July 5, 2022

یوم شہدائے جموں۔ انعام الحسن کاشمیری

انعام الحسن کاشمیری

        ہم اس طرح کی کوئی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں جب ہندوستان کی تقسیم کے وقت کسی بھی ایک خطے سے تعلق رکھنے والے اڑھائی لاکھ مسلمانوں نے پاکستان کی جانب ہجرت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کی ہوں۔ 6نومبر1947ء کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب سیالکوٹ کے پار صوبہ جموں سے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والے اڑھائی لاکھ سے زائد مسلمانوں کو،کسی قسم کی مزاحمت اورمداخلت کے بغیر گاجرمولی کی طرح  کاٹ کر یوں پھینک دیاگیاکہ ان کی نعشوں کودفنانے والا بھی کوئی نہیں تھا اورنہ کفن دینے اورجنازہ پڑھنے والا……آہیں اور سسکیاں‘ غموں اورچیخوں تلے دب گئیں۔ لاکھوں وجود زمین پر یوں ڈھیر ہوئے کہ کسی کاسرسلامت نہیں اورکسی کادھڑ، کسی کا بازو نہیں اورکسی کی ٹانگ۔جسم کاہرانگ اورہر انگ کا ہرعضو ظالموں و قاہروں اورچنگیزیوں کی ظلمت و جبریت کا گہراثبوت پیش کرتاتھا۔ کشمیر کے صوبہ جموں کے یہ اڑھائی لاکھ لوگ جب ایک دن پیشتر اپنے گھروں سے اس امید پر نکلے تھے کہ ایک ادھ دن بعد وہ بحفاظت اپنی منزل پاکستان پہنچ جائیں گئے تو ان کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجائے گاجو ہندوستان کے طول وعرض سے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے والوں کے ساتھ روارکھاگیاتھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ بھارت کے شہروں اور دیہاتوں میں مقیم مسلمانوں‘ سڑکوں پررواں قافلوں اورریلوں کے مسافروں کوالگ الگ سیکڑوں اورہزاروں کی تعداد میں تہہ تیغ کیا گیا اور ہزاروں جگہوں پر بکھری ہوئی ان کی مجموعی تعدادلاکھوں تک پہنچ گئی تھی لیکن جموں کے مسلمانوں کا جو قافلہ ایک ہی دن میں جس شقاوت قلبی کی بھینٹ چڑھاوہ اڑھائی لاکھ نفوس پر مشتمل تھا۔
        جب ہندوستان کابٹوارہ ہوا اور یہ خطہ دو آزادمملکتوں میں تقسیم ہوا تو بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری شروع ہوئی۔ یہ قتل و غارت اور ظلم وتشدد اور آتش زنی کے سار ے واقعات وحادثات ہندواور سکھ جتھوں، کالی دل، راشٹریہ سیوک سنگھ اور آل انڈیا نیشنل کانگریس کے مسلح گروہوں اور انتہاپسندوں کے ہاتھوں انجام پذیر ہوئے اور نتیجے میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ ایسے موقع پر البتہ دونوں ممالک کی فوجیں، جن کی تقسیم کا مرحلہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں پایاتھا، دونوں حصوں میں ہجرت کرنیو الوں کو مکمل طور پر اپنی حفاظت میں لیتے ہوئے آر پار چھوڑ رہی تھیں، لیکن ایک خطہ ایسا بھی تھا جہاں فوجیوں اور دیگر انتہاپسندوں نے حکومت کی ایماء پر ایسے بے ضرور اور معصوم عوام کا لاکھوں کی تعداد میں قتل عام کیا جو مکمل طور پر نہتے تھے اور اپنی وراثتی زمینوں اور آبائی گھروں کو چھوڑ چھاڑ کر محض تن کے کپڑوں، اور بیوی بچوں کے ہمراہ اپنی آخری منزلِ مقصود کی جانب ہجرت کرنے کیلئے سرکاری طور پر مہیا کی گئی لاریوں میں سفر کررہے تھے۔ یہ ریاست جموں وکشمیر کے ہندواکثریتی صوبہ جموں کے وہ بے گناہ اور مظلوم لو گ تھے، جو اگرچہ پہلے اقدام کے طور پر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد میں شریکِ کار تھے لیکن بعد ازاں جب ڈوگرہ فوج اور مہاراجہ ہری سنگھ کی دعوت پر ہندوستانی پنجاب سے سکھ ریاستوں کے مسلح جتھے، ہندووسکھ انتہاپسندوں اور دیگر دہشت گردوں نے جموں پہنچ کر مسلمانوں پر عرصہ ئ حیات تنگ کردیا اور ان کی آبادیوں میں آگ لگانے کا عمل شروع کیا تو سرکاری سطح پر اعلان کیا گیا کہ جو لوگ پاکستان کی جانب ہجرت کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک جگہ جمع ہوجائیں۔

غلام فاطمہ نومبر 1947 : حامد میر کی نانی تھیں


        ڈوگرہ راج اوربالخصوص مہاراجہ ہری سنگھ کشمیری مسلمانوں کے ان جذبات سے غافل نہیں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے فی الوقت کوئی قدم نہیں اٹھایاتو آنے والاکل اس کے اقتدارکے سورج کے غروب ہونے کادن ہوگاچنانچہ اس نے نہایت ہوشیاری سے اپنی فوج کوحکم دیاکہ وہ مسلمانوں سے ہرقسم کا ہتھیارضبط کرلے خواہ اس کاتعلق فوج یاپولیس سے ہویاوہ کوئی عام شہری ہو۔ اس فیصلے نے مسلمانوں کو بھڑکادیا۔ وہ یہ سمجھ گئے کہ مہاراجہ چالاکی سے ان کے ہتھیار حاصل کرناچاہتاہے تاکہ وہ کسی قسم کی بغاوت یاسرکشی نہ کرسکیں حالانکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کو اس امرکایقین دلایاتھاکہ کشمیر کے مستقبل کافیصلہ کشمیریوں کی رائے کے مطابق کیاجائے گااورظاہرہے کشمیرمیں اکثریت مسلمانوں کی تھی اس لئے قانونِ تقسیمِ ہند کی روسے یہ یقینی تھاکہ کشمیرکاالحاق پاکستا ن کے ساتھ ہی ہوگا۔بعد میں جب کشمیریوں نے جہادکاعلم بلندکیااورآزادکشمیر کا علاقہ بشمول گلگت و بلتستان آزادکروالیاتومہاراجہ سری نگرسے بھاگ کرجموں چلاگیا۔ڈوگرہ فوج کی بڑی تعدادجموں میں موجود تھی۔ جموں کے مسلمانوں کو خطرہ تھاکہ یہ فوج ان کاقتلِ عام کریگی لیکن حیرت انگیزطورپر حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیاکہ جومسلمان پاکستان کی جانب ہجرت کرناچاہتے ہیں وہ کھلے میدان میں جمع ہوجائیں تاکہ انہیں فوج کی گاڑیوں پر بحفاظت پاکستان پہنچایاجاسکے۔


        یہ ڈوگرہ حکومت کی ایک چال تھی جس کا مقصد مسلمانوں کوشہرسے نکال کر کسی ویران اورسنسان جگہ پر لے جاکرانہیں ابدی نیندسلاناتھا لیکن پاکستان کی محبت سے سرشار جموں کے مسلمان ڈوگرہ فوج کی چالوں کو نہ سمجھ سکے۔  چنانچہ وہ ضروری سامان کے ہمراہ اپنے گھروں سے نکلے اورشہرکے وسط میں واقع ایک بڑے میدان میں جمع ہوگئے جہاں سے انہیں لاریوں میں پاکستان لے جایاجاناتھا۔ وقفے وقفے سے مسلمانوں سے بھری لاریوں کے قافلے یہاں سے نکلتے اورپاکستا ن کی جانب روانہ ہوجاتے۔ میدان دھیرے دھیرے خالی ہونے لگا۔ہرچہرہ پرسکون تھاکہ وہ کچھ دیربعد ہی اپنی منزل مقصود پرہونگے۔ اس منزل پرجس تک پہنچنے کا خواب وہ گزشتہ ایک دھائی سے دیکھ رہے تھے اورجس خواب کے شرمندہئ تعبیرہونے کیلئے انہوں نے بھرپورجدوجہد کی تھی لیکن وہ سب اس بات سے یکسرلاعلم تھے کہ ان کے چہروں پر اطمینان کی یہ جھلک جلد ہی موت کے کرب میں مبتلاہونے والی ہے ……ایک اذیت ناک موت کے کرب میں۔یہ قافلے وقفوں وقفوں سے جب شہرسے کچھ دور ویران و سنسان جگہ پر پہنچتے رہے تو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ان پر ڈوگرہ فوجیوں اورہندواورسکھ انتہاپسندوں کی جانب سے بھرپورفائرنگ کی جاتی ۔ اگرکوئی فائرسے بچ گیاتواسے نیزے اوربھالے سے موت کے گھاٹ اتاردیاجاتا۔ کوئی بھی شخص ایسانہیں بچاتھاجوکسی طرح پیچھے شہر میں پہنچ کر اپنے باقی ساتھیوں کو اس خونیں واقعہ کی اطلاع دیتاچنانچہ6نومبرکی شام تک اڑھائی لاکھ مسلمان ابدی نیندسوگئے۔ منصوبہ بندی اس انداز میں کی گئی تھی کہ کئی روز تک اس سانحہ کی اطلاع شہر میں نہیں پہنچ پائی اورجب شہروالوں کو پتاچلا توایک کہرام مچ گیالیکن تب تک شہر میں بہت کم مسلمان باقی بچے تھے جو سوائے آہ و فغاں کرنے کے اورکچھ نہیں کرسکتے تھے۔ اس واقعہ کی یاد میں اورجموں کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے دنیابھر میں مقیم کشمیری ہرسال چھ نومبرکویومِ شہدائے جموں اس عزم اورارادے کے ساتھ مناتے ہیں کہ ان شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی آخری کشمیری تک اورآخری کشمیری کے آخری قطرہ ئ خون تک جاری رہے گی۔ایک روز آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگااوروہ ارضِ پاک جہاں ان اڑھائی لاکھ شہداء نے قربانی دی‘ وہاں پر آزادی کاپرچم ضروربلندہوکررہے گا۔یہ کسی بھی ایک علاقے سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے پاکستان کی محبت میں دی جانے والی سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس دن کی یاد صرف کشمیریوں کے دلوں میں ہی آباد رہنا لازم نہیں، بلکہ خود اہلیانِ پاکستان کو بھی اس کا بھرپور ادراک ہوناچاہیے کہ کون لوگ اس وطن کی محبت سے سرشاری کی بھینٹ چڑھ گئے۔
         تحریک آزادی ئ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھی کشمیری نوجوان اور بچے اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سبز ہلالی پرچم ہاتھوں میں تھامے اپنی منزل کا بخوبی اظہار کررہے ہیں۔ وہ پاکستان کاقومی پرچم تھامے سینوں پر گولیاں کھاتے ہوئے زبان سے الحاق پاکستان کا نعرہ ہی بلند کررہے ہیں۔  صرف وہی نہیں، آج تہتر برس بعد بھی کشمیری اِسی ارض پاک سے محبت وعقیدت کی نئی مثالیں قائم کررہے ہیں۔ اب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ہاتھوں سے قلم اور کتاب چھوڑ کر بندوق تھامتے ہوئے بھارتی فوج کے سامنے سینہ سپر ہوچکے ہیں۔ کشمیریوں کی یہ قربانی درحقیقت تکمیلِ پاکستان کی جدوجہد ہے۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی جدوجہد میں ہر سطح پر ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا بھرپور اعادہ کیے ہوئے ہے۔ ٭

photo Daily Excelsior /فو ٹو بشکریہ حامد میر

Leave your comment !

Close