تحریر : عطرت بتول نقوی
‎پریس فار پیس فاؤنڈیشن نے محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ کی سائنسی ادب کے حوالے سے خدمات  ، نوجوانوں کو سائنس وٹیکنالوجی کے حوالے سے آ گاہی دینے ،ماحولیات کے حوالے سے شعور دینے کے سلسلے میں مقالہ نگاری کا ایک مقابلہ کروایا تھا -یہ ایک مفید مقابلہ تھا کیونکہ ان پر کچھ لکھنے کے لئے ان کی پندرہ کتابوں کا مطالعہ ضروری تھا اور ان کے کام پر گہرائی سے ریسرچ ضروری تھی اور اس ریسرچ کے دوران میری معلومات میں اضا فہ ہوا- ان کی کچھ کتب میں نے مصروفیات کی وجہ سے سر سری پڑھی تھیں لیکن ریسرچ کے دوران میں نے گہرائی سے مطالعہ کیا تو علم میں اضافہ ہوا ، مجھے ان کی کتاب ، لے سانس بھی آہستہ ، بہت پسند آ ئی ، اس میں اگرچہ سائنسی مضامین ہیں لیکن بے حد دلچسپ پیرائے میں ہیں اور ادبی چاشنی سے مزین ہیں اور بہت مفید موضوعات پر ہیں ، اس مقابلے کے لیے پریس فار پیس فاؤنڈیشن مبارک باد کی مستحق ہے ایسے علمی اور ادبی کام کرنے والے معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا باعث بنتے ہیں ،
اس طرح نہ صرف تسنیم صاحبہ کا کام منظر عام پر آیا بلکہ ادیبوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ان موضوعات کی اہمیت معلوم ہوئی جو وقت کی اہم ضرورت ہیں جن کے لیے ہر خاص و عام کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کریں اور بچوں اور نوجوانوں کو نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق سائنس وٹیکنالوجی کی اہمیت سے آ گاہ کریں ، پریس فار پیس فاؤنڈیشن نے اس مقابلے کے لیے بہت اچھی ادیبہ کا چناؤ کیا جس پر لکھنے سے لکھنے والوں نے کچھ سیکھا –

‎پریس فار پیس فاؤنڈیشن کا ھیڈ آ فس اگرچہ لندن میں ہے لیکن اس فاؤنڈیشن کے بانی ظفر اقبال صاحب نے ایک بہترین ٹیم تیار کی ہے اور اسی ٹیم ورک کی وجہ سے ایوارڈ تقریب بہت اچھی ہوئی ، اگرچہ میں بچوں کے ادب پر کام کرتی ہوں لیکن میری پہلی دلچسپی اور شوق مضمون نگاری ہے میں قرۃ العین حیدر پر ، احمد ندیم قاسمی پر ، ابنِ انشاء جیسی شخصیات پر لکھ چکی ہوں جو ، جنگ ، اور ، فنون ، میں شائع ہو چکے ہیں اور اب تسنیم جعفری پر لکھنا بہت اچھا لگا ، شکریہ پریس فار پیس فاؤنڈیشن میرے مضمون کو پسند کرنے اور ایوارڈ سے نوازنے پر –

Leave your comment !