آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے گاؤں گلہ پانیالی میں پیدائش ہوئی۔پروفیسر عبدالعلیم صدیقی مرحوم کی سرپرستی میں شعر و ادب کی طرف راغب ہوئی اور باقاعدہ اصلاع لی۔ محمد جمیل اختر سے جمیل اختر جمیل ہونے میں ڈاکٹر ماجد محمود،ضیا الرحمان ضیا،سہراب کاوش اور آصف اسحاق کا ساتھ میسر رہا۔جمیل اختر جمیل لکھنے کے ساتھ ساتھ ترنم کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔بزم ِ فکر و سخن کے باقاعدہ رکن جمیل اختر جمیل شاعری میں بالخصوص رباعی اور غزل میں شہرت رکھتے ہیں۔آپ نے پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے فلسفے کی تعلیم حاصل کی اور۲۰۰۹ء میں پیشہ پیغمبری تدریس سے جُڑ گئے۔ جمیل اختر جمیل کا ایک شعر بہت مشہور ہوا جو آپ کی غزل کا مقطع ہے۔

منتظر ہیں جمیلؔ برسوں سے

آنے والوں کو کیا ہوا جانے

اس کے علاوہ آپ کی شاعری سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

افسانہٗ ہستی ہے فقط غم کی کہانی

قصہ یہ گل تر کا ہے شبنم کی زبانی

نم چشمِ تمنا تو جلے آگ سی دل میں

پانی میں یہاں آگ ہے اور آگ میں پانی

٭٭٭

سہتا ہے ستم لاکھ تو کرتا ہے گلہ

مفلس کہ ہر اک بات میں ہوتا ہے گلہ

شکوے کے سوا اور کرے بات ہی کیا

کم زور کا ہتھیار جو ٹھہرا ہے گِلہ