تحریر : ریاض خواجہ ، عباسپور

 بانی ءِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانانِ ِ برصغیر کے ایک باکردار پُر عظم اور اولوالعزم قائد کے باوصف برصغیر کے اُفق پر طلُوع ہوئے سیاست میں اُنکی دیانتداری، اصول پسندی، نظم وضبط اور حقیقت پسندی کے دشمن بھی معترف تھے وہ مکمل جمہوریت پسند، انصاف پسند، امانتدار اور دیانت داری سے مزین سیاست کے آمین وپیامبر تھے اور یہ خصوصیات اُنکی سیاسی زندگی کے ہر پہلو سے مترشح ہوتی رہیں 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد نوزائیدہ مملکت خداداد کوگوناگوں مسائل سے نکالنے کے لیے اُنہوں نے جو پالیسیاں عملی طور پر اپنائیں مستقبل میں اُن پر عمل پیراہو کر پاکستان کو مسائل کے گرداب سے نکالا جاسکتا تھا مگر شومئیءِ قسمت قائد اعظم کی رحلت کے فوری بعد کی نااھل حکومتوں نے انکی پالیسیوں کو پس پشت ڈال دیا نتیجتاً پاکستان کی مشکلات میں اندرونی اور بیرونی طور پر اضافہ ہوتا گیا

پاکستان کے ابتدائی مسائل میں مسئلہ کشمیر بھی نو زائیدہ مملکت کے لیے ایک اہم سنگین مسئلہ تھا قائداعظم چونکہ بلند پایاقانون دان بھی تھے وہ مسئلہ کشمیر کی حساسیت، اہمیت اور سنگینی سے آگاہ تھے اس لئے اُنہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ کے طور پر لیکر اسکے مستقل حل کے لئے ٹھوس اور مربوط پالیسی وضع کی جب مجاہدین کشمیر اپنےبل بوتے پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو بھارت نے چالاک حکمت عملی کے تحت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور شیخ محمد عبداللہ کو کشمیریوں کا لیڈر بنا کر وہاں بھیجا جسکے جواب میں قایداعظم نےاپنی کشمیر پالیسی پر عمل پیرا ہو کر آزاد کشمیر کی عبوری حکومت کے سربراہ جناب غازئ ءِ ملت سردار محمد ابراہیم خان مرحوم کو کشمیریوں کا نمائندہ بنا کر اقوام متحدہ میں بھیجا جنھوں نے اقوام متحدہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں یہ موقف اختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحدی علاقے کاتنازعہ نہیں ہے بلکہ ریاست جموں کشمیر 84,471 مربع میل پر مشتمل ایک سیاسی وحدت اور اکائی ہے اور اس وحدت کی بحالی اور کشمیر ی عوام کے پیدائشی بنیادی حق. حقِ خود ارادیت کے حصول کا مسئلہ ہے اور کشمیری عوام ہی مسئلہ کشمیر کے اہم اور بنیادی فریق ہیں اور میں آزادکشمیر کی عبوری حکومت کا سربراہ اور نمائندہ ہوں” یہ تھی قائداعظم کی کشمیر پالیسی اور اُنکی حکومت کا کشمیر کے بارہ میں جاندار موقف……

  قائد اعظم کےرحلت فر مانے کے بعد کی حکومتوں نے قائداعظم کی کشمیر پالیسی سے بھی”یوُٹرن” لیتے ہوئے اسے ردّدی کی ٹوکری کی نظر کردیاچنانچہ 1 مئی 1959 کو قائداعظم کے رفیقِ کار اور متعمدِ خصوصی، عظیم بطلِ حُریت ریاست جموں کشمیر کے مائیہ ناز فرزند،ماہر قانون دان، تحریک آزادیءِ کشمیر کے علمبردار، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کےپاسبان، وحدت کشمیر کے داعی جناب بیرسٹر خورشید الحسن خورشید (کے ایچ خورشید) کو آزادکشمیر کاصدر بنایا گیا انہوں نے صدر بنتے ہی آزادکشمیر سے طوائف الملوکی کی سیاست کاخاتمہ کرکے آزادکشمیر کے عوام کو ووٹ کا حق دیا اُنہوں نےجہاں وسیع پیمانے پر تعمیر وترقی کا آغاز کیا وہیں پر اپنے غلام مادروطن ریاست جموں کشمیر کی آزادی اپنی مقہُور کشمیری قوم کے حق خود ارادیت کے حصول نیز ریاستی وحدت کی بحالی کے لئے ایک منظم تحریک کے آغاز کی منصوبہ بندی کی اور آزادکشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں اور تجربہ کار سیاسی وسماجی کارکنوں کو جموں کشمیر لبریشن لیگ کے عظیم پلیٹ فارم پر مجتمع کیا

29، 30ستمبر 1962ء کو مظفرآباد کے مقام پر ایک تاریخی کنونشن میں تحریک آزادئ کشمیر کو نئ جہت سے شروع کرتے ہوئے بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی کشمیر پالیسی کی عین مطابق ایک جاندار، ٹھوس، قابل عمل حل پیش کیا کہ “بشمول گلگت وبلتستان آزاد جموں کشمیر حکومت کو پوری ریاست کی نمائندہ، باغی، انقلابی اور مہاراجہ ہری سنگھ کی جانشین حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے تاکہ یہ کشمیریوں کی تسلیم شدہ حکومت ازخود بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بیرونی دنیا کے سامنے پیش کرکے سفارتی محاذ پر عالمی رائے عامہ کو بھارت کے خلاف منظم کرسکتے ہیں اس ضمن میں پہلے حکومت پاکستان آزادکشمیر حکومت کو تسلیم کرےپھر عالمی سطح پر اس حکومت کو تسلیم کروانے کےلئے اپنا سفارتی وسیاسی اثرورسوخ استعمال کرے تاکہ پاکستان پر پڑنے والے عالمی دباؤ کاموءثرمقابلہ کیا جاسکے اور سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بھارت پر سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھایا جاسکے

کے ایچ خورشید ایک جہاندیدہ سیاسی راہنما تھے اور قائد اعظم کی رفاقت سے بہت سیاسی عقل ودانش اوروسیع تجربہ رکھتے تھے لیکن اُسوقت کے چند وزارتِ امورکشمیر کے وظیفہ خور کشمیر ی لیڈروں نے اپنی سیاسی ساکھ کو لپٹتا دیکھ کر نظریہ خورشید کی مخالفت میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور جی ایچ کیو کو چھٹیاں لکھیں اور راتوں کی ملاقاتوں میں ان کے کان بھرے نتیجتاً ارباب بست وکشاد نے کے ایچ خورشید کی اس تجویز پر کان نہ دھرے چنانچہ جناب کے ایچ خورشیدرحمۃ اللہ کو دیوار سے لگانے کے لئے غیر اخلاقی،غیر قانونی، غیر انسانی اور غیرجمہوری ہتھکنڈے آزمائے گئے جموں کشمیر” لبریشن لیگ” کا راستہ روکنےکےلئے اسٹیبلشمنٹ کیطرف سـے غیرقانونی اور بلا جواز آرڈیننس نافذ کروائے گئے

 گذشتہ 32 سال سے مقبوضہ کشمیر میں جاری حالیہ تحریک کے نتیجے میں کم وبیش ایک لاکھ کشمیریوں کو انڈین ملٹری فورسز نے منظم دہشت گردی سے تہہ وتیغ کیا لاکھوں افراد جیلوں میں پابند سلاسل ہیں ہزاروں عفت مآب ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی اجتماعی سطح پرعصمت دری کی گئی سکول کے بچوں کو “پیلٹ گنوں” سے لہو لہان کرکے ساری زندگی کیلئے اندھااور اپاہج بنانے کے نت نئے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے مقبوضہ کشمیر کی اس اذیت ناک، تشویشناک اور دگرگوں صورتحال پرجہاں اقوام متحدہ مکمل خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے وھاں پر پاکستان کی حکومت، وزارت خارجہ اور افواج پاکستان آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کررہے ہیں

 پاکستان کی وزارت خارجہ کے اس خاموش سیاسی سفارتی بھیانک کردار نے بھارت کو 5 اگست 2020 کو انڈین آئین میں ترامیم کرکے دفعہ370اور 35 اے کو ختم کرنے کا جواز فراہم کیا اور بھارت نے پاکستان کے حکمرانوں کی ایماءپر ایسےاقدامات اُٹھانے شروع کردیئے ہیں جن پر عمل پیراہو کر بھارت کشمیریوں کی مزید نسل کشی کے لئے نت نئے حربے استعمال کرکے مقبوضہ کشمیر میں جاری” انتفاضہ” کو کچلنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیراہے اس دگرگوں صورتحال کے باعث آج آزادکشمیر کے وزیر اعظم جناب راجہ فاروق حیدر خان سمیت آزادکشمیر کے سبھی راہنما کھل کرجناب خورشید ملت کی نظریاتی اساس تسلیم آزادکشمیر حکومت کو پذیرائی دینے کامطالبہ پوری شدومد سے کرنے پرمجبور ہیں لیکن پاکستان کے ارباب بست وکشاد اور وزارت خارجہ مکمل چُپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں آخر کیوں …… ؟؟؟؟ 11 مارچ 1988 کو جناب کے ایچ خورشیدرحمہ اللہ ایک عام بپلک ویگن میں میرپو سے لاہور جاتے ہوئے گوجرانوالہ کے قریب ٹریفک حادثے میں داعیءِ اجل کو لبیک کہہ گئے اناللہ وانا الیہ راجعو ن جب اُنکی شناخت کے لئے جیب کی تلاشی لی گئی تو انکی جیب سے صرف 37روپے 25 پیسے ساری زند گی کی جمع پونجی نکلی جو اُنکا کل اثاثہ تھا ساری زندگی کرائے کے مکان میں رہے کے ایچ خورشید مرحوم اپنے پاکیزہ کردار، صاف وشفاف دیانتدارانہ سیاست اور بلند پایہ اوصاف ِحمیدہ کے باوصف، سابق صدر آزادکشمیر، آزادکشمیر قانون سازاسمبلی میں قائد حزب اختلاف، ریاست جموں کشمیر کے بلند پایہ عظیم سیاسی مدبر کے طور پر امر ہو کر غروب ہو گئیے 10 مارچ1988 کو میرپور بار سےاپنی زندگی کی آخری تقریر کرتے ہوئے فرمایا “کہ یوں توانسان آتے جاتے رہتے ہیں مگر جو شخصیات شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کےلئے جدوجہد میں مصروف عمل رہتے ہیں وہ امر ہو جاتے ہیں” بلا شُبہ جناب خورشید شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبردار اور جمہوریت کے پاسبان بن کر ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں امر ہوگئے تحریک آزادیءِجموں کشمیر کا جذبہ اُنکی دیو ملائی شخصیت کا اوڑھنا بچھونا تھاوہ بلا کے ذہین اور بلند پایہ فی البد یہہ مقرر ماہر پارلیمنٹیرین تھے وہ ساری زندگی آئین وقانون کی بالادستی اور جمہوری اداروں کے قیام اور استحکام کے لئے محوِگرداں رہے،

اللہ پاک اُُنھیں کروٹ کروٹ راحت وسکون نصیب فرمائیں اور علیین میں درجات بلند فرمائیں

 آخرت کی منازل آسان فرما ئیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین ثم آمین یا رب العالمین

 بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

 اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا