تحریر و تصویر: محمد احسن

آخر وہ مرنے کے لیے کیوں جاتے ہیں؟ اللہ نہ کرے کہ کوئی بُری خبر آئے ۔ مگر سُننے میں آیا ہے۔ کہ برگر شہزادوں اور پاپا کی پریوں نے تنقید کا طوفان مچایا ہوا ہے ۔ کہ جب معلوم ہے کہ انسان مر سکتا ہے۔ تو پھر بے وقوفوں کی طرح یہ کوہ پیما لوگ خطرناک پہاڑوں کو جاتے ہی کیوں ہیں؟؟

اب سب مل بیٹھ کر رو رہے ہیں۔ یعنی جس وقت کےٹو ٹیم کی خیروعافیت کی دعائیں مانگنی چاہئیں۔ اُس وقت پاکستانی قوم اپنی بد فطرتی پر آئی ہوئی ہے۔

قابلِ افسوس رویہ۔ میری نظر سے ایسی پوسٹیں نہیں گزریں ۔ کیونکہ الحمدللہ مَیں بروقت احباب کو بھانپ کر کنارہ کشی اختیار کرتا رہا تھا۔

نتیجتاً اب صرف اعتراضات کا جواب دینے والے احباب کی پوسٹیں نظر آ رہی ہیں۔ سب کا شکریہ۔ البتہ مختلف پیجز کے گھٹیا کمنٹس نظر سے گزر رہے ہیں۔ویسے تو احباب جواب دے ہی رہے ہیں کہ انسان تو ہر وقت موت کے منہ میں ہوتا ہے۔

چاہے جتنی مرضی محفوظ زندگی گزارنے کی کوشش کر لے۔ چاہے گھر میں ہی کیوں نہ بیٹھا رہے۔ پیدائشی امراض سے شروع ہو کر حادثات، وبائیں، اچانک حرکت قلب کا بند ہونا، برین ہیمرج ہونا، سب معمول کی باتیں ہو چکی ہیں۔

اس کے علاوہ فوجی بن کر بارڈر پر جانا یا پولیس میں بھرتی ہو کر مجرموں سے مقابلے کرنا۔ موت کہاں کہاں نہیں۔ بلکہ اسے پہیلی ہی سمجھیں کہ کوئی ایسا طریقہ بتا دیں کہ موت سے بچت ہو جائے۔

جب وقت آتا ہے تو بے شک انسان گالف کھیل رہا ہو، ایک لمحہ بھی نہیں ملتا۔ تو پھر کوہ پیمائی کو خاص طور پر موت سے جوڑنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ شہر میں گھومنے پھرنے والا موٹر سائیکل سوار بھی خطرے میں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ کیا جانتے ہیں کسے ہوتا ہے؟… پیدائش کے فوراً بعد بچے اور اُس کی ماں کو۔ پھر بھی دنیا کی آبادی چیک کی ہے؟

انسانی ترقی کا راز

مَیں بطور ٹیکنالوجسٹ اور سپیس سائنس ریسرچر مزید مگر مختصر جواب دینا چاہوں گا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی ترقی کا راز کیا ہے؟ ذرا سوچیے۔ علم دوستی؟ پیچیدہ دماغ؟ وسائل کی فراوانی؟… ہرگز نہیں۔

سائنس کی رو سے یہ غلط جواب ہیں۔ اصل جواب ہے: بے وقوفی اور اپاہج پن۔ جی ہاں۔حیرت ہوئی ہو گی۔

اپاہج اور بوڑھے لوگوں کا فائدہ کیا ہے؟

اب تفصیل خرگوش گزار کرتا ہوں۔ دنیا میں آمریت پسند معاشروں میں ہمیشہ بحث ہوتی رہی کہ اپاہج اور بوڑھے لوگوں کا فائدہ کیا ہے، انہیں زہریلے انجکشن سے ختم کر دینا چاہیے تاکہ مملکت کے وسائل صحت مند جوان مستحقین استعمال کریں۔

دور کیا جانا، شمالی کوریا کو ہی دیکھ لیں۔ ڈکٹیٹر کم جانگ او نے کرونا وائرس کے مریضوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔مگر جمہوریت پسند معاشروں نے کیا رویہ اختیار کیا؟

اپاہج لوگوں کو آسان زندگی کی سہولت دینے کے لیے سائنسی ایجاد و دریافت کیے۔ یعنی اپاہجوں کے لیے بنائی گئی ٹیکنالوجی اب صحت مند عوام بھی استعمال کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹلیجنس) کا آغاز ہی اپاہجوں کو سہولت دینے کے لیے ہوا تھا۔ کرونا وائرس کے مریض کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ سائنسی ایجاد و دریافت کے ذریعے نئی دوائیں متعارف کروائی جائیں گی۔

کار کو آٹومیٹِک گیئر پر بھی اسی لیے کیا گیا کہ کمزور ٹانگوں والے لوگ کار چلا سکیں، اب صحت مند افراد بھی چلا رہے ہیں۔

اپاہج سٹیفن ہاکنگ

مشہور اپاہج سٹیفن ہاکنگ کے لیے حیرت انگیز کمپیوٹر سسٹم اور پیچیدہ سوفٹ ویر بنایا گیا۔ اگر اپاہج نہ ہوتے تو سائنس کو اتنا تردد کرنے کی ضرورت نہ تھی، بنیادی آلات سے کام چل جاتا۔

آپ تو لفٹ اور ایلیویٹر کو بھی نہ جانتے۔ خصوصاً لفٹ کی بدولت دنیا میں طویل قامت عمارات بنانے کا جواز پیدا ہوا۔ لفٹ نہ ہوتی تو کون 110 ویں منزل سے نیچے مارکیٹ میں دہی لینے آ سکتا تھا سیڑھیوں کے ذریعے!

دوسری وجہ ہے “بے وقوف لوگ”۔ یاد رہے کہ انسان بنیادی طور پر بے وقوف ہے۔

اگر بے وقوفی کا مطلب شدید تجسس میں آ کر انجان راہوں پر نکلنا ہے۔ سب سے پہلے ایسی بیوقوفی لاکھوں برس پہلے افریقا کے ہومو قبیلے ایریکٹس نے دکھائی۔ چل چل کر دنیا میں پھیل گئے۔ اپنے ماحول کو قبول کرنے کی بجائے افریقا سے باہر نکل گئے۔

یقین کیجیے انہوں نے موت کو للکارا تھا۔ تب آپ پاکستان میں پیدا ہوئے حالانکہ آباؤاجداد آپ کے افریقی ہیں۔

اور اب سوال پوچھ رہے ہیں کہ کوہ پیما پہاڑوں پر کیا لینے جاتے ہیں؟ آپ کے پڑدادا افریقا سے باہر نکل کر یہاں آم لینے آئے تھے؟

یہی کوہ پیماؤں والا اعتراض خلابازوں پر بھی ہوتا ہے۔ یہی کم عقل ذہنیت پوچھتی ہے کہ زمین کے مسائل حل کرنے کی بجائے اوپر خلاؤں میں وقت، پیسہ اور انسانی جان وار دینا بے وقوفی ہے۔

سائنسدان نیل ڈی گراس ٹائسن نے اِس اعتراض کا ایک خوبصورت جواب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:”چھ کروڑ برس قبل دنیا کا سب سے کامیاب جاندار ڈائنوسار جو کہ 20 کروڑ سال تک دنیا میں گھومتا رہا، بالآخر ایک خلائی چٹان سے مات کھا گیا۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ ڈائنوسارز نے سپیس پروگرام نہیں بنایا تھا۔

اگر آپ خلا پر توجہ نہیں دیں گے تو مستقبل میں یقینی طور پر آنے والی چٹان کا راستہ کیسے بدلیں گے؟ اگر محض زمینی مسائل کو حل کرنے میں مصروف رہے تو آپ بھی ڈائنوسارز کی طرح ایک دن، اور ایک دن میں ہی، ناپید ہو جائیں گے۔

“مریخ مہم پر اعتراض کا بھی یہی جواز ہے۔ انسانی زندگی کو سیارہ زمین کے علاوہ کہیں اور بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ زمین پر ایمرجنسی کی صورت میں بعد میں دوبارہ نوعِ انسان کی افزائش کی جا سکے۔ یہ کائنات بہادروں کی مدد ضرور کرتی ہے، جیسے ہم افریقا سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور پیچھے رہ جانے والے دوسرے ہومو قبیلے ہم پر جگتیں مارتے تھے۔

کیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ جنگیں بھی بے وقوفی ہیں، کوہ پیمائی سے کہیں زیادہ۔ بہت انسان مرتے ہیں اور مرنے پر فخر بھی کرتے ہیں۔ اب دنیا میں سب سے زیادہ ایڈوانس ٹیکنالوجی انہی فوجیوں کے پاس ہے جس کا لائٹ ورژن ہم سویلیئنز استعمال کرتے ہیں۔

اگر جنگ کی بے وقوفی نہ ہوتی تو آپ کے پاس ہوائی جہاز، موبائل فون، جی پی ایس، ریڈیو، ٹیلی ویژن، غرضیکہ بہت بہت کچھ نہ ہوتا۔ اور بالکل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بھی تاریخی طور پر ملٹری ٹولز ہیں، گوگل کیجیے۔یہی بات کوہ پیماؤں کے متعلق بھی درست ہے۔

بلندی کی چاہ میں وہ اپنے آپ کو عذاب میں کیوں ڈالتے ہیں؟ انسان بلندی کو کیوں جانا چاہتا ہے؟ غارِ حرا کی بلندی میں ایسی کیا کشش تھی جو نیچے زمین پر نہ تھی؟؟!!.. بہرحال، اِن کوہ پیماؤں کو سہولت دینے کے لیے سائنس نے جتنی ایجادودریافت کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ مت سوچیے کہ اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے اُنہیں کیا ملتا ہے۔ یہ سوچیے کہ اُن کی جان خطروں میں آنے سے سائنس اِس بہانے آپ کے لیے کتنی ایجادودریافت کر رہی ہے۔

کوہ پیمائی کے لیے بنائی جانے والی ٹیکنالوجی ہم عوام کے استعمال میں آتی ہے۔ یہی سائنس اور انسان کی تاریخ ہے۔ بھائی، آپ کے پاس مضبوط جوتے بھی نہ ہوتے اگر اُن جوتوں کو مہم جو “بے وقوفوں” کے لیے نہ بنایا گیا ہوتا۔ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں جدت بھی ایسے مہم جوؤں کی وجہ سے آئی۔ کولمبس اگر بے وقوفوں کی طرح عظیم بحرِ اوقیانوس میں نہ نکل جاتا تو دو براعظم دریافت نہ ہوتے۔

آپ کو کے-ایف-سی اور مکڈونلڈ بھی کبھی نہ ملتا۔یہ سب باتیں سٹیفن ہاکنگ، کارل سیگن، اور ڈاکٹر ٹائسن کے مضامین سے حاصل کی گئی ہیں۔اِس لیے کوہ پیماؤں کو لتاڑنا بند کر دیں، وہ آپ کے لیے بے وقوفانہ مہم جوئیاں کرتے ہیں۔ آپ کو تو اُن کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ اُن کی سخت زندگی نے آپ کو بہت سہولیات دی ہیں۔شب بخیر، مسافرِشَب

محمد احسن ایک ٹریول رائٹر ہیں۔ ان کی کتابوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ مسافر شب کے نام تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔