ساری دنیا سے سیاہ ہمارے آسمان کو چھوتے پہاڑوں، خوبصورت ندی نالوں، دریاؤں اور مرغزاروں میں کھو کر انکی تعریف میں گیت، نظمیں اور غزلیں لکھ رہے ہوتے۔ جموں و کشمیر میں روزگار اور رہائش کیلیے دوسرے ممالک سے لوگ ویزے اپلائی کرتے۔ آج ہماری ریاست یورپ کا سویٹزرلینڈ بلکہ اس سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ملک ہوتی۔

میں سوچتا ہوں کہ ہندوستان و پاکستان کے خود غرض بکاؤ حکمرانوں نے مغربی اسلحہ فروشوں کی ملی بھگت سے خود اپنی قوم اور ہمارے ساتھ کیا کیا ہاتھ نہ کیا۔ اپنی دو دن کی عیاشی کی خاطر ہمیں دنیا بھر میں دھکے کھلا کھلا کر کیسے کیسے ذلیل و خوار کیا اور کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا حل اتنا مشکل تو نہ تھا جتنا چند ذلیلوں نے بنا کر پوری دنیا کو پیش کیا اور کر رہے ہیں۔ انکی اور اپنے نا اقبت اندیش زہین مریضوں کی ان قبیح حرکتوں کیوجہ سے ہی پچھلے تہتر برس سے ہم فقط چار ہزار مربع میل پر مشتمل طفیلی ریاست میں ایک کٹ پتلی وزیرِ اعظم، صدر اور انکی بھاری بھر کابینہ کی لوٹ مار کا شکار بنے ہوے ہیں۔ مسئلہ “ہندوستانی حل”کے قریب پہنچ چکا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ برس سے سرینگر بند ہے، ہندوستان نے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے بھی ختم کر کے ڈائریکٹ رول اپلائی کر دیا ہوا ہے۔ کشمیری تہتر سال کے بعد آج بھی اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ہم ٹرک کی بتی کے پیچھے آج بھی بھاگ رہے ہیں۔ آخر ہمیں کب ہوش آئیگا اور ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو ان بدمعاشوں کے چنگل سے آزاد کرو سکیں گے؟