August 8, 2022

اقبال اور کشمیر  تبصرہ جاوید خان

تبصرہ نگار : جاوید خان

                    کشمیر کی مٹی میں جادوئی تاثیر ہے۔ایک کشش ہے جو دُور دُور تک بکھرے ہوئے اپنے انگوں کو اپنی طرف کھینچتی  رہتی ہے۔اس مٹی سے کئی سادھو،سنت،رشی،منی لوگ،اولیا اور شاعر پیداہوئے۔غنی کاشمیری،حبہ خاتون،للہ عارفہ،میاں محمد بخش،سعادت حسین منٹو اور ڈاکٹر اقبال نمایاں نام ہیں۔آخری دو نام دنیا  علم وادب کے آسمان پر ایسے چمکے کے روشنی بڑھتی ہی جارہی ہے۔عجیب با ت یہ ہے یہ دونوں اپنی زندگی میں صرف ایک ایک بار کشمیر جاسکے۔مگر کشمیر ان کے جسم میں نہیں لہو کی طرح روح میں دوڑتا رہا۔

                    پروفیسر ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کشمیر میں،اقبال شناسی کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ ہیں۔شاید آزادکشمیر میں وہ پہلے اقبال شناس ہیں جنھوں نے اقبال کے کلام میں لفظ ’نارو ن‘کی غلطی کو پکڑا۔یہ ایک درخت کانام ہے۔جو کشمیر میں پایا جاتاہے۔ اصل نام ’ہارون‘ ہے۔کتاب ’اقبال اور خاک ارجمند‘۲۰۲۱؁ میں شائع ہوئی۔کشمیر میں اقبا ل شناسی کے تناظر میں یہ گراں قدر اضافہ ہے۔کتاب میں سات مقالے ہیں اور ۱۴۴ صفحات پر مشتمل ہے۔اختصار اور جامعیت کتاب کی بڑی خوبی ہے۔علاوہ روائتی محققانہ بوجھل پن سے دور سادہ اور عام فہم اسلوب،قاری کے لیے کوئی دقت پیدانہیں کرتا۔یہ کمال ہر محقق کے پاس نہیں ہوتا۔ڈاکٹر ظفر اور اقبال میں دو باتیں مشترک ہیں۔ اول وطن (کشمیر) کی محبت دوئم ملت اسلامیہ کے لیے تڑپ۔کتاب کے بعض پیروں کوپڑھتے ہوئے  مصنف محقق یاکوئی مقالہ نگار نہیں بل کہ بیانیائی اسلوب پر دسترس رکھنے والے کسی ناول کے کھتاکار لگتے ہیں۔اقبال کے سفر کشمیر کاذکر ایسے کرتے ہیں کہ سفراقبال کی آنکھوں دیکھی کہانی لفظوں میں قاری کو دکھنے لگتی ہے۔دکھانے کایہ فن کمال ہے۔’’ملکہ کوہسار مری کے دل فریب مناظر،کوہالہ سے مظفر آباد تک کنار جہلم سفر اور اس جوئے آب کااُچھلنا،سنبھلنا،سرکنا،لچکنا اور بل کھانا یقیناً اقبال کے لیے خوشی اور مسرت کاباعث ہواہو گا۔‘‘(صفحہ ۱۹)

                    صفحہ نمبر ۲۲ پر تیسرے پیرے کی آخری سطور میں جھیل ڈل اور برف سے ڈھکے پہاڑوں،ان کی دُنیا کی منظر کشی کی ہے اور لکھا ہے کہ اقبال نے ان سے لطف اٹھایا ہوگا۔ڈاکٹر صاحب ۲۰۰۸؁ء میں کشمیر گئے تھے۔انھوں نے جھیل ڈل کے پانیوں میں ڈھلکتے برف پوش پربتوں کو دیکھا اور تمنا کی کہ ’’مریے تو ڈل کنارے مزار ہو‘‘۔اقبال نے تقریباً ان سے ایک صدی قبل یہاں (کشمیر)کادَورہ کیا تھا۔تب حالات الگ تھے۔نہ یہ آبادی تھی،نہ آبادکار ،نہ دوڑتی کاریں نہ یہ سڑکیں۔نہ یہ گنجانی،نہ ہی بندوقوں کے پہرے اورنہ ہی بارود کی بُو۔پھر اندازہ کرنا مشکل ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اسے اقبال کی نظر سے دیکھا ہے کہ بے آبرو  ہوتے وطن کو اپنے دل کی آنکھ سے۔۔؟صفحہ نمبر ۳۳ پر آزادی کشمیر کامنزل مراد تک نہ پہنچنے کی وجوہات صرف دو سطروں میں سمیٹ دی ہیں۔’’تنظیمی فقدان،باہمی اعتماد کی کمی اور کسی متفقہ قیادت کی عدم دستیابی کے باعث یہ تحریک فیصلہ کُن مراحل میں داخل نہ ہوسکی۔‘‘

                    دوسرا مقالہ کشمیر میں اقبا ل شناسی کے نام سے ہے۔اس مقالے کو پڑھ کر لگتاہے کہ اگر اقبال کشمیر کے لیے تڑپتے رہے تو کشمیر بھی انھیں کبھی نہیں بھولا۔پیر پنجال کے اس طرف اگر دُنیا کی پہلی اقبال چیئر قائم کی جاچکی تھی۔تو اس طرف دھرتی کے فرزند ڈاکٹر ظفر حسین نے بے سروسامانی کے عالم میں اقبال شناسی کاپرچم تھام لیا۔حیرانی ہے کہ دنیا کی ساتویں اسلامی ایٹمی طاقت نے جس کادعوی ٰ ہی یہ ہے کہ وہ خواب اقبال کی تعبیر ہے۔وہاں فکر اقبال اور اقبال شناسی کا کام بس رٹائے جانے والے  چند مضامین تک ہی کیوں رک گیا۔۔۔؟پنجاب یونی ورسٹی نے اقبال چیئر اتنی دیر بعد کیوں قائم کی۔۔؟

                    مقالہ نمبر۲کے آخر میں دی گئی فہرست دیکھ کر مسرت ہوئی۔کہ سارے مقالات،تراجم،کتب،پروگرامات اور مواد جمع کیا جائے تو چھوٹی سی لائبریری وجود میں آسکتی ہے۔یہ ساراکام اقبال کے منقسم اور آبائی وطن کشمیر میں تخلیق ہوا۔

                    اقبال مملکت پاکستان کے قومی شاعر ہیں۔مگر جوکام ایک آزاد دیس اپنے قومی شاعر کے لیے نہ کر پایا وہاں ایک منقسم اور بارود سے جلتے وطن نے اپنے فرزند کے لیے بڑھ چڑھ کر کیا۔تیسرامقالہ صحت املا کلام اقبال پر ہے۔ اور  بال جبریل کی پہلی پانچ غزلوں کی تدوین نو کے نام سے ہے۔بہ قول ڈاکٹر خالد ندیم اس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔مگر صحت املا اور ترتیب کلام کے حوالے سے جو غلطیاں طباعت کے دوران اس وقت تک کی جاچکی ہیں۔وہ تدوین اور تحقیق کی سند پر سوالیہ نشان ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اس طرف خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔مصنف کے نزدیک بال جبریل کانسخہ ۱۹۳۵؁ء میں تاج کمپنی نے شائع کیا تھا۔اسے صحت مند نسخہ مانا جاسکتاہے۔اس نسخے کو اقبال نے اپنی نگرانی میں طبع کروایاتھا۔

                    صفحہ نمبر ۱۲۰ پر لکھتے ہیں۔’’جہان اقبالیات ہمہ جہت ہے۔اقبالیات کاذخیرہ کم وپیش دس شاخوں میں پھیلا ہوا ہے۔‘‘لکھتے ہیں ۲۰۰۸؁ء میں اقبال انسٹیٹوٹ سری نگر نے سرکاری سطح پر اشعار اقبال پر مشتمل دو لاکھ سے زاہد سٹیکرز چھپوا کر اس بے پناہ مفکر اور شاعر کے نور بصیرت کو عام کیا۔یہ اسٹیکرز گاڑیوں،رکشوں،درودیوار اور اقبال کے نئے شاہنوں کی کاپیوں اور کتابوں کی زینت بنے۔‘‘

                    صفحہ نمبر ۱۲۳ پر لکھا ’’شیخ عبداللہ اقبال کے عقیدت مندوں میں سے تھے۔ان کی اقبال سے خط وکتابت رہی۔‘‘اگرچہ شیخ صاحب پر وہ تنقید بھی کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو درست سمت دینے اور منزل مراد پر پہنچانے میں ناکام رہے۔اقبال سے کشمیر کی محبت اور کشمیریوں کااقبال سے قلبی لگاو کس درجے کاہے۔؟ایک سطر میں یوں بیان کیا ہے’’اقبال کے لیے ذکر کشمیر ایک محبوب کی حثیت رکھتاہے اور ایسے ہی کشمیریوں کے لیے اقبال ذکر محبوب کی حثیت رکھتاہے۔‘‘(صفحہ ۱۲۱)

                    مقالہ نمبر ۵ میں مصنف نے کھل کر جگن ناتھ آزاد سے بعض اَمور پر اختلاف کیا ہے۔اور مضبوط دلائل پیش کیے ہیں۔پانچویں مقالے کے آخر میں مصنف نے ’اقبال اور کشمیر‘ کے عنوان پر شائع ہونے والی کتابوں کاتنقیدی جائزہ لیاہے۔محققین کے لیے بالخصوص یہ مقالہ اہمیت کاحامل ہے۔آخری مقالے ’اقبال شخصیت اور فن چند تاثرات،اور ’اسرار خودی پر ایک نظر‘ کے عنوان سے ہیں۔مکتوبات اقبال میں ملی نشاۃ ثانیہ کے نقوش کے عنوان سے مضمون، اقبال کے ملی تصور پر کام کرنے والے طلباء کے لیے مکمل دستاویز ہے۔ہر مقالے اور مضمون کے آخر میں حوالہ جات کی فہرست موجود ہے۔جو ان مقالوں کی اسناد کے ساتھ ساتھ اقبال شناسی کے نئے طالب علموں کو اقبال پر ہوئے مستند کام تک بہ آسانی رسائی بھی مہیا کرتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ظفر حسین ظفر میرے استاد ہیں۔مادرعلمی حسین شہید کالج کی فضائوں میں قوم کے نوجوانوں کو تلاش کرکر کے اُن  کے ہاتھوں میں قلم تھمانے والے ڈاکٹر ظفر حسین ظفر کا کام اب ادب کے طلبا کے لیے راہیں آسان کرچکا ہے۔آزاد کشمیر میں جن اہل علم اور محقیقن کے اُردو کام پر مقالے لکھواے جاسکتے ہیں۔محمد کبیر خان اور ڈاکٹر ظفر حسین ان لوگوں میں سرفہرست ہیں۔ڈاکٹر صاحب آٹھ کتابیں تخلیق کرچکے ہیں۔کئی مقالات اور کام غیر مطبوعہ ہے۔ان کی زیر ادارت نکلنے والارسالہ ’ارقم‘ برصغیر بالخصوص کشمیر اور پاکستان میں اردو کے نمایاں ترین رسائل میں سے ایک ہے۔ کہا جاتاہے کہ کرشن چندر کے ایک دوست نے ان کی شادی کے موقع پر کہاتھا’’اگر کرشن چندر کچھ عرصہ اور شادی نہ کرتے تو اُردو ادب کو کچھ افسانے اور مل جاتے‘‘۔ہماری دعا ہے کہ مادر کشمیر اور اقبال کارومان ایسے ہی ڈاکٹر صاحب کے دل ودماغ پر سوار رہے۔تاکہ اُردو ادب میں ’وادی گل پوش‘ جیسے کسی مزید خوب صورت سفرنامے

اور جہت اقبال کے تناظر میں کسی نئی کاوش کاظہور ہو سکے۔

Leave your comment !

Close