تبصرہ نگار:   رابعہ حسن

رابعہ حسن

”میزانِ زیست‘‘ آزاد کشمیر کے کلیدی عہدوں پر خدمات سر انجام دینے والی نابغہ روزگار شخصیت جسٹس (ر) منظور حسین گیلانی کی سوانح حیات ہے ۔ جس میں انہوں نے کشمیر کے دونوں حصوں (مقبوضہ و آزاد) میں گزاری اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات قلم بند کیے ہیں۔

 ”میزانِ زیست‘‘ مصنف کی ذاتی زندگی کا احوال ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے حالات و واقعات پر ایک تاریخی اورمستند دستاویز بھی ہے۔
جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی 7 جون 1945ء کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی تحصیل کرناہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم شیرِ کشمیر ہائی سکول، کنڈی کرناہ، ضلع کپواڑہ میں حاصل کی۔

 بعد ازاں گریجویشن گونمنٹ ڈگری کالج بارہ مولہ سے کی۔  جب کہ ایل ایل بی کی ڈگری 1970ء میں سرسید احمد خان کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نمایاں نمبروں سے حاصل کی۔

گیلانی صاحب نے 1970ء میں بطور وکیل، جموں و کشمیر ہائی کورٹ سری نگر سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا ۔ جب کہ 1971ء میں جموں و کشمیر کے محکمہ قانون میں بطور انڈر سیکرٹری منتخب ہوئے ۔

لیکن بعد ازاں 1973ء میں‌ اس عہدہ سے استعفیٰ دے کر دوبارہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ، سری نگر میں 1976ء تک بطور وکیل پریکٹس کی۔

 یوں آپ کی زندگی کا اچھا خاصہ حصہ کنٹرول لائن کے اُس پار بھارتی زیرِ تسلط مقبوضہ کشمیر میں گزرا۔

 آپ کے والدین چوں کہ آزاد کشمیر ہجرت کر آئے تھے،  اس لیے سید منظور حسین گیلانی نے بھی 1976ء میں یہاں آ کر ان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔  اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

 یوں آپ نے دونوں اطراف کے کشمیر کے حالات و واقعات کو پورے شعور کے ساتھ دیکھا۔

 1977ء سے 1986ء تک گیلانی صاحب نے بطور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و ہائی کورٹ، وکالت کی ۔ اور 1986ء سے 1990ء تک ریاستی حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دیے۔

 1991ء سے 2010ء تک جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی نے آزاد ریاست جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں بطور جج اور چیف جسٹس خدمات سر انجام دیں۔

 علاوہ ازیں آپ جامعہ آزاد کشمیر کے وائس چانسلر اور آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر بھی رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ 2015ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ”اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے رکن بھی مقرر ہوئے.۔

آپ قانونی اور آئینی امور سے متعلق 4 کتابوں کے مصنف ہیں اور ساتھ ساتھ مختلف اخبارات و رسائل میں کالم نگاری بھی کر رہے ہیں۔
زیرِ نظر کتاب ”میزانِ زیست‘‘، ایک ایسے بچے کی دیو مالائی داستان ہے ،  جو عام سے پس منظر کا حامل ہے ۔لیکن علم کی لگن اور آگے بڑھنے کی جستجو نے اسے وادی کے کامیاب ترین افراد میں شامل کر دیا۔

کشمیریات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یقینا یہ ایک قیمتی کتاب ہے ۔ جس میں نہ صرف کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کے کشمیر میں تعمیر و ترقی کا موازنہ، سیاسی شخصیات کا جائزہ و تذکرہ، انتفادہ، مسئلہ کشمیر پر ہندوستان و پاکستان کا موقف اور سفرنامے بیان کیے گئے ہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل بھی بیان کیا گیا ہے۔
”میزانِ زیست‘‘ کل 15ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے 5 ابواب مصنف کی مقبوضہ کشمیر میں بسر ہونے والی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں ۔ جن میں مصنف کے خاندان، ابتدائی تعلیم اور کالج و یونیورسٹی کے زمانے کے ساتھ ساتھ وکالت اور عملی زندگی کا مکمل احوال موجود ہے۔

باب 7 سے لے کر 10 میں مصنف نے آزاد کشمیر میں ہجرت اور یہاں پر عملی زندگی کے تجربات، مشاہدات بیان قلمبند کیے ہیں۔ گیارہواں باب مصنف کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا احاطہ کرتا ہے۔ مصنف نے اے جے کے آر کے نام سے آزاد کشمیر اور گلگلت بلتستان کے حقوق کے حصول کے لیے ایک تنظیم بھی تشکیل دے رکھی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے آزاد کشمیر میں قیام میں بھی مصنف کا اہم کردار ہے۔ بارہویں باب میں مصنف نے ان شخصیات کی یادداشتیں شامل کی ہیں ۔ جن سے وہ زندگی میں ملے، جن میں پیر حسام الدین، پروفیسر عبدالغنی بٹ، سیف الدین سوز، سید علی گیلانی، سردار عبدالقیوم، سردار ابراہیم جیسی نابغہ روزگار شخصیات شامل ہیں۔

 تیرہواں باب نہ صرف مصنف کے سیرو سیاحت سے شغف رکھنے کا شاہد ہے ، بلکہ قاری کو دنیا بھر کر سیر بھی کرا لاتا ہے۔ چودہواں باب کشمیریات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے نہایت مفید ہے۔

پندرہواں باب متفرقات پر مشتمل ہے۔ جس میں متفرق موضوعات کے ساتھ ساتھ مصنف نے اپنی زندگی کا نچوڑ بھی بیان کیا ہے۔ بلاشبہ مصنف کا اندازِ بیاں سہل اور رواں ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا تخلیقی ہے کہ قاری مصنف کے ساتھ ساتھ تاریخ کے اوراق میں سفر کرتا محسوس ہوتا ہے۔
751 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو ”جمہوری پبلیکیشنز، لاہور‘‘ نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت 1200 روپے مقرر کی گئی ہے. یہ کتاب ملک بھر کے ہر بڑے بک ڈپو پر دستیاب ہے۔