تحریر : ش م احمد 

  بھارت میں کرونا کی تیسری لہر لرزہ خیز قیامتیں مسلسل ڈھائے  چلی جارہی ہیں اور بلاروک ٹوک لوگوں کو اپنالقمہ ٔ  تر بنا رہی ہیں ۔  موت کی یہ سونامی ایک ایسے وقت آئی جب دنیا میں کم وبیش کرونا کی بھڑاس کم ہورہی ہے، بلکہ اسرائیل سمیت بعض ممالک میں ماسک، لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹنسنگ جیسی کووڈاصطلاحیں قصہ ٔپارینہ ہوچکی ہیں ۔

 ا س وقت ہندوستان امریکہ اور برازیل   کو اپنے پیچھے چھوڑ رہاہے ، ان کے یہاںوبا ئی قہر مانیوں کے جوریکار ڈ بنے تھے وہ انڈیاکے طول وعرض میں دھڑلے سے ٹوٹ رہے ہیں اوربلائے آسمانی ہلاکت خیزیوں ، بے پناہ تباہیوں اور بھیانک انسانی المیوں کی ناقابل ِبیان کہانیاں رقم کئے جار ہی ہے۔  تاریخ کےاس انسانی المیے کو کس کی کوتاہ بینی اور کم کوشی نے یہاں قدم جمانے کا آسان موقع دیا، بھلے ہی ا س سوال پر نیشنل میڈیا چپ سادھے ہوئے ہو مگر عالمی میڈیا ہندوستان کو کرونا کا 

chief spreader کے نام سے یاد کر نے سے نہیں چوکتا ۔ وزیراعظم مودی پر اس غفلت کے حوالے سے چوٹیں تنقیدیں ہو رہی ہیں۔

 ستم ظریفی یہ کہ وسط اپریل تک وبا ئی صورت حال اس قدر قابو میں آئی تھی کہ یومیہ معاملات چند ہزارتک محدود ہوتے اور اموات کی شرح بھی قابل اعتنا حد تک گر گئی تھی۔ بنا بریں ماہ ِفروری میںوزیراعظم نے سینہ تان کر اُن ماہرین کا ایک تقریر میں میں  مضحکہ اُڑایا جو مودی کے بقول ’’ بھوش وانی‘‘ کر چکے تھے کہ امسال اپریل میں بھارت کے اندر مہاماری کی سونامی آئے گی ۔ بہرصورت  اس خیال وقیاس سے کہ سب چنگا ہے، مرکزی حکومت کھمبہ کرن کی نیند میں خراٹے مارتی رہی ۔ بے نیازی کا عالم یہ رہاکہ اس سال اپریل میں کھمبہ میلہ میں تقریباً ساڑھے اَڑتا لیس لاکھ ہندوؤں نے کووڈ کے ایس اوپیز کی دھجیاں بکھیر کر گنگا نہایا۔اُتراکھنڈ کے بھاجپاوزیر اعلیٰ نے گنگا میں ڈبکیاں مارنے والے شردھالوؤں کو’’ گنگا میاکے آشیرواد ‘‘ سے کووڈ سے بچ جانے کی جملہ بازیاں تک کیں ، اسی دوران پانچ صوبوں بالخصوص بنگال اور آسام میں بھاجپا ،  ترنمول کا نگریس ، انڈین نیشنل کانگریس ، کمیونسٹوں نےالیکشن ریلیوں کی بھرمار کر کے عالمی وبا کا غصہ مزید بھڑکا نےکا کام کیا،  خودوزیراعظم نے گجرات اور ممبئی کے سیلانیوں کو جوق درجوق کشمیر میں ڈل کنارے گل ِلالہ ( ٹیولپ گارڈن) سے حظ اُٹھانے کی ترغیب دلائی تاکہ کشمیر میں نارملسی کی بانسری کا انتخابی فائدہ ہو حاصل کیا جاسکے ۔ بھارت کے سیاح لشکر در لشکر واردِ کشمیر ہوئے تو اپنے ساتھ کووڈ کی تیسری لہر کا تحفہ لانا کیونکر بھولتے۔ چنانچہ اس وقت جموں و کشمیر دوبارہ کرونا کی لپیٹ میں آکر اب روزانہ تین ہزار کیسز کا آنکھڑاچھو نے جارہاہے۔ سوشل میڈیا کے مانیں تو وادی کے بیش تر ہسپتالوں میں آکسیجن وغیرہ کی سپلائی پوزیشن معقول نہیں کہلاسکتی ، موتیں بڑھ رہی ہیں ، لاک ڈاؤن اور کرونا کرفیو کا نفاذ بھی ہورہا ہے

 ان تمام تندو تلخ حقائق کی روشنی میں سچ پوچھئے تو وبا لگتا ہے جیسے گھات میں بیٹھا تھا کہ کب حکومتی اکابرین غافل اور عوام مست مولا بن جائیںتو یہ کروٹ بدل کر زخمی شیر کی طرح جس کسی کو دیکھے اس پر جھپٹ پڑے ۔ حتیٰ کووڈ کی نہیں بلکہ ہماری ہے کہ ہم نے تیسری لہر کو مارچ ۲۰ ۲۰کی طرح ہمیں سو تے میں جکڑنے کا موقع دیا۔اس وقت ہم کیا کررہے تھے، ایک طرف ہم نمستے ٹرمپ کا جشن منارہے تھے ، دوسری طرف شاہین باغ کا انتقام دلی میں جعفر آباد اور گردونواح کے مسلمانوں کو آگ اور خون لتھڑ کر لے رہے تھے ۔اُس دنوں بھی مرکزی وزیرصحت داکٹر ہرش وردھن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی چیتاؤنی کہ کووڈ عالمی وبا کی صورت میں پھوٹ چکاہے، نکارکر فرماگئے کہ کوئی وبا شبا نہیں ہے ۔ یہ بیان تاریخ کے ریکارڈمیں درج ہے۔

  چونکہ ہمارے پاس گزشتہ سال کا کافی تلخ تجربہ تھا ، اس لئے جاگتے رہنے کی معقول دلائل سے ہم آنکھیں موند نہیں سکتے تھے، مگر شاید ہم نے کرونا کو بھی اپنا ووٹرسمجھ کر اس کا منہ جملہ بازی سے بند کر ناچاہا۔ یہ کہاں ماننے والاتھا ، ہم پر چڑھ دوڑا۔امروقع یہ ہے کہ سرکاری سطح پر کووڈ کی تیسری لہر کی کوئی پیش بینی کی گئی تھی نہ کوئی تیاری ۔ نتیجہ یہ کہ عالمی وبا ہم پر بُری طرح حملہ آور ہوکر ہمارے وجود کو نگل رہا ہے۔ ا س کی قیامتیں کی رواں تصویر ہمارے تصورات سے کئی زیادہ انتہائی خوف ناک ہے۔ یہ تصویر دہشت کا ایک ایسا ڈراؤنامرقع ہمارے سامنے لا تی ہے کہ اس سے خود بچنے اور اپنے پیاروں کو بچانے کی تدبیریں سوچ کر بھی مشکل سے اس کی گرفت میں آنے سے بچا جاسکتاہے ۔ ظلم بالائے ظلم یہ کہ شاید ہی کو ئی ماہر طب بتا سکتا کہ مہلک وبا جو دردانگیزتصویر بنانے کامن بناچکی ہے ،اس میں  ابھی اورکتنے نئے المیوں ، اضطرابوں اور خون آلودہ انسوؤں کا رنگ بھر نا باقی ہے، موت بانٹنے والاوائرس ابھی کتنے لاکھ لوگوں کو اُچک لے کر دم لے گا، کتنے گھرانوں اور کنبوں کو اُجاڑکر ا سکا من بھرے گا ، کتنی زندگیوں کو دُکھ ، مصائب اور تکلیفوں کی نذر کر نے پر اسے تسلی ہوگی۔

جب ہم سردست کورونا معاملوں کے سرکاری اعددوشمار ( ان کے ثقہ ہونے پر بھی شک وشبہ کا اظہار کیا جارہاہے ، بتایا جاتاہے کہ اموات کی شرح بوجوہ حد درجہ گھٹا کر پیش کی جارہی ہے تاکہ مہاماری کو روکنے میں ناکام ہوئیں اونچی شخصیات کے گریبان  پر کسی کا ہاتھ نہ پڑے) پرنگاہ ڈالتےہیں تو دل بیٹھ جاتا ہے ، سرچکراتا ہے۔ کیوں نہ ہوجب ملک میں روزانہ اب چار لاکھ کے قریب کیسز رپورٹ ہورہے ہوں ، اموات کی شرح برق رفتاری کےساتھ رُوبہ اضافہ ہو رہا ہو، آکسیجن سمیت وائرس سے نمٹنے کی ادویات کا کہیں مصنوعی کہیں حقیقی کال پڑا ہو ، لوگ پلازما کی تلاش میںدربدر بھٹک رہے ہوں ، تمام ہسپتال نیم مردہ مریضوں سے سر تاپا بھرے پڑے ہوں ، نئے مریضوں کے لئے موت ملنی آسان ہو مگر بیڈ، آکسیجن اور متعلقہ طبی سہولیات ملنا دشوار سے دشوار ترہو رہاہو ،تو دل دہلادینے والی اس قیامت پر  ع

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے          

    کورونا سونامی پر عالمی برادری بھارت کی بدنصیبی کی خاموش تماشائی نہیںبنی ہوئی ہے بلکہ اس کی طرف سے جہاں فضائی رابطے منقطع کئے جارہے ہیں ،وہیں قوموں اور ملکوں سے انسان دوستانہ پیغاماتآرہے ہیں اور دلاسے مل مرہے ہیں جو ہم سب کے لئے حوصلہ افزا ہیں ۔ان سے یہ چیز باور ہوتی ہے کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اقوام متحدہ سے لے کر امریکہ ، برطانیہ ، پاکستان ،سعودی عرب، متحدہ عرب امارت تک دنیا بھر میں بھارت میں کووڈ کی نئی ڈراؤ نی لہر چرچے میں ہے ، متاترہ عوام سے مشکل اور دُکھ کی گھڑی میں سکون پرور اظہار ِ یکجہتی کیا جارہاہے، مریضوں کے تئیںہمدردی اور اپنائیت کے بول بولے جارہے ہیں ، نیک خواہشات اور دعائیں دی جارہی ہیں ۔ البتہ سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے ملک ہندوستان (جس کی حکومتی قیادت ’’آتم نر بھر ، وشوگرو ‘‘ کہلانے کی شیخیاں بگھارنے سے نہیں تھکتی ) کا صحت عامہ کیا کوئی مکڑے کا جالہ تھا کہ پلک جھپکتے ہی سارے کا ساراتار تار ہوکررہا ؟ کیا سینہ تانے آکسیجن اور کووڈ ویکسین دوسرے دیسوں کوبرآمد کر نے والاملک اپنی ضرورتوں سے اتنا غافل و بے خبر تھا کہ اب خود پر اُفتاد آگئی تو جھولی پھیلائے منتظر کر م  ہے ؟ پرائم منسٹر مودی کو امریکی صدرجوبائیڈن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے اُمید افزا دلاسے اور ضروری طبی ساز وسامان کے وعدے دئے جارہے ہیں ، پاکستان کے وزیراعظم اور وزیرخارجہ بھی بھارتی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا پیغام دے چکے ہیں ، ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان نے حکومت ِہند کو آکسیجن اور دیگر ضروری طبی آپریٹس سے لیس پچاس میڈیکل ایمبولنس براستہ واہگہ بھجوانے کی پیش کش کی، سعودی عرب اور یو اے ای سے آکسیجن اور ضروری ادویات کی عطیاتی سپلائی ملک کو موصول ہورہی ہے۔ بایں ہمہ یہ حقیقت نظر انداز کر نے کی بھول نہیں کی جاسکتی کہ مہاماری سے جھوج رہا ایک سو پنتیس کروڑ انسانی نفوس پر مشتمل دیس پورے کا پورا عملاً اللہ کے رحم وکرم پر ہے۔ مہاراشٹر، دلی ، اُترپردیش، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں کووڈ۔ ۱۹ کی نئی قسط خود وزیراعظم نریندرمودی کے الفاظ میں

’’ طوفان‘‘ ہے جس نے’’ وشوگرو‘‘ کو ہلاکر رکھ دیا ۔ بڑھتے ہوئے کووڈ کیسزکے چلتے چہار سُو ہاہاکار مچی ہوئی ہے ، آپادھاپی کا عالم ہے، نفسانفسی کا دور ہے ، بد انتظامیاں عروج پر ہیں،حکمران اور نیتا   کہیں دکھائی نہیں دیتے ہیں، بے یار ومددگار لوگوں کی آہ وبکا ہر جانب سنی جارہی ہے، شفاخانے نئے مریضوں کو کھپانے میںکم پڑرہے ہیں، مریض سرراہ کھلے آسمان کے نیچے ایڑیاں رگڑ کر مر نے پر مجبور ہو رہے ہیں ، دوائیاں یا تو بازاروں سے غائب ہیں یا کالا بازاری کی بھینٹ چڑھ کر انسانیت کا منہ نوچ رہی ہیں، ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید ترین قلت سے مریض گھٹن سےرام نام ہورہےہیں ، شمشان گھاٹوں میں اپنے مرے ہوئے پیاروں کی چتائیں جلوانے کے لئے غم سے نڈھال سو گواروں کی لمبی قطاریں اور طویل انتظار کی مار بھی بہت ظالم ثابت ہو ر ہی ہے ، مر ے ہوؤں کا دا سنسکار کر نے کے لئے درکار لکڑی کی قیمتیں ہی نہیں بڑھاجا چکی ہیں بلکہ ان کی عدم دستیابی سے لوگوں کے کلیجے منہ کو آرہے ہیں ، قبرستان ہاؤس فل ہوچکے ہیں کہ عام آدمی سمجھ نہیں پاتا کہ اپنے عزیز کی بے گوروکفن میت کو سپردِخاک کر نے مریخ پر جائے یا زمین پر منتظر فردارہے ۔ غرض متاثرین کے پاس سوائے آہوں اور آنسوؤں کے اور کچھ نہیں بچاہے ۔ ایسے میں مریض دھڑ ادھڑ مر رہے ہیں کہ موت کا تانڈو بر ابر جاری ہے ۔ اگر ماہرین کی مانیں تو مئی کے پہلے دو ہفتوں کے دوران بھی قہر خدا وندی کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے ۔ سوچئے تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ اگراللہ نے بر وقت رحم نہ فرما یااور آدم خور وائرس کابے قابو جن نہ رُکا تو اس دیس کی کیا دُرگت ہوگی؟ اللہ سب کے حال پر رحم فرمائے۔

         یہاں پر ایک لمحہ کے لئے رُکئے اور گزشتہ سال پر ایک اُچکتی نگاہ دوڑایئے جب کرونا کی پہلی لہر عروج پر تھی اور ہندی ہارٹ لینڈ میں مر کز نظام الدین دلی کی بنگلے والی مسجد میں لاک ڈاؤن میں پھنسے تبلیغیوں کی کردارکشیاں کر نے میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے جارہے تھے، مختلف عنوانوں سے غریب مسلمانوں کا جنیا محال کیا جارہاتھا،مسلم کمیونٹی کے خلاف ہندتو وادیوں اور گودی میڈیا نے مل کر علانیہ جنگ ہورہی تھی مگر آج کی تاریخ میں اسلام کا حُسن دیکھئے کہ مسلمان اپنےوہ تمام ہرے زخم فراموش کر کے بشمول دارلعلوم دیوبند جگہ جگہ اپنی جامع مساجد کو رضاکارانہ طور کووڈ مریضوں کے لئے طبی مراکز میں بدل رہے ہیں تاکہ انسانیت کی خدمت وتکریم ہو۔ یہ غریب لوگ کسی پی ایم کئیر فنڈ سے نہیں بلکہ اپنی ٹوٹی پھوٹی جیب سے پیسہ نکال کر انجان مریضوں میں بلا تمیز مذہب وملت مفت آکسیجن سلنڈر بانٹ رہے ہیں ، غیر مسلموں کی ارتھیاں اٹھاکر اُن کی چتائیں جلارہے ہیں ، متاثرہ لوگوں کی شبانہ روز مختلف النوع خدمات کر کے اُن میں جینے کی ڈوبی ہوئی آس کو واپس لوٹاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں کسی شاعر نے سعودی عرب سے آکسیجن کی امدادی کھیپ پر بر جستہ کہا ، ملاحظہ ہو  ؎                                                          

 اپنے بھارت میں مدینے کی ہوا آئی ہے

 آکسیجن نہیں آئی ہے شفا آئی ہے

 اَندھ بھکتوں کو سن کے یہی حیا آئی ہے

 ہندوالوں پر سعودی کو دَیا آئی  ہے

وہ جو اسلام کو بدنام کیا کر تے تھے

ان کی خاطر ہی یہ سوغاتِ وفا آئی ہے 

 جس کی ہر بوند میں ہے نام ِ خدا کی رونق

 آکسیجن لئےمکے سے سواآ ئی ہے

سانس لیتے رہیں اور بھی جینا ہے تمہیں

 شہرِ اقدس سے یہاں ایسی عطا آئی ہے

 کمبھ کے میلے سے جو آیا کرونا کا مریض

 اس سے کہہ دو کہ مدینہ سے دواآئی ہے

 نفرتیں بانٹنے والوں کے لئے بھی اظہرؔ 

 آبِ ِزمزم میں نہاکر ہوا آئی ہے