عشق دمِ جبریل پروفیسرشفیق راجہ کی عشق میں ڈوبی ہوئی تخلیق ہے۔

پروفیسر شفیق راجہ ایک عہد کا نام ہے جنہوں نے جہاں ایک طرف خطہ باغ میں شعر و ادب کی آبیاری کی اور “طلوع ادب آزاد کشمیر” کے نام سے ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی جو آج ایک تناور درخت بن کر اپنی بہاریں دکھا رہی ہے وہیں اس ادبی ورثے کی شناخت اورپرداخت کے لیے آزاد کشمیر کے طول و عرض میں جس جانفشانی سے دن رات ایک کیے اسکا منہ بولتا ثبوت آج ریاست بھر کا وہ ادبی منظر نامہ ہے جس میں طلوع ادب اور پروفیسر شفیق راجہ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا.

کتابیں

میں حرف حرف سمیٹوں، نعت کا سفر، عشق دمِ جبرئیل، لفظ کا کاجل اور کدل