سردار محمد حلیم خان

hjrat786@gmail.com

تیرہ جولائی ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اس دن بائیس فرزندان توحید نے اپنا خون دے کر تحریک ازادی کی جس شمع کی بنیاد رکھی اس کی لو اکانوے سال گزرنے کے باوجود مدہم نہیں ہوئی۔شیخ عبداللہ آتش چنار میں لکھتے ہیں کہ جب ہری سنگھ کی بربریت کے نتیجے میں اذان مکمل کرتے ہوئے بائیس فرزندان توحید خاک وخون میں نہا چکے تو ہم نے زخمیوں کا جائزہ لینا شروع کیا ایک زخمی نے مجھے اشارہ کر کے قریب بلایا اس نے کہا شیخ صاحب ہم نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اب آپ نے اپنا فرض پورا کرنا ہے۔ یہ الفاظ ادا کرتے ہی اس کی روح پرواز کر گئی

میں اس شہید کے الفاظ پہ غور کرتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں یقینا ہر شہید کی یہ تمنا ضرور ہو گی کہ جس مشن کی خاطر وہ جان دے رہے ہیں زندہ بچ جانے والے اس کی تکمیل کریں۔13 جولائی کے شہداء سری نگر کا قصور کیا تھا اور ان کا مشن کیا تھا۔ازادی برابری کی بنیاد پر حقوق اور انصاف۔وہ پشاور کے عبدالقدیر کو انصاف دلانے کے لئے نکلے تھے۔جس کے ساتھ ان کا زبان نسل علاقے کا کوئی رشتہ نہ تھا۔واحد رشتہ کلمے کا تھا۔اسی بھائی چارے نے عبدالقدیر کو بے خطر اتش نمرود میں کود پڑنے پہ امادہ کیا تھا اور یہی جذبہ ایمانی اہل کشمیر کو عبدالقدیر کی پیشی پر کھینچ کے گھر سے لایا تھا۔ یوں قوم اور ملت میں فرق کی بھی وضاحت کر دی ان شہداء نے۔سوال لیکن دوسرا ہے کہ اکیانوے سال گزرنے کے بعد ہمارا سفر کتنا طے ہوا؟جواب حوصلہ افزا نہیں ہے کیوں کہ ہم نے شہداء سری نگر سمیت تمام شہداء کی طرف سے سونپے گے مشن کو فراموش کر دیا۔ہماری اجتماعی حالت کی غمازی ہمارا 25 جولائی کا الیکشن کر رہا ہے۔کہاں وہ وقت کے اکیانوے سال پہلے ایک اجنبی مسلمان کی خاطر جانیں نچھاور کی جارہی ہیں اور کہاں یہ حالت کے اسمبلی جیسے فورم کے لئے بھی برادری ازم اور علاقہ پرستی کا خوب خوب استعمال ہو رہا ہے آزاد کشمیر کے کئی حلقوں میں اصل مقابلہ برادریوں کے درمیان بنا دیا گیا ہے اور سیاسی جماعتیں محض نمائشی رول تک محدود ہو گئی ہیں۔پہلے او اور پہلے پاو کی بنیاد پہ ضمیروں کی بولی لگی ہوئی ہے۔ضمیروں کے سودے ہو رہے ہیں۔جولائی کا مہینہ اور خاص کر تیرہ جولائی سے انیس جولائی تک کا عرصہ آزادکشمیر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔تیرہ جولائی یوم شہداء کشمیر ہے جبکہ 19 جولائی یوم الحاق پاکستان۔اس تناظر میں اگر آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت بالغ نظری کا مظاہرہ کرتئ تو اس ہفتے کو تحریک آزادئ کشمیر کی زبردست پروموشن کا ذریعہ بنایاجاسکتا تھا کیونکہ پاکستان کے بڑے قائدین تشریف لا رہے ہیں۔اس کی بجائے ان قائدین کے پسندیدہ مشغلے یعنی مخالفین کو رگڑا لگانے اور لتاڑنےکاکام لیا جا رہا ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ پاکستان کی تینوں بڑی جماعتوں کے قائدین درج ذیل سوالات کے جوابات دیں

اگست 2019 کے واقعے کے بعد آپکی جماعتوں نے کشمیریوں کے لئے کیا کیا؟

۔آپ کے پاس کشمیر کی ازادی کا کیا روڈ میپ ہے؟

ایک دوسرے کو چور اور کشمیر فروش کے گھسے پٹے الزامات باالکل قابل التفات نہیں تاریخ شاہد ہے کہاگست کے سانحے کے بعد صرف ایک جماعت  سڑکوں پہ نکلی اور وہ تھی جماعت اسلامی۔ باقی سب دبک گے تھے۔حکمران جماعت کی زمہ داریاں عملی تھیں وہ بھی ہندوستان کا بازو عملا پکڑنے کی بجائے صرف تقریریں کرتے اور ہفتہ وار ادھا گھنٹہ کھڑے ہوتے رہے کچھ عرصہ وزیراعظم نے جارحانہ تقاریر بھی کیں جنرل اسمبلی سے لیکر آزاد کشمیر اسمبلی تک لیکن پھر نہ مودی ہٹلر رہا نہ بی جے پی نازی پارٹی ۔زبانی باتوں کے علاوہ کچھ نہ کر سکے پیپلزپارٹی اور ن لیگ تو مکمل قومے میں رہیں اور مولانا فضل الرحمان صاحب نے کشمیر قضیہ کے عین عروج پر بے وقت اسلام اباد مارچ اور دھرنے کا اعلان کر کے میڈیا اور قوم کا رخ موڑ دیا اور اس طرح سول اور خاکی حکمرانوں کو دباو سے نکالا۔شاید یہی وجہ ہے ان کے بہت مضبوط امیدوار بھی پارٹی کے نام کی بجائے ازاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔پاکستان کے سیاسی رہنماوں میں سے جو تحریک آزادی کشمیر کا روڈ میپ نہیں دیتے وہ کشمیر کے بیٹے ہونے کے دعویدار ہوں کشمیر کے سفیر یا ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا نعرہ لگانے والے اس قابل نہیں کہ ان کے آگے ناچا جائے اور ان کے لئے زندہ باد اور اوے اوےکے نعرے لگائے جائیں

آزاد کشمیر سطع کے قائدین بھی سبھی پارٹیوں کے بتائیں کہ حالیہ خلاف میرٹ تقرریوں کے خلاف ان کاکیا کردار ہو گا۔نوجوانوں کو ان کے چھینے ہوے حقوق کیسے لوٹائیں گے۔ بلدیاتی الیکشن کب ہوں گے اور اس لطیفے کا کیا حل ہے کہ چالیس ارب روپے خرچ کرنے کے لئے ایک کھرب اٹھائیس ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔یوں شہداء کشمیر کا مشن ابھی تشنہ تکمیل ہے۔نہ آزادی ملی ہے نہ انصاف نہ برابری کے مواقع۔تیرہ جولائی اسی طرف توجہ دلانے کا موقع ہے کہ شہدا ءکے مشن کی تکمیل کی جائے۔ذاتی مفادات کی بجائے جملہ وسائل اور صلاحیتوں کو کشمیر کی ازادی کے لئے وقف کیا جائے۔آزاد کشمیر اسمبلی  میں مہاجرین کے نام پر بارہ نشستیں ختم کر کے حقیقی اور با اختیار اسمبلی کے ذریعے بیس کیمپ کی ایسی اسمبلی اور حکومت قائم کی جائے جو پوری ریاست کی ترجمانی کر سکے۔سڑک ٹوٹی کھمبے کے سارے کام بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے کیے جائیں۔یہی شہداء کشمیر کو حقیقی خراج تحسین ہو گا۔

Leave your comment !